36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

پاکستان اور ریلوے حادثات، ایک بھیانک تاریخ

تازہ ترین

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...
- Advertisement -

سندھ کے ضلع گھوٹکی کی وجہ شہرت کیا ہے؟ کہنے کو تو یہاں کے پیڑے بہت مشہور ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کی سرحد کے ساتھ واقع یہ ضلع ایک ہی وجہ سے خبروں میں آتا ہے، وہ ہے ٹرین حادثات!

پیر اور منگل کی درمیانی شب اسی ضلع کے ریتی ریلوے اسٹیشن کے قریب ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا جا رہی تھی کہ اس کے چند ڈبے پٹری سے اتر گئے بلکہ دوسری طرف کی پٹری پر گر گئے جہاں کچھ ہی دیر میں راولپنڈی سے کراچی جانے والی سر سید ایکسپریس آ گئی۔ اس ہولناک تصادم میں اب تک 37افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور زخمیوں کی تعداد بھی 100 سے زیادہ ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف پاکستان ریلوے میں حادثات کی بھیانک تاریخ میں ایک نیا اضافہ ہے، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کئی بڑے واقعات ضلع گھوٹکی میں پیش آئے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ کو پاکستان ریلوے کی تاریخ کے ان چند بڑے حادثات کے بارے میں پڑھ کر ہوگا:

  • پاکستان میں ریل گاڑیوں کو پہلا بڑا حادثہ 21 جنوری 1954ء کو پیش آیا تھا۔ لاہور سے کراچی جانے والی ایک مسافر گاڑی ضلع ٹھٹہ میں جھمپیر اور براڈ آباد کے درمیان کھڑی ایک مال گاڑی سے جا ٹکرائی تھی، جس میں تیل لدا ہوا تھا۔ اس تصادم اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ سے کم از کم 60 افراد کی جانیں گئی تھیں۔
  • ‏29 ستمبر 1957ء پاکستان ریلوے کی تاریخ میں ہمیشہ ایک افسوس ناک دن کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ اس لاہور سے کراچی جانے والی ایک مسافر ٹرین پوری رفتار کے ساتھ اوکاڑہ کے نواح میں ایک ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے جا ٹکرائی تھی۔ اس واقعے میں 300 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ یعنی یہ آج بھی پاکستان ریلوے کے بڑے حادثات میں سے ایک ہے۔
  • ‏8 اگست 1972ء کو لیاقت پور کے مقام پر ایک حادثہ پیش آیا۔ کانٹے والے کی غلطی کی وجہ سے ایک ایکسپریس ٹرین سائیڈ پر موجود پٹری پر چلی گئی کہ جہاں ایک مال گاڑی پہلے سے کھڑی تھی۔ اس واقعے میں 60 افراد کی جانیں گئیں۔
  • ‏31 جولائی 1981ء کو کراچی سے پشاور جانے والی عوام ایکسپریس بہاولپور کے قریب پٹری سے اتر گئی، جس میں کم از کم 30 افراد جان سے گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ عید الفطر سے صرف چند روز پہلے پیش آیا تھا اور مسافروں کی اکثریت عید منانے کے لیے اپنے آبائی علاقوں کو جا رہی تھی۔

  • ‏90ء کی دہائی پاکستان ریلوے کے لیے سب سے مایوس کُن وقت تھا۔ 3 جنوری 1990ء کو روہڑی اور پنوعاقل کے درمیان سانگی کے مقام پر ایک ایسا حادثہ پیش آیا، جو آج بھی پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرین حادثہ ہے۔ ملتان سے کراچی جانے والی بہا الدین زکریا ایکسپریس کانٹے والے کی غلطی کی وجہ سے پوری رفتار سے غلط پٹری پر چلی گئی کہ جس پر پہلے سے ایک خالی مال گاڑی کھڑی تھی۔ یوں زکریا ایکسپریس تقریباً 60 کلومیٹرز فی گھنٹے کی رفتار سے اس مال گاڑی سے جا ٹکرائی۔ واقعے میں نتیجتاً 307 افراد کی جانیں گئیں اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ سانگی ریلوے اسٹیشن بھی ضلع گھوٹکی کے قریب ہی ہے اور اس کے اور گھوٹکی کے درمیان محض ایک ریلوے اسٹیشن پنو عاقل واقع ہے۔
  • گھوٹکی کے ریلوے اسٹیشن پر اگلے ہی سال ایک حادثہ پیش آیا جب کراچی سے راولپنڈی جانے والی ایک ایکسپریس ٹرین اس اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے جا ٹکرائی تھی، جس میں 100 افراد کی جانیں گئیں۔
  • یہی نہیں بلکہ 1992ء میں ایک مرتبہ پھر گھوٹکی ریلوے اسٹیشن پر ایک حادثہ ہوا، جس میں 54 افراد کی جانیں گئی اور واقعہ ہو بہو یہی تھا کہ مسافر ٹرین مال گاڑی سے جا ٹکرائی۔
  • ‏3 مارچ 1997ء کو کراچی سے پشاور جانے والی ایک ریل گاڑی کے بریک فیل ہو گئے، جسے روکنے کی کوشش کے دوران پانچ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ واقعے میں 110 افراد کی جانیں گئیں اور 150 زخمی ہوئے۔

  • ‏2005ء میں ایک مرتبہ پھر ضلع گھوٹکی میں ایک اور ہولناک حادثہ پیش آیا۔ شہر کے قریب واقع سرحد نامی ریلوے اسٹیشن پر کوئٹہ ایکسپریس ایک خرابی کی وجہ سے کھڑی تھی کہ پیچھے سے کراچی ایکسپریس آ گئی۔ ڈرائیوروں نے ایمرجنسی بریک لگا کر کراچی ایکسپریس کو روکنے کی پوری کوشش کی لیکن پھر بھی دونوں ریل گاڑیوں میں ٹکر ہو ہی گئی۔ جس کے نتیجے میں دونوں کے تین ڈبے پٹری سے اتر گئے اور دوسری طرف والی پٹری پر گر گئے۔ عین اسی وقت دوسری طرف سے تیز گام آ گئی، جس نے ان گرنے والے ڈبوں کو روند ڈالا۔ اس خوفناک حادثے میں کل 17 ڈبے بُری طرح تباہ ہوئے کہ جن میں 3,000 مسافر سوار تھے۔ اس واقعے میں کُل 150 افراد کی جانیں گئیں اور 1,000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔
  • ‏19 دسمبر 2007ء کو عید الاضحیٰ کے بعد لاہور سے کراچی جانے والی کراچی ایکسپریس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور رات کے 2 بجے محراب پور کے قریب سے گزر رہی تھی۔ اس وقت ریل گاڑی کی رفتار 100 کلومیٹرز فی گھنٹہ سے زیادہ تھی کہ اچانک غالباً پٹری خراب ہونے کی وجہ سے اس کے 16 میں سے 14 ڈبے پوری رفتار کے ساتھ پٹری سے اتر گئے۔ سرکاری اعداد و شمار میں تو اموات کی تعداد صرف 40 بتائی گئی، لیکن یہ تعداد اصل میں کہیں زیادہ تھی کیونکہ ریل گاڑی میں بہت زیادہ رش تھا۔
  • نومبر 2009ء میں کراچی کے نواح میں علامہ اقبال ایکسپریس کو ایک حادثہ پیش آیا، جس میں 18 افراد جاں بحق ہوئے۔ جمعہ گوٹھ ریلوے اسٹیشن کے قریب علامہ اقبال ایکسپریس کے ڈرائیور نے ایک سگنل کو نظر انداز کیا اور گاڑی اسی پٹری پر چلاتا رہا کہ جس پر ایک مال گاڑی پہلے سے آ رہی تھی۔ خوش قسمتی سے سامنے سے آنے والی گاڑی مال گاڑی کی رفتار بہت کم تھی اور خود علامہ اقبال ایکسپریس کے ڈرائیور نے بھی ایمرجنسی بریک لگا کر رفتار خاصی کم کر لی، ورنہ بہت بڑا حادثہ رونما ہوتا کیونکہ دونوں ریل گاڑیاں ایک ہی پٹری پر آمنے سامنے تھیں۔

  • ‏2 جولائی 2015ء کو پاک فوج کی ایک مسافر گاڑی گوجرانوالہ کے قریب ایک نہر میں جا گری۔ اس وقت ریل گاڑی میں 300 سے زیادہ مسافر سوار تھے، جن میں پاک فوج کی انجینئرنگ کور کے اراکین اور ان کے اہلِ خانہ موجود تھے۔ جامکے چٹھہ، گوجرانوالہ کے قریب چناواں پُل گرنے سے ریل گاڑی کے کئی ڈبے پٹری سے اتر گئے کہ جن میں سے ایک ڈبہ نہر میں بھی جا گرا۔ پاک فوج نے 19 افراد کے جاں بحق  ہونے اور 100 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ جاں بحق ہونے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل، ان کی اہلیہ اور دو بچوں سمیت کئی عہدیدار شامل تھے۔
  • ‏17 نومبر 2015ء کو راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کو آبِ گم ریلوے اسٹیشن کے قریب حادثہ پیش آیا۔ یہ ریلوے اسٹیشن سبی سے کوئٹہ جاتے ہوئے مچھ سے پہلے آتا ہے جہاں جعفر ایکسپریس کی 4 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ واقعے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق ہوئے اور 96 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی۔ ریلوے حکام کے بعد انجن کے بریک فیل ہو گئے تھے۔

  • تقریباً 2 سال بعد 3 نومبر 2017ء کو کراچی کے قریب لانڈھی ریلوے اسٹیشن پر ایک حادثہ پیش آیا۔ لاہور سے کراچی آنے والی فرید ایکسپریس اس ریلوے پر کھڑی تھی، جب ملتان سے کراچی آنے والی بہا الدین زکریا ایکسپریس پیچھے سے آ کر اس سے ٹکرا گئی۔ تحقیقات کے مطابق یہ حادثہ زکریا ایکسپریس کے ڈرائیوروں کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا کہ جنہوں نے سگنل کو نظر انداز کیا کہ جس میں انہیں رفتار کم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن زکریا ایکسپریس اچھی خاصی رفتار سے پہلے سے کھڑی فرید ایکسپریس سے جا ٹکرائی، جس سے فرید ایکسپریس کے دو اور زکریا ایکسپریس کا ایک ڈبا مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ حادثے میں کم از کم 21 افراد جاں بحق اور 65 زخمی ہوئے۔

  • ماضی قریب میں سب سے افسوس ناک واقعہ 31 اکتوبر 2019ء کو پیش آیا۔ یہ صبح 6 بجے کے وقت تھا جب تیز گام کراچی سے لاہور جا رہی تھی، جس میں 933 مسافر سوار تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں جانے والے افراد کی اچھی خاصی تعداد بھی موجود تھی۔ رحیم یار خان کے قریب اچانک چلتی گاڑی کے ایک ڈبے میں آگ لگ گئی۔ لیکن زنجیر کھینچنے کے باوجود ریل گاڑی نے رکنے کا نام ہی نہیں لیا اور چلتی رہی، جس سے یہ آگ مزید پھیلی اور 20 منٹ بعد گاڑی روک پر آگ پر قابو پایا گیا۔ اس ہیبت ناک حادثے میں 75 افراد کی جانیں گئیں کہ جن میں سے 57 کی لاشیں تک ناقابلِ شناخت ہو چکی تھیں، جنہیں بعد ازاں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کیا گیا۔ سرکاری عہدیداروں نے الزام لگایا تھا کہ تبلیغی جماعت کے اراکین قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صبح سویرے دو چولہوں پر چائے بنا رہے تھے کہ اچانک ایک چولہا پھٹ گیا اور اس سے بوگی میں آگ لگ گئی۔

اس مایوس کن تاریخ سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ پاکستان ریلوے کے عملے کی نااہلی حادثات کا سب سے بڑا سبب ہے۔ کبھی ڈرائیور کی غفلت اور کبھی کانٹے بدلنے والے کی نا اہلی نے ایسے حادثات کو جنم لیا کہ جس کے اثرات ملک بھر کے کئی خاندانوں بلکہ ان کی نسلوں تک پڑے۔

مزید تحاریر

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے