36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

ملالہ یوسف زئی نے ایسا کیا کہہ دیا؟ ‘متنازع’ انٹرویو کا مکمل متن

تازہ ترین

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا ، کچھ کام...
- Advertisement -

برطانیہ کے معروف فیشن میگزین ‘Vogue’ کے تازہ شمارے کے سرِ ورق پر پاکستان سے تعلق رکھنے والی نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی تصویر ہے اور اندر ایک ایسا انٹرویو کہ جو گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ آخر اس انٹرویو میں ایسا کیا تھا جس کی وجہ سے یہ بات سوشل میڈیا سے نکل کر خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی تک میں پہنچ گئی؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس انٹرویو کو پڑھا اور سمجھا جائے۔ قارئین کے لیے ہم اس پورے انٹرویو کا اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں تاکہ وہ وجہ نزاع بننے والی بات کا سیاق و سباق بھی جان سکیں اور اس انٹرویو میں ہونے والی گفتگو بھی پڑھ سکیں:


تاریخ کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی بھی زندگی کے نشیب و فراز سے گھبرا جاتی ہیں۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ اگلے 10 سال میں خود کو کس مقام پر دیکھتی ہیں تو انہوں نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا کہ "میں ہر رات خود سے یہ سوال کرتی ہوں۔ بستر پر لیٹے گھنٹوں سوچتی ہیں کہ میں آگے کیا کرنے جا رہی ہوں؟”

گزشتہ روز ‘ووگ’ کے شوٹنگ کروانے والی اور اب بھی صرف 23 سال کی ملالہ گفتگو جاری رکھتی ہیں "میں مستقبل میں کہاں رہوں گی؟ کیا برطانیہ میں ہی، یا پاکستان منتقل ہو جاؤں گی، یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں؟ دوسرا سوال یہ کہ مجھے کس کے ساتھ رہنا چاہیے؟ کیا اپنی زندگی اپنے بل بوتے پر گزارنی چاہیے؟ یا والدین کے ساتھ؟ میں اِس وقت اپنے والدین کے ساتھ ہی رہتی ہوں اور وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں اور بالخصوص ایشیائی والدین تو یہی چاہتے ہیں کہ بچے ہمیشہ ان کے ساتھ ہی رہیں۔”

ہم وسطی لندن کے ایک ہوٹل کے پر سکون گوشے میں بیٹھے ہیں۔ ملالہ کے بال کھلے ہوئے ہیں اور ڈھکے ہوئے نہیں ہیں۔ ان کا دوپٹہ ان کے گلے میں لٹک رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ "میں زیادہ تر دوپٹہ تب پہنتی ہوں جب باہر ہوں۔ گھر پر اور دوستوں کے ساتھ تو ایسے ہی ٹھیک ہوں۔” انہوں نے بتایا کہ دوپٹہ محض مسلمان ہونے کی وجہ سے نہیں ہے۔ "یہ ہم پشتونوں کے لیے ایک ثقافتی علامت بھی ہے، یعنی یہ نمائندگی کرتا ہے کہ میں کہاں سے آئی ہوں۔ اور مسلمان، پشتون یا پاکستانی لڑکیوں کو اپنا روایتی لباس اختیار کرنے پر مظلوم، بے صدا یا پدر شاہی (patriarchy) تلے دبے رہنے والی مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ میں سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ اپنی ثقافت میں رہتے ہوئے بھی آواز بلند کر سکتی ہیں اور یہاں بھی برابری کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتی ہیں۔”

تقریباً 13 سال قبل، جب انہوں نے محض 11 سال کی عمر میں پاکستان میں لڑکیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا شروع کی، تب سے دنیا بھر کے لیے ملالہ کا یہی پیغام ہے۔ پاکستان کی وادئ سوات کے شہر مینگورہ پر جب طالبان نے قبضہ کیا تو لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ملالہ کا اپنے تعلیم کے حق دست بردار نہ ہونے کا فیصلہ ان پر حملے کی وجہ بنا جب ان کی عمر صرف 15 سال تھی۔ اکتوبر 2012ء میں جب وہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں، تو ایک طالبان حملہ آور نے ان پر اور ان کی دو ہم جماعت لڑکیوں پر گولیاں چلادیں۔ بعد ازاں، انہیں ہوائی جہاز کے ذریعے برمنگھم کے کوئین ایلزبتھ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں والد ضیاء الدین، والدہ تورپیکئی اور دو چھوٹے بھائی ان کے ساتھ تھے، وہ معجزانہ طور پر بچ گئیں اور عملی میدان میں ان کی فعالیت دو گنی ہو گئی۔

‏2013ء میں ان کی سوانح حیات خود نوشت ” I Am Malala” شائع ہوئی، یعنی قاتلانہ حملے کے صرف ایک سال بعد، جس نے بین الاقوامی سطح پر فروخت کے ریکارڈ قائم کیے۔ پھر 15 سال کی عمر میں انہوں نے دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ‘ملالہ فنڈ’ کا آغاز کیا اور اسکول جانے والی ان لڑکیوں کے حق میں مہم چلائی مثلاً وہ کہ جنہیں نائیجیریا میں بوکو حرام نامی گروہ نے اغوا کر لیا تھا۔ انہوں نے کئی سربراہانِ مملکت سے ملاقاتیں کیں، اپنی 16 ویں سالگرہ پر اقوامِ متحدہ کی یوتھ اسمبلی سے خطاب کیا اور دنیا بھر میں تبدیلی کے لیے مشعلِ راہ بن گئیں۔

اور ہاں، اس کے بعد انہوں نے 17 سال کی عمر میں نوبیل امن انعام حاصل کیا، اور یہ سب GCSE میں A گریڈز حاصل کرتے ہوئے پایا، وہ بھی برمنگھم میں قیام کے دوران اپنی تیسری زبان میں پڑھتے ہوئے۔ 2017ء میں انہیں سیاسیات، فلسفہ و معاشیات میں تعلیم کے لیے آکسفرڈ یونیورسٹی میں داخلہ ملا اور انہوں نے آنرز کے ساتھ گریجویشن کیا۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ غیر معمولی صلاحیت اور ارادے رکھنے والے لوگ ہوتے ہوں گے، جن سے کہیں آگے ملالہ کا مقام ہے۔

اب میں دریافت کروں گی کہ 23 سال کی گریجویٹ کہ جن کے سفری منصوبوں کو وبا نے متاثر کیا ہے، جو اب بھی اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہیں، اپنے کمرے میں اکثر و بیشتر وڈیو گیم ‘Among Us’ کھیلتی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ آخر چاہتی کیا ہے۔ آکسفرڈ کے بعد اب اس پختہ عمر میں سوال یہ ہے کہ دنیا کی مشہور ترین جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد اب وہ کیا کریں گی؟

ملالہ نے سب سے پہلے زندگی میں اضطراب کو یاد کیا اور نرمی سے بولیں "واقعی رات 2 بجے کا وقت ہوگا، میں بستر پر بیٹھی ہوں، اپنا انسٹا گرام دیکھ رہی ہوں اور یہ سوچ رہی ہوں کہ ‘آخر میں کر کیا رہی ہوں؟’ ” گزشتہ سال یونیورسٹی سے گھر آنے کے بعد، اپنی ڈگری مکمل کرنے کرنے لیے اور وبائی حالات کے خاتمے تک کے لیے وہ 2020ء کی کووِڈ کلاس کا حصہ بن گئیں: یعنی بے روزگار، بے مقصد اور شدید اکتاہٹ سے دو چار۔ خواب گاہ میں انہوں نے دستیاب مواقع پر غور کیا۔ ملالہ فنڈ کا کام تو از خود چلتا رہے گا، لیکن زندگی کے اس سب سے اہم دوراہے پر وہ کیا کرنے جا رہی تھیں؟

کیا انہیں کسی ملازمت کی طرف دیکھنا چاہیے؟ ماسٹرز کے لیے درخواست دینی چاہیے؟ بیرونِ ملک سفر کرنا چاہیے؟ بہرحال، اس دوران انہوں نے نیند کی، ماں کے ہاتھ سے بنے دنبے کے گوشت کا لطف اٹھایا، پڑھا کیونکہ انہوں نے اِس سال خود کو 84 کتابیں پڑھنے کا چیلنج دے رکھا ہے – اور ڈوم اسکرولنگ کی، یعنی سوشل میڈیا پر وقت ضائع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ "ٹوئٹر پر باضابطہ شمولیت سے بھی ایک سال پہلے سے میرا ایک خفیہ ٹوئٹر اکاؤنٹ تھا، اس پر بھی تقریباً 4,000 فالوورز تو تھے۔” (ویسے بعد میں ان کے 18 لاکھ فالوورز ہوئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔)

ان کی پہلی محبت تھی: ٹیلی وژن۔ داستان گوئی کی طاقت کا انہیں ہمیشہ سے اندازہ تھا۔ جب 11 سال کی تھیں تو گل مکئی کے قلمی نام سے ‘بی بی سی’ کے لیے لکھنا شروع کیا کہ آخر طالبان کے زیرِ نگیں زندگی کیسی ہوتی ہے۔ شہزادہ ہیری اور میگن مارکل اور اوباما خاندان کی طرح، جنہوں نے اہم معاملات پر بات کرنے کے لیے براڈکاسٹنگ کا رخ کیا، ملالہ نے بھی اپنا پروگرام بنانے کا سوچا اور دنیا بھر کے با صلاحیت افراد کی فہرست جمع کرنا شروع کی کہ جو اس کام میں ان کی مدد کریں گے۔

انہوں نے متعدد بڑے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز سے ملاقاتیں کیں: بلاشبہ ان اداروں کو تو بہت دلچسپی تھی، لیکن سب سے آگے رہا ایپل ٹی وی +، جس نے مارچ میں ان کے ساتھ کئی سالوں کی شراکت داری کی ہے کہ جہاں ”اوپرا ونفری“ اور ”اسٹیون شپیل برگ“ جیسی معروف شخصیات پہلے سے موجود ہیں ۔ انہوں نے اپنی نئی پروڈکشن کمپنی Extracurricular بنائی ہے۔
"میں ان شوز کو مزاح سے بھرپور اور ایسا بنانا چاہتی ہوں کہ جو میں بھی دیکھوں۔”
وہ اس وقت اس کے ابتدائی مراحل کی نگرانی کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ "اگر مجھے پر اس پر ہنسی نہ آئے یا میں ان کا لطف نہ اٹھا سکی تو اسکرین پر نہیں لاؤں گی۔” یعنی سنجیدہ معاملات، مثلاً لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے حقوق پر دستاویزی فلموں کے علاوہ وہ مزاح پر مشتمل کام بھی کرنا چاہتی ہیں۔ ملالہ Ted Lasso کی بڑی پرستار ہیں، اس لیے بھی کہ ایپل ٹی وی + کی اس ہٹ سیریز کے مرکزی کردار کی مونچھیں بالکل اُن کے والد جیسی ہیں، لیکن وہ ایک نو عمر خاتون ہیں جنہیں جمیکا کے کھانے پسند ہیں اور Rick and Morty کی ایک قسط بھی۔

اس شو کی خاص باتیں تو ابھی صیغہ راز میں ہیں، لیکن یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اگلے سال ان کے کام کے کچھ نتائج سامنے آ جائیں گے۔ اینی میشن، ڈرامے، بچوں کے شوز، یہ سب اس میں شامل ہیں اور خود انہیں بھی امید ہے کہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے با صلاحیت افراد کو پلیٹ فارم ملے گا۔
”میں مختلف پسِ منظر سے آئی ہوں اور یہ سوچتی رہتی ہوں کہ اگر پاکستان کی کسی وادی سے تعلق رکھنے والی کوئی خاتون South Park بناتیں، تو وہ کیسا ہوتا؟“

ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کُک نے کیلیفورنیا میں اپنے دفتر سے ایک وڈیو کال کی اور کہا کہ "میرا نہیں خیال کہ ملالہ جیسا کوئی ہے۔ وہ بالکل بے ساختہ اور فطری انداز رکھتی ہیں۔” انہوں نے ملالہ سے پہلی ملاقات 2017ء میں آکسفرڈ میں کی تھی اور اسی وقت ان سے متاثر ہو گئے تھے۔ کک کہتے ہیں کہ "وہ 23 سال کا تجربہ رکھتی ہیں۔ ان کے پاس اپنی زندگی کی نمایاں داستان ہے، کئی کامیابیاں ہیں اور توجہ دنیا میں تبدیلی لانے پر ہے۔ وہ ایک رہ نما اور مشعلِ راہ ہیں، اور یہ صلاحیت مجھے بہت متاثر کرتی ہے۔ اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود ان میں تکبر نہیں پایا جاتا اور وہ عملی شخصیت رکھتی ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کا بہت لطف آتا ہے۔ وہ ایک حیرت انگیز شخصیت ہیں۔”

بلاشبہ ملالہ دنیا بھر میں کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں، اپنے بھولے بھالے انداز کی بدولت۔ مجھ سے بھی ملاقات میں پہلے انہوں نے کہا کہ آئیں سیلفی لیتے ہیں۔ بہرحال، ہماری گفتگو گھوم پھر کر وہی لڑکیوں کی تعلیم پر آ جاتی، ناگوار اور اکتا دینے والے انداز سے نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ ایک نصب العین کی طرح ان کے سامنے رہتا ہے۔

اپنی من موہنی فطرت کی بدولت وہ اپنی دوستوں میں Mal کے نام سے مشہور ہیں، ایک ایسی لڑکی جو اپنے لطیفوں پر خود ہنستی ہے، اپنے ناخن چباتی ہے، کرکٹ دیکھنا پسند کرتی ہے (پانچ روزہ ٹیسٹ کی تو کیا بات ہے) اور کسی مشکل صورت حال میں آپ کے ٹیکسٹ کا جواب ہمیشہ دے گی۔ اندر سے وہ ایک مزاحیہ شخصیت رکھتی ہیں- انٹرویو کے دوران ایک مرحلے پر بتایا کہ ایک مرتبہ انہیں اسکول میں ہیڈ گرل کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ میں بولی "آپ سے زیادہ اس کا اہل کون ہوگا؟” تو آنکھیں گھماتے ہوئے جواب دیا "اسکول نے ایسا نہیں سمجھا۔”

کبھی کبھی وہ لوگوں سے مایوس ہو جاتی ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز اٹھانے پر انہیں جس جمود کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ زچ کر دینے والا ہوتا ہے۔ سیاست دان اسکول بنانے کے وعدے کرتے ہیں، لیکن پیسے ٹینک اور بموں پر خرچ کرتے ہیں۔

”ابتدا میں میں سمجھتی تھی کہ جو وہ کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں اس پر عمل کریں گے اور جو اہداف طے کیے ہیں، انہیں حاصل کریں گے۔ لیکن وقت کے ساتھ میں نے دیکھا کہ ان میں سے چند ہی ایسے ہیں جو وعدے پورے کرتے ہیں اور باقی ایسا نہیں کرتے۔”

گو کہ ان کا انداز مطالبات کے بجائے ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کا ہے: لیکن وہ لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلائی جانے والی مہمات سے تنگ ہیں، یعنی تبدیلی کے بجائے محض چند کلک سے کام ہو جانے کی توقع رکھنا اور عمل کے بجائے محض غم و غصے کا اظہار کرنا۔ انہوں نے کہا کہ "اب عالم یہ ہے کہ ہم عملی آواز اٹھانے کا تعلق ٹوئٹ کرنے سے جوڑ چکے ہیں۔ اس رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹوئٹر ایک بالکل مختلف دنیا ہے۔”

وہ عملی طور پر میدان میں موجود نئی نسل کی رہنما ہیں، وہ خود سے آکسفرڈ میں ملنے والی 18 سالہ ماحولیاتی کارکن گریٹا ٹن برگ اور گن کنٹرول کے خلاف آواز اٹھانے والی 21 سالہ ایما گونزیلز کی دوست ہیں۔ دونوں مشاورت کے لیے ان سے رابطہ کرتی رہتی ہیں۔

”مجھے اندازہ ہے کہ جب کوئی نو عمر لڑکی کوئی مقصد اور مشن رکھتی ہے تو اس کے اندر کتنی طاقت ہوتی ہے۔“

اوباما خاندان نے بھی ملالہ میں یہی خوبی پائی تھی۔ مشیل اوباما نے مجھے ای میل کے ذریعے بتایا کہ "ملالہ نے گزشتہ چند سالوں میں بہت پذیرائی حاصل کی ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک غیر معمولی شخصیت ہیں۔ بارک اور میں نے پہلی بار ملالہ سے تب ملاقات کی جب وہ 2013ء میں وائٹ ہاؤس آئی تھیں، اور ملتے ہی ہمیں اندازہ ہو گیا کہ یہ وائٹ ہاؤس میں آنے کی حقدار تھیں۔ ان کا وقار، ذہانت اور ہر لڑکی کی طاقت پر یقین، یہ سب پہلی ملاقات میں ہی مکمل طور پر واضح تھا۔”

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملالہ نے خود سے اس راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ انہوں نے خود سے ایسے شخص کے گھر میں پیدا ہونے کا انتخاب نہیں کیا تھا کہ جو سرگرمِ عمل کارکن ہیں اور ان کو بھی ہر بے انصافی کا مقابلہ کرنا سکھایا۔ ملالہ کہتی ہیں کہ "میرے والد جن باتوں کو ٹھیک نہیں سمجھتے، ان کے خلاف لازماً قدم اٹھاتے ہیں۔” نہ ہی ملالہ نے وادئ سوات میں طالبان کی آمد کا انتخاب کیا۔ "میرے کام چھوٹی عمر ہی میں شروع ہو گئے تھے اور بیرونی واقعات اس پر اثر انداز ہوتے رہے، جو ہمارے قابو میں نہیں تھے۔”

لیکن یونیورسٹی میں پہلی بار ملالہ کو اپنی زندگی میں انتخاب کا موقع ملا۔ وہ دیر تک جاگ سکتی تھیں، خریداری کے لیے جا سکتی تھیں، کھانے پینے کی چیزیں آرڈر کر سکتی تھیں۔ کہتی ہیں کہ "میں تو کسی بھی چیز سے خوش ہو جاتی تھی۔ میک ڈونلڈز پر یا اپنی دوستوں کے ساتھ مل کر تاش کھیل کر یا کسی تقریب میں بات کر کے۔ میں ہر ہر لمحے کا بھرپور لطف اٹھا رہی تھیں کیونکہ میں نے اس سے پہلے اتنا کچھ نہیں دیکھا تھا۔ میں نے کبھی اپنی عمر کے اتنے سارے لوگوں کی صحبت نہیں دیکھی تھی کیونکہ اس سے پہلے میں اس واقعے کے بعد خود کو سمیٹ رہی تھی (طالبان کے حملے کے بعد)، دنیا کا سفر کر رہی تھی، کتاب شائع کر رہی تھی، دستاویزی فلم بنا رہی تھی اور بہت کچھ ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی میں بالآخر مجھے اپنے لیے کچھ وقت ملا۔”

‏2017ء میں انڈر گریجویٹ کے لیے ملالہ کی آمد سے پہلے لیڈی مارگریٹ ہال میں کالج پرنسپل، گارجین کے سابق ایڈیٹر ایلن رس برجر، نے سب طلبہ کو ای میل کی کہ وہ ملالہ کی پرائیویسی کا خیال رکھیں۔ ملالہ نے اعتراض کیا "میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ مجھے اس نظر سے دیکھیں جیسے ٹی وی پر دیکھتے ہیں اور اس طرح جیسے دوسرے لوگ ملالہ کو دیکھتے اور جانتے ہیں۔ میں چاہتی تھی کہ وہ مجھے ایک عام طالب علم کی حیثیت سے ہی دیکھیں۔”

انگلینڈ میں ایک نو عمر لڑکی کی حیثیت سے پہنچنے والی ملالہ تنہا تھیں، برمنگھم کے ایجبسٹن ہائی اسکول فار گرلز میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

”لوگ مجھ سے ایسے سوالات پوچھتے تھے مثلاً ایما واٹسن یا اینجلینا جولی یا اوباما سے ملاقات کر کے کیسا لگا؟ اور مجھے پتہ نہیں ہوتا تھا کہ میں اس بات کا کیا جواب دوں۔ عجیب ہی لگتا تھا کیونکہ آپ اُس "ملالہ” کو اسکول سے باہر چھوڑنا چاہتی ہیں، اور صرف ایک طالب علم اور دوست بننا چاہتی ہیں۔”

انہوں نے اعتراف کیا کہ آکسفرڈ کے لیے اپنے ذاتی بیان میں نوبیل امن انعام کا ذکر نہیں کیا تھا۔

”شرمندگی ہوتی تھی۔“

ملالہ نے اپنے آپ سے کہا کہ یونیورسٹی میں معاملات مختلف ہوں گے، جہاں "سب نئے نئے ہوں گے اور کسی نے اب تک دوستیاں نہیں کی ہوں گی۔” انہیں جلد ہی اپنا حلقہ مل گیا۔ ان کی سب سے اچھی دوست وی کاتیوو کہتی ہیں کہ جب وہ اندر آئیں، تو ایسی ملالہ تھیں جسے دنیا جانتی ہے؛ بڑے لوگوں کے گرد رہنے والی اور سفارت کاروں اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ معاملات سنبھالنے والی۔ وہ کچھ زیادہ ہی کم گو تھیں، کیونکہ انہیں اس ماحول میں آگے بڑھنا تھا۔ لیکن وہ یونیورسٹی آئیں تو بڑی تھیں، اور جب نکلی تو نوجوان کی حیثیت سے۔”

دراصل تعلیمی زندگی سے خود کو ہم آہنگ کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ ملالہ کہتی ہیں کہ "پاکستان میں میں اسکول کی بہترین طالبہ تھی۔ لیکن جب آکسفرڈ آئی تو کچھ پڑھنے کے بعد مجھے سخت افسوس ہوا۔ آپ اچانک آکسفرڈ پہنچ کر ایک اوسط درجے کی طالبہ بن گئیں اور اب آپ کا مقابلہ دنیا کے چند بہترین اذہان سے ہو رہا ہے۔” اس گروپ کے ساتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کے بجائے ملالہ نے دلچسپ راستہ اختیار کیا۔

"میں نے فیصلہ کیا کہ اگر میں نے 60 سے 70 فیصد کے درمیان بھی نمبر مل گئے تو بہت خوشی ہوگی۔ آپ تو جانتی ہے کہ ایک کہاوت ہے کہ آکسفرڈ میں تین چیزیں ہوتی ہیں: سونا، سماجی سرگرمیاں اور تعلیم، اور آپ یہ سب کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ سماجی سرگرمیاں میری پسند کی چیز تھیں۔”

یونیورسٹی میں ملالہ کا کمرہ ایک اجتماع گاہ تھا، کیونکہ ملالہ کے پاس ہمیشہ کھانے کو کچھ نہ کچھ ہوتا تھا۔ یہ انہوں نے اپنے والدین سے سیکھا تھا کیونکہ مہمان نوازی پشتون کلچر کا ایک اہم حصہ ہے۔ وہ شراب نہیں پیتیں، لیکن اپنے دوستوں کے ساتھ شراب خانوں میں جاتیں اور دیکھ کر حیران ہوتیں کہ کس طرح وہ نشے میں دھت ہو کر ‘بریگزٹ’ پر بحث کرتے اور ایک دوسرے پر چیختے چلاتے۔ لیکن ناشتے کے لیے ملالہ ہمیشہ دوڑتے ہوئے آخری وقت میں کالج ہال پہنچتیں، اس سے پہلے کہ وہ بند ہو جائے۔ مضامین لکھنے بھی انہیں بحرانی کیفیت میں یاد آتے تھے یعنی اسائنمنٹ آخری رات بنتے۔

”ہر ہفتے! مجھے خود پر بڑا غصہ آتا تھا کہ آخر میں رات 2 بجے تک جاگ کر مضمون کیوں لکھ رہی ہوں؟ میں نے مطالعہ کیوں نہیں کیا؟ اب ملالہ صبح 8 بجے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ ہی پہلے ایک "گھٹیا مضمون” جمع کروائے گی اور پھر سوئے گی۔ یہ وعدہ کرتی کہ ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا – لیکن اگلے ہفتے پھر وہی ہوتا۔”

شادی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آکسفرڈ سے کوئی ملا؟ یہ سوال سن کر تو ملالہ گویا پانی پانی ہو گئیں۔ کچھ دیر رکنے کے بعد انہوں نے کہا کہ "میں تو یہ کہوں گی کہ کئی ایسے لوگوں سے ملی جو بہت زبردست ہیں، اور مجھے امید ہے کہ کوئی ایسا بھی مل جائے گا جو مجھے سمجھتا ہو، میرا احترام کرتا ہو اور مجھ سے محبت کرتا ہو اور میرا خیال رکھے۔“

مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی بلّی کے بچے پر تشدد کر رہی ہوں، اس لیے میں نے موضوع بدل دیا۔ کبھی کسی فلمی ستارے سے مل کر غیر معمولی حیرت اور خوشی ہوئی؟ ملالہ نے بریڈ پٹ سے ملاقات کا ذکر کیا۔ کیا وہ واقعی خوبصورت تھا؟ ملالہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا "ہاں!” اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔

بہرحال، ملالہ پر حملے کے بعد پاکستانی طالبان نے ان کے خلاف مزید دھمکیاں بھی جاری کیں۔ ملالہ اور ان کا خاندان برمنگھم منتقل ہو گیا، جہاں وہ تب سے مقیم ہے اور یہیں سے انہوں نے ملالہ فنڈ کی عالمی ترویج کا آغاز کیا۔ دنیا بھر کے سفر کے دوران وہ کھلی آنکھوں سے اپنے گھر جانے کے خواب دیکھتی تھیں۔

”پرواز میں سامنے اسکرین پر جو نقشہ ظاہر ہوتا ہے تو میں تصور کرتی ہوں کہ یہ جہاز پاکستان میں اتر رہا ہے۔“

یہ سوچتے ہوئے وہ بادلوں پر غور کرتی ہیں، ان کی صورت اور ساخت پر کہ وہ کس کس شکل میں ہیں۔ ان کا پرائیوٹ انسٹا گرام اکاؤنٹ بھی آسمان کی تصویروں سے بھرا پڑا ہے۔

ملالہ کی عرصے سے خواہش تھی کہ وہ پاکستان آئیں، لیکن امن و امان کی صورت حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستانی حکام نے انہیں اجازت نہیں دیتے تھے۔ بالآخر مارچ 2018ء میں وہ ان بہانوں سے تنگ آگئیں۔ "میں نے اپنے والد کو بتایا کہ پاکستانی سیاست میں تو آپ کو ملک جانے کا درست وقت کبھی نہیں ملے گا۔ وہاں تو ہمیشہ کچھ نہ کچھ ہوتا رہے گا۔” انہوں نے میری بات سے اتفاق کیا۔ "جب ہم پاکستان پہنچے اور ان فضاؤں میں سانسیں لیں تو یہ کوئی خواب لگ رہا تھا۔ یقین نہیں آ رہا تھا۔”

ملالہ کہتی ہیں کہ ان کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ ان بے صدا لڑکیوں کے سامنے ناکام ہو جانا کہ جو ان پر بھروسہ کرتی ہیں: وہ لڑکیاں کہ جن کے والدین پیسہ بچا کر ان کے بھائیوں کو اسکول بھیجتے ہیں؛ وہ لڑکیاں کہ جن کی شادیاں ان سے بڑی عمر کے مردوں سے کر دی جاتی ہیں؛ وہ لڑکیاں جو پڑھ نہیں سکتیں۔ ملالہ ہر وقت ان لڑکیوں کے بارے میں سوچتی ہیں۔

”مجھے اپنے کام کی بہت فکر لاحق رہتی ہے اور پریشانی رہتی ہے کہ آخر ہمارے مقرر کیے گئے اہداف کو حاصل کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ لوگ کہتے ہیں ملالہ، پریشان مت ہو، یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، پریشان تو سیاست دانوں اور عالمی رہنماؤں کو ہونا چاہیے، "لیکن اگر میرے پاس عوام میں شعور اجاگر کرنے کی صلاحیت ہے تو مجھے اس کا بھرپور استعمال کرنا چاہیے۔”

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ "یقیناً آپ بحیثیتِ سیاست دان زیادہ اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ میں ان کے کردار کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتی۔”

عموماً ملالہ سیاست پر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ ملالہ فنڈ آٹھ ممالک میں کام کرتا ہے اور کوئی بھی سیاسی بات ان کے بنیادی کام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ لیکن فروری میں انہوں نے آواز اٹھائی جب ان پر گولی چلانے والے گروپ کے رکن احسان اللہ احسان جیل سے رہا ہوئے اور ملالہ کو ٹوئٹر پر دھمکایا۔ ملالہ نے عمران خان کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ "یہ بھاگا کیسے؟ اس نے بہت سے لوگوں کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کر رکھی ہے۔” ملالہ کی آواز میں مایوسی ظاہر تھی، "اور وہ ایک دہشت گرد تنظیم کا ترجمان تھے، اسے اس طرح کیسے جانے دیا گیا؟”

ملالہ نے مزید کہا کہ "میرے خیال میں سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ یہاں کیوں آئے ہیں اور کس طرح کام کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں شفاف ماضی نہیں رکھتیں۔ کیا آپ ان کا دفاع کرتے ہیں، یا آپ ان کا دفاع نہیں کرتے؟ کیا آپ سیاسی جماعت بدلتے ہیں؟ کیا آپ اپنی سیاسی جماعت خود بناتے ہیں؟ عمران خان نے ایسا کیا اور انہیں 30 سال سے زیادہ کا وقت لگا۔”

ہم ہوٹل سے نکل کر قریبی سینٹ جیمز پارک پہنچ گئے، جہاں بگلوں اور پکنک مناتے خاندانوں کے پاس سے گزرے۔ جیکٹ اور اونچی ہیل والی جوتیاں پہنی ملالہ میرے ہم قدم چلتی رہیں۔ کسی نے اپنے درمیان ایک نوبیل امن انعام یافتہ کو نہیں پہچانا۔ غیر متوقع طور پر یہاں ان کی گفتگو ایک مرتبہ پھر محبت کی جانب چلی گئیں۔ ملالہ نے وضاحت کی کہ گو کہ میرے تمام دوست بظاہر کسی ساتھی کی تلاش میں ہیں لیکن مجھے اندازہ نہیں کہ مجھے کیا چاہیے۔

”میں ذرا نروس ہوں۔ خاص طور پر تعلقات کے حوالے سے سوچتے ہوئے۔ آپ کو تو پتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنے تعلقات کی داستانیں بیان کرتا پھرتا ہے اور آپ کو پریشانی ہو جاتی ہے۔“

میں نے پوچھا ”رومانوی تعلقات کے حوالے سے؟“، تو ملالہ نے کہا ”جی ہاں ۔۔۔۔ آپ کسی پر اعتماد کر سکتے ہیں یا نہیں، اور آپ کو یقین کیسے آئے گا؟”

ملالہ کے والدین کی شادی بقول ملالہ کے "ارینجڈ-لو میرج” تھی۔ دونوں کو ایک دوسرے کی شکل و صورت اچھی لگتی تھی اور باقی کا کام والدین نے کیا۔ لیکن ملالہ کو یقین نہیں کہ وہ کبھی شادی بھی کریں گی۔

”مجھے اب بھی سمجھ نہیں آتا کہ لوگ شادی کرتے کیوں ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی میں کسی شخص کو چاہتے ہیں تو آپ کو شادی کے کاغذات پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے، یہ پارٹنر شپ کیوں نہیں ہو سکتی؟“

تمام ماؤں کی طرح ان کی والدہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں۔ ملالہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ "امی کہتی ہیں کہ ایسی بات کرنے کا سوچنا بھی مت! تمہیں شادی کرنی ہوگی، شادی بہت اچھی چیز ہے۔“

جبکہ ملالہ کے والد کو پاکستان سے کئی رشتوں کی ای میلز بھی آتی رہتی ہیں۔ ” انہوں نے مزے لیتے ہوئے بتایا کہ "لڑکا کہتا ہے میرے پاس کئی ایکڑ زمین ہے اور کئی گھر اور وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔”

”یونیورسٹی کے دوسرے سال تک میں سوچتی تھی کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گی، کبھی بچے نہیں ہوں گے – میں صرف اپنا کام کروں گی۔ مجھے خوش رہنا ہے اور ہمیشہ اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنا ہے۔” پھر انہوں نے میری طرف رخ کرتے ہوئے کہا "مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ کی شخصیت ہمیشہ یکساں نہیں رہ سکتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ بھی بدل جاتے ہیں۔”

ایک غیر معمولی زندگی گزارنے کے بعد لگتا ہے کہ آخر کار انتخاب کے تمام مواقع ملالہ کے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ "آپ کو اپنا مستقبل تلاش کرنا ہوگا۔” اگر کوئی جانتا ہے کہ یہ کیسے کرنا ہے؟ تو وہ ملالہ ہے۔

مزید تحاریر

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا ، کچھ کام...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے