36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

عرب اسرائیل جنگ 1967ء، ایک پاکستانی پائلٹ کے کارنامے آج بھی ذہنوں میں تازہ

تازہ ترین

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...
- Advertisement -

‏1967ء کی عرب-اسرائیل جنگ مشرق وسطیٰ کی جدید تاریخ میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہے کیونکہ صرف چھ دنوں میں تین عرب ریاستوں کو ملنے والی شرم ناک شکست نے ہر میدان میں پلڑا اسرائیل کے حق میں جھکا دیا۔ جب اقوامِ متحدہ کی جانب سے سیز فائر ہوا تب تک اسرائیل جولان کی پہاڑیوں، غزہ کی پٹی، جزیرہ نما سینا اور مغربی کنارے پر قبضہ کر چکا تھا، جس میں مشرقی القدس بھی شامل تھا۔ یوں مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل کر رہ گیا۔

ترکی کی ‘انادولو ایجنسی’ کے مطابق یہ جنگ آج سے ٹھیک 54 سال پہلے آج ہی کے دن یعنی 5 جون کو شروع ہوئی تھی اور 10 جون تک جاری رہی۔ اسے آج عرب ممالک کی بھیانک شکست کی وجہ سے تو یاد ہی کیا جاتا ہے لیکن ایک پانچویں ملک کی فضائیہ کے حیرت انگیز کارناموں کی بدولت بھی جانا جاتا ہے، جو اس تنازع میں براہِ راست فریق بھی نہیں تھا۔ ہم آج یاد کر رہے ہیں پاکستان فضائیہ کے پائلٹوں کی دلیری، جرات مندی اور بہادری کو کہ جنہوں نے اسرائیل کے کئی جدید ترین لڑاکا طیارے گرائے اور اپنا کوئی نقصان بھی نہیں ہونے دیا۔

ان پاکستانی پائلٹوں میں سب سے بڑا نام سیف الاعظم کا تھا، جن کا گزشتہ سال جون میں ہی انتقال ہوا ہے۔ انہوں نے جنگ کے ابتدائی تین دنوں میں اسرائیل کے تین لڑاکا طیارے مار گرائے تھے۔

فضائیہ کی تاریخ پر تین کتابیں لکھنے والے ایئر کوموڈور (ر) قیصر طفیل کہتے ہیں کہ سیف الاعظم اس وقت فلائٹ لیفٹیننٹ تھے، جنہوں نے 5 سے 7 جون کے دوران اسرائیل کے تین لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "یہ حقیقت نہیں ہے کہ پاکستانی پائلٹ نے 1967ء کی جنگ میں 10 اسرائیلی جہاز مار گرائے تھے۔ در حقیقت 1967ء کی جنگ میں یہ تعداد تین اور 1974ء میں یہ تعداد ایک تھی، جو ایئر کوموڈور (ر) عبد الستار علوی نے شام کی فضائیہ کی جانب سے مار گرایا تھا۔”

دراصل پاک فضائیہ نے نومبر 1966ء میں اردن کی فضائیہ کے پائلٹوں کی تربیت کے لیے اپنے چند پائلٹ بھیجے تھے۔ جب 5 جون 1967ء کو جنگ شروع ہوئی تو سیف الاعظم اور فلائٹ لیفٹیننٹ سرور شاد اردن ہی میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ قیصر طفیل بتاتے ہیں کہ گو کہ انہیں اردنی پائلٹوں کی تربیت کے لیے بھیجا گیا تھا، لیکن حکومت پاکستان نے انہیں اجازت دی تھی کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں وہ دفاع کی ذمہ داریاں انجام دے سکتے ہیں۔ جنگ میں باقاعدہ حصہ صرف سیف الاعظم نے لیا تھا، کیونکہ ان کے دوسرے ساتھی اس وقت بیمار ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھے۔

سیف الاعظم کا شمار تاریخ کے عظیم ترین پائلٹوں میں ہوتا ہے جنہوں نے چار ممالک کے لیے خدمات انجام دیں۔ پاکستان اور اردن کے علاوہ عراق اور پھر سقوط ڈھاکا کے بعد بنگلہ دیش کے لیے بھی۔ وہ دو مختلف فضائیہ کے لڑاکا طیارے مار گرانے کا انوکھا ریکارڈ بھی رکھتے تھے، 1965ء کی جنگ میں بھارت کے اور دو سال بعد اسرائیل کے۔

انہوں نے جنگ کے پہلے روز اپنے ہاکر ہنٹر (Hawker Hunter) طیارے اُس وقت کے جدید ترین دیسو مستیئر (Dassault Mystere) کو اردن کو مار گرایا تھا۔ اگلے روز انہیں ایک عراقی ایئر بیس منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے عراقی فضائیہ کی جانب سے لڑتے ہوئے دو جدید ترین اسرائیلی طیارے Vautour IIA اور Dassault Mirage III مار گرائے۔

سیف الاعظم جیسے شاہین کی وجہ سے عراق اور اردن کی فضائیہ اس انجام سے بچ گئی، جو مصر کو جھیلنا پڑا کہ جس کی اسرائیل نے اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اس کارنامے پر سیف کو اردن اور عراق کی جانب سے اعلیٰ فوجی اعزازات بھی دیے گئے۔

ایئر مارشل (ر) امجد حسین خان 1967ء کی جنگ کو جدید امریکی اور قدیم روسی ٹیکنالوجی کا مقابلہ کہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نتیجہ اسرائیل کی کامیابی کی صورت میں نکلا۔ وہ 1967ء سے 1970ء تک عراق میں تعینات رہے، کہتے ہیں کہ اردن کی فضائیہ کی تربیت بھارتی پائلٹ برطانوی جنگی انداز میں کر رہے تھے جبکہ مصر و شام کی فضائیہ پرانے سوویت انداز کی تربیت لے رہی تھی۔ دوسری جانب اسرائیلی پائلٹ اور جہاز امریکا کے ماتحت تھے، جو سوویت یونین سے کہیں زیادہ جدید قسم کے ساز و سامان اور تربیت رکھتے تھے۔ بعد ازاں، امجد حسین نے بھی 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں پاکستانی پائلٹوں کے ایک دستے کی قیادت کی تھی۔ ان کے خیال میں اس جنگ میں اسرائیل کی فضائیہ کا امریکی تربیت اور ٹیکنالوجی پر انحصار سب سے بڑا فرق ثابت ہوا۔

قیصر طفیل بھی امجد حسین کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ عرب افواج اور ان کی فضائیہ کا اسرائیل سے کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا کیونکہ مصری اور شامی افواج کی تربیت پرانے اور متروک سوویت انداز میں ہو رہی تھی۔

گو کہ سیف الاعظم کی غیر معمولی کارکردگی کو خوب سراہا جاتا ہے، لیکن قیصر طفیل کہتے ہیں کہ سیف کی دلیرانہ کوششیں بدقسمتی سے محض علامتی رہ گئیں کیونکہ جنگ کا حتمی نتیجہ اسرائیل کے حق میں نکلا۔

فروخت کے ریکارڈز توڑنے والی کتاب "Against All Odds” کے مصنف قیصر طفیل کہتے ہیں کہ اردن کے پاس لڑاکا طیاروں کا صرف ایک اسکواڈرن تھا، وہ بھی پہلے اسرائیلی حملے کے بعد 6 جون کو گراؤنڈ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ فوجی ساز و سامان کا معیار بھی اسرائیل کے مقابلے کا نہیں تھا۔

عربوں کی شکست کی ایک اور وجہ مصر کے اُس وقت کے صدر جمال عبد الناصر کی اردن کے شاہ حسین کے ساتھ غلط بیانی تھی، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مصری افواج تل ابیب کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ حسین نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس کے نتائج تباہ کن نکلے۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ مصری فضائیہ کو اسرائیل نے اپنے ہوائی اڈوں پر اڑنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا تھا اور ان کی زمینی افواج اسرائیل کے فضائی حملوں کے رحم و کرم پر تھیں۔

1952ء سے 1988ء تک پاک فضائیہ میں خدمات انجام دینے والے امجد حسین کہتے ہیں کہ 1967ء کی جنگ نے مشرق وسطیٰ کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا اور اسرائیل کو ایسی بالادستی ملی، جو آج تک کم نہیں ہوئی۔ صرف چھ دن میں اس نے مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی منظر نامہ بدل دیا۔ جزیرہ نما سینا، مغربی کنارہ اور جولان کی پہاڑیاں سب اس کے پاس چلی گئیں اور آج بھی اس کی بالادستی قائم ہے۔

اسرائیل کہتا ہے کہ جنگ کے میدان کے بعد اسے سفارتی میدان میں بھی کامیابی نصیب ہوئی جب اردن اور مصر نے اسے تسلیم کیا۔

مزید تحاریر

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے