28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

ٹک ٹاک کے خلاف والدین عدالت میں، 1.7 ارب ڈالرز ادائیگی کا مطالبہ

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

ہالینڈ میں والدین نے ٹک ٹاک کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بچوں کی پرائیویسی اور ان کے تحفظ کے لیے کافی اقدامات نہیں اٹھا رہا۔

ہالینڈ اور یورپی یونین کے دیگر ممالک کے 64,000 والدین کی نمائندگی کرنے والے ادارے مارکیٹ انفارمیشن ریسرچ سینٹر (SOMI) نے ایمسٹرڈیم کی ایک عدالت کو درخواست بھیجی ہے، جس میں 1.4 ارب یوروز یعنی 1.7 ارب ڈالرز کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

‏SOMI فاؤنڈیشن دعویٰ کرتی ہے کہ ٹک ٹاک بنا اجازت بچوں کا ڈیٹا کلیکشن کر رہا ہے۔ ادارے کے وکیل ڈوو لینڈرز کہتے ہیں کہ چینی سوشل میڈیا ایپ ضرورت سے زیادہ ڈیٹا جمع کرتی ہے، جو یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

لینڈرز نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ٹک ٹاک ذاتی ڈیٹا کا استعمال کس طرح کرتا ہے لیکن ذاتی اشتہارات اور ڈیٹا کی امریکا و چین منتقلی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایپ باقاعدہ اجازت بھی نہیں لیتی۔ 16 سال سے کم عمر کے افراد اپنے والدین کی اجازت کے بغیر ٹک ٹاک پر با آسانی پروفائل بنا سکتے ہیں۔

فاؤنڈیشن کے مطابق دنیا بھر میں خطرناک چیلنجز پورے کرنے کی کوشش میں بھی کئی بچے مارے گئے ہیں۔ مثلاً "بلیک آؤٹ چیلنج”، جس میں ٹک ٹاکرز کو چیلنج دیا گیا تھا کہ وہ اپنا سانس روکیں، یہاں تک کہ ہوش کھو بیٹھیں۔ لینڈرز کہتے ہیں کہ اگر اس سے موت واقع نہ بھی ہو تو ایسے خطرناک گیمز اور چیلنجز بچوں کو نفسیاتی اور جسمانی طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ وہ نو عمر افراد کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ مثلاً اسمارٹ فون ایپ کہتی ہے کہ وہ 13 اور 15 سال کی عمر کے بچوں کے اکاؤنٹس کو ڈیفالٹ میں پرائیوٹ رکھتا ہے۔ یعنی اجنبی افراد ان بچوں کی فیڈ نہیں دیکھ سکتے۔

پھر ماڈریٹرز بھی ہیں جو نامناسب وڈیوز کو مستقلاً آف لائن کرتے رہتے ہیں، ان کے بنانے والے کے اکاؤنٹ بند کرتے ہیں اور دیکھنے والوں کو وڈیو رپورٹ کرنے کا آپشن بھی دیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ نامناسب وڈیو سے آگاہ کر سکتے ہیں۔  ٹک ٹاک ‘بائٹ ڈانس’ کی ملکیت ہے اور دنیا بھر میں تقریباً 70 کروڑ صارفین رکھتی ہے، یہاں تک کہ اب نیوز چینل بھی اس پلیٹ فارم کو استعمال کر کے اپنی خبریں پیش کر رہے ہیں۔

‏SOMI نے جو 1.4 ارب یوروز کا دعویٰ کیا ہے، اس کا تخمینہ 25 مئی 2018ء سے اب تک مختلف عمر کے بچوں کو پہنچنے والے نقصان کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔  گروپ دعویٰ کرتا ہے کہ خطرے کی زد میں موجود کم عمر ترین، یعنی 13 سال سے چھوٹے، بچوں  کے لیے 2,000 یوروز فی بچہ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 13 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کے لیے 1,000 یوروز اور 16 و 17 سال کی عمر کے لیے 500 یوروز ہوں گے۔

یاد رہے کہ 2019ء میں امریکا میں بھی ٹک ٹاک کے خلاف تحقیقات کی گئی تھیں، جس میں اس سوشل میڈیا ایپ پر پابندی لگانے کی دھمکی بھی دی گئی تھی، البتہ عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں متعدد بار ٹاک ٹاک پر پابندی لگ چکی ہے، لیکن بعد میں اٹھائی جاتی رہی ہے۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے