8.2 C
Islamabad
منگل, جنوری 25, 2022

بر صغیر پاک و ہند کے چوری شدہ نوادرات واپس لانے کی دشوار جنگ

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

نو آبادیاتی دور میں غیر منقسم ہندوستان سے چوری کی گئی کئی نوادرات اِس وقت برطانیہ میں موجود ہیں۔

سلطنتِ برطانیہ اپنے زمانے کی سب سے بڑی نو آبادیاتی قوت تھی اور ہندوستان "تاجِ برطانیہ میں جڑا نگینہ” تصور کیا جاتا تھا۔ اس دور میں برطانیہ نے جو نوادرات یہاں سے حاصل کیں، چرائیں، ضبط کیں یا "تحفتاً” وصول کیں، ان میں 105.6 قیراط کا ہیرا کوہِ نور بھی شامل ہے جو آج ملکہ برطانیہ کے تاج کا حصہ ہے۔ اس کےعلاوہ مشرقی بھارت کی امراوتی یادگار کی بدھ زیارت گاہ اور ٹیپو سلطان کا لکڑی کا بنا شیر بھی شامل ہیں۔

‏’ڈوئچے ویلے’ کی ایک رپورٹ کے مطابق آج یہ نوادرات برٹش میوزیم، پٹ ریورز میوزیم اور وکٹوریا اینڈ البرٹ میوزیم سمیت مختلف مقامات پر موجود ہیں۔ مؤخر الذکر عجائب گھر میں بینن کے کانسی سے بنے مجسموں کی ایک حیران کن کلیکشن بھی موجود ہے کہ جنہیں برطانیہ نے موجودہ نائیجیریا میں واقع بینن سلطنت سے 18 ویں صدی کے اواخر میں حاصل کیا تھا۔ یہ کئی مجسمے جرمنی بھی آئے کہ جنہیں حال ہی میں نائیجیریا کو واپس کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ان نوادرات کے حوالے سے ہندو و پاک میں کافی حساسیت پائی جاتی ہے اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ کوہِ نور سمیت دیگر قیمتی اشیا واپس کی جائیں۔ یہ دعوے محض بھارت ہی نہیں بلکہ پاکستان یہاں تک کہ افغانستان اور ایران جیسے دیگر ممالک بھی رکھتے ہیں۔

نو آبادیاتی دور میں اور 1947ء میں آزادی کے بعد لوٹی گئی تاریخی نوادرات واپس لانے کے لیے 2014ء میں انڈیا پرائیڈ پروجیکٹ (IPP) قائم کرنے والے انوراگ سکسینا کہتے ہیں کہ "انہوں نے ہماری جانیں لیں، ہمارے قدرتی وسائل چھینے، ہمارا ورثہ لوٹا۔ وہ زندگی اور قدرتی وسائل تو واپس نہیں مل سکتے لیکن کم از کم ہمارا ورثہ تو واپس کیا جا سکتا ہے۔ جب تک یہ واپس نہیں کریں گے، تب ہی یہی سمجھا جائے گا کہ نو آبادیاتی دور ختم نہیں ہوا۔”

اپنے قیام کے بعد سے اب تک IPP کئی منصوبوں پر کام کر چکا ہے جن میں سے ایک متنازع بھی کہلایا۔ 2018ء میں گروپ کے چند اراکین مختلف برطانوی عجائب گھروں میں گئے اور وہاں موجود مجسموں کی تصاویر ایسے اسٹیکرز کے ساتھ لیں کہ جن پر "میں یہاں کیسے پہنچا؟” اور "میں دیوتا ہوں، شو پیس نہیں” جیسے جملے لکھے تھے۔

انوراگ کہتے ہیں کہ تاریخ کا تعلق اپنے جغرافیہ سے ہوتا ہے، قوموں، عجائب گھروں، شہروں اور عہدیداروں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ایک علمی مسئلے کو سماجی تحریک کا روپ دیا ہے۔ کیونکہ اس مسئلے کو محض علمی نقطہ نظر سے دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے مرض کی تشخیص کا تو خوب ذکر کیا جائے لیکن علاج کو نظر انداز کر دیا جائے۔

ادارہ اب تک آسٹریلیا اور امریکا سمیت کئی ملکوں میں بھارت سے چرائے گئے مجسموں کی موجودگی کا پتہ چلا چکا ہے، لیکن ان میں زیادہ تر نوادرات ایسی ہیں جو 1947ء کے بعد بھارت کے مندروں سے چرائی گئی ہیں۔ مثلاً ایک مجسمہ جو چوری ہو گیا تھا اور 2019ء میں اس کی جرمنی میں موجودگی کا پتہ چلا تو جرمن چانسلر انگیلا مرکیل کے دورۂ بھارت کے موقع پر اسے بھارت کو واپس کیا گیا۔

لیکن برطانیہ کے ساتھ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔ کوہِ نور ہی کو دیکھ لیں، اس ہیرے پر کم از کم چار ممالک دعویٰ کرتے ہیں، جن میں پاکستان اور ایران بھی شامل ہیں۔ گو کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ ہیرا اُس کا ہے لیکن 2016ء میں اس دعوے پر ایک کاری ضرب لگی جب بھارت کے اٹارنی جنرل رنجیت کمار نے نئی دلّی کی عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ یہ ہیرا "نہ چوری کیا گیا اور نہ ہی لے جایا گیا۔ بلکہ اسے رنجیت سنگھ نے (19 ویں صدی کی) سکھ جنگوں میں مدد کرنے پر زرِ تلافی کے طور پر برطانیہ کے حوالے کیا تھا۔”

یہ بیان عین اس وقت سامنے آیا تھا جب شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ نئی دلّی کے دورے پر تھے۔ ہو سکتا ہے ایک روز ولیم تختِ برطانیہ تک پہنچیں اور ان کی اہلیہ ملکہ بن جائیں توکوہِ نور والا تاج انہی کے سر پر سجے گا، کیونکہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ ہیرا مردوں کے لیے "منحوس” ہے۔

بہرحال، اس فیصلے پر ملک میں کافی ہنگامہ کھڑا ہوا اور چار سال بعد حکومت ایک مرتبہ پھر برطانیہ سے مطالبہ کرتی نظر آئی کہ اس کے نوادرات واپس کیے جائیں۔

اس مرتبہ برطانیہ کے دفترِ خارجہ و دولت مشترکہ نے جواب دیا کہ "برطانیہ کا میوزیم ایکٹ 1963ء قومی عجائب گھروں سے کسی بھی چیز کو نکالنے سے روکتا ہے اور حکومت اس قانون میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔”

بہرحال، اس قانون کے باوجود برطانیہ کے چند ادارے آگے بڑھے اور انہوں نے تاریخی نوادرات سابق نو آبادیات کو واپس کیے۔ مثلاً یونیورسٹی آف ایڈنبرا جس نے 2019ء میں ویڈا قبائل سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کی کھوپڑیاں سری لنکا کو واپس کیں اور اسی سال مانچسٹر یونیورسٹی کے مانچسٹر میوزیم نے آسٹریلیا کو مقامی افراد کی 43 باقیات حوالے کیں۔

لیکن وکٹوریا اینڈ البرٹ میوزیم اور برٹش میوزیم کا دعویٰ ہے کہ وہ میوزیم ایکٹ کی وجہ سے تاریخی نوادرات واپس نہیں کر سکتے، بلکہ ان چیزوں کو برطانیہ میں محفوظ رکھنا عالمی برادری کے لیے دلچسپی کا حامل ہوگا۔

ان نوادرات کے حصول کی کوششوں میں بھارت کو چند مسائل کا بھی سامنا ہے، جن میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ ملک میں نوادرات واپس لینے کا کوئی طے شدہ طریقہ موجود نہیں ہے اور چند ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت ان نوادرات کی اچھی طرح دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔ پھر چوری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور ملک میں غربت ایسی نوادرات کی چوری کو مزید بڑھاتی ہے اور تاریخی نوادرات کے تحفظ کے لیے ناقص اقدامات بھی مسئلے میں اضافہ کرتے ہیں۔

چوری شدہ تاریخی نوادرات پر ایک دستاویزی فلم ‘Blood Buddhas’ میں فلم ساز نکھل سنگھ راجپوت نے نئی دلّی کو واپس کی گئی نوادرات کی حالتِ زار کا موضوع چھیڑا ہے۔ 2014ء سے 2018ء کے درمیان امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا اور جرمنی سے جو نوادرات بھارت واپس آئیں وہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے حوالے کی گئیں جو ثقافتی یادگاروں کے تحفظ کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ انہیں دلّی کے پرانے قلعے میں واقع ادارے کے ایک ایسے گودام میں رکھا گیا، جہاں نہ انہیں چوری سے مناسب تحفظ حاصل ہے اور نہ ماحولیا تی اثرات سے کوئی بچاؤ۔

لیکن چند لوگوں کی نظروں میں ان وجوہات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بھارتی پارلیمان کے ایک رکن ششی تھرور نے اس دستاویزی فلم میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے ان نوادرات کو عالمی معیار کا تحفظ نہ دے پانے سے کسی کو یہ اختیار نہیں مل جاتا کہ وہ ان نوادرات کو یہ کہہ کر چوری کر لے کہ "ہم ان کی بہتر دیکھ بھال کریں گے۔” انہوں نے یہ نوادرات "اچھی طرح دیکھ بھال” کرنے کے لیے چوری نہیں کی تھیں، انہوں نے پہلے چوری کی اور بعد میں جواز تراشے ہیں۔

انڈیا پرائیڈ پروجیکٹ بھی اس رائے سے اتفاق کرتا ہے کہ نوادرات کے تحفظ کے بھارتی حکومت کے اقدامات عالمی معیار کے مطابق نہیں ہے، لیکن انہیں امید ہے کہ جلد ہی وہ اس معیار تک پہنچ جائیں گے۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے