35.3 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

اسرائیلی کمپنی اور اس کی فون ہیک کرنے والی جدید ٹیکنالوجی

تازہ ترین

بجٹ پاس نہیں ہوا تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت زمین بوس ہوجائے گی، اعتزاز احسن

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 1985 کی اسمبلی اس ملک کی بربادی کی...

3 مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف کاش ایسا ہسپتال بنالیتے جس پر انہیں یقین ہوتا، اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف ضمانتی تھے تو کاش وہ نواز شریف کو بھی پاکستان واپس...

دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ہیرا دریافت

افریقہ کے ملک بوٹسوانا میں ایک کمپنی نے 1,098 قیراط کا ہیرا دریافت کیا ہے، جسے اپنی نوعیت کا دنیا کا تیسرا سب سے...

اس گرمی میں کہاں جائیں؟ آپ کے لیے 10 بہترین سیاحتی مقامات

پاکستان کے بیشتر میدانی علاقوں میں اِس وقت شدید گرمی پڑ رہی ہے سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں سے لے کر شمال میں جہاں...
- Advertisement -

عمارت کے داخلی دروازے پر کوئی نشان موجود نہیں، نہ ہی کوئی علامت جو ظاہر کرتی ہو کہ یہ دراصل ایک سائبر کمپنی کا دفتر ہے۔ لیکن اگر کسی طرح تل ابیب کے نواحی علاقے میں واقع اس ‘نامعلوم’ عمارت کی 19 ویں منزل تک پہنچ جائیں تو آپ کی چھٹی حس آپ کو ضرور خبردار کر دے گی کہ یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس عمارت میں کوریئرز کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے اور ملازمین کی جانب سے آرڈر کیا گیا کھانا بھی ایک خصوصی ڈبے میں رکھا جاتا ہے، جہاں سے اسے وہی شخص اٹھا سکتا ہے جسے اجازت دی گئی ہے۔

یہ ہے تل ابیب کے علاقے رمات گن میں واقع کواڈریم (Quadream) کا دفتر۔ اسرائیلی اخبار ‘ہارٹز’ کے مطابق اس سائبر کمپنی کا نام انٹرنیٹ پر سرچ کرنے پر بھی آن لائن کچھ خاص مواد نہیں ملتا۔ یہ ایک خطرناک سائبر کمپنی ہے جو موبائل فونز میں داخل ہونے اور انہیں ہیک کرنے کا کام کرتی ہے۔ یہ ایسے صارفین کو ٹیکنالوجی پیش کرتی ہے جو اسمارٹ فونز سے ڈیٹا نکالنا چاہتے ہیں اور اپنے کلائنٹس کو یہ سہولت تک دیتی ہے کہ وہ دُور بیٹھے جاسوسی کے آلات کے ذریعے ان فونز کو بند کر دیں۔

اس ٹیکنالوجی میں اسرائیل دنیا کا نمایاں ترین ملک ہے اور ایسی سروسز برآمد کرنے والے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے والے ممالک میں صرف جمہوریتیں ہی شامل نہیں کہ جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے جرائم روکنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ یہ سعودی عرب تک کو فراہم کی جاتی ہے کہ جہاں بادشاہت ہے اور اسرائیل اور اس کے ہمنوا ممالک اسے مشرق وسطیٰ میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کرنے والے ملکوں میں شمار کرتے ہیں۔

لیکن کواڈریم سعودی عرب میں کام کرنے والا واحد اسرائیلی ادارہ نہیں ہے۔ ایک اور متنازع ہیکنگ کمپنی NSO بھی سعودی عرب کے ساتھ کاروبار کر رہی ہے اور ایسی ہی خدمات فراہم کرتی ہے۔

کواڈریم 2016ء میں تین اسرائیلیوں نے بنائی تھی۔ بانی گائے گیوا اور نمرود ریزنک کمپنی کے ٹیکنالوجی معاملات دیکھتے ہیں اور دونوں کواڈریم بنانے سے پہلے سائبر انڈسٹری میں کام کا تجربہ رکھتے ہیں۔ تیسرے بانی کا پسِ منظر ذرا مختلف ہے، ان کا نام ایلن ڈیبل سٹائن ہے، جو اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس میں سینئر عہدیدار کی حیثیت سے کئی سال کام کر چکے ہیں۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا نام ایوی ربینووِچ ہے۔

اخبار ‘ہارٹز’ نے کمپنی کی جانب سے متوقع کلائنٹس کے لیے بنائی ایک سیلز پریزنٹیشن حاصل کی ہے، جس سےانکشاف ہوا ہے کہ کواڈریم اپنی سروسز بیرونِ ملک فروخت کرنے کے لیے قبرص میں موجود ایک کمپنی کا استعمال کرتا ہے، جس کا نام ‘اِن ریچ ‘ (InReach) ہے۔ اس پریزنٹیشن کے مطابق کمپنی کا مین ہیکنگ ٹول رائن (Reign) کہلاتا ہے جو ایسا وائرس ہے جو ہدف پر موجود فونز کو متاثر کرتا ہے۔

پریزنٹیشن دعویٰ کرتی ہے کہ Reign آئی فونز میں زیرو-کلک صلاحیت رکھتا ہے۔ یعنی فون کو متاثر کرنے کے لیے مالک کے ایک کلک تک کی ضرورت نہیں، جو عموماً ایسے وائرسز کو درکار ہوتی ہے۔ ایسے موبائل جو اینڈرائیڈ سے چلتے ہیں، ان کو بھی Reign کے ذریعے ہیک کیا جا سکتا ہے ، لیکن انہیں کسی حد تک فون کے مالک کی جانب سے لنک پر کلک کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

پریزنٹیشن کے مطابق ایک مرتبہ Reign سے متاثر ہونے کے بعد سافٹ ویئر فون سے کسی بھی قسم کا ڈیٹا نکال سکتا ہے۔ مثلاً Reign فون پر محفوظ کوئی بھی ڈاکیومنٹ یا ڈیٹا اٹھا سکتاہے، جن میں تصاویر، وڈیو، ای میل، واٹس ایپ میسیجز یا ٹیلی گرام جیسی میسیجنگ ایپس کے پیغامات تک شامل ہیں۔ بلکہ یہی نہیں یہ کیمرے کو بھی دُور بیٹھے آپریٹ کر سکتا ہے، ساتھ ہی فون کے مائیکروفون کا استعمال کر کے باتیں بھی سُن سکتا ہے یا GPS کھول کر فون استعمال کرنے والے کی لوکیشن بھی جان سکتا ہے۔

اپنے فرنٹ سیلز آفس کی حیثیت سے قبرص کی کمپنی کے استعمال کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کواڈریم اسرائیل کے دفاعی برآمدات کے قوانین کی نگرانی میں نہ آئے۔ اسرائیل میں دفاعی ماہرین اپنے شعبے کی برآمدات کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ اسرائیلی ٹیکنالوجی کسی غلط ہاتھ میں نہ جائے اور کسی غیر قانونی کام میں استعمال نہ ہو۔

کواڈریم کے بارے میں معلومات رکھنے والے ذرائع کہتے ہیں کہ NSO کے مقابلے میں کہ جسے ایسی نگرانی کا سامنتا ہوتاہے، اِن ریچ کی ٹیکنالوجی کو دور سے بیٹھے بیٹھے بند نہیں کیا جا سکتا۔ NSO کے سافٹ ویئر میں یہ اہلیت ہوتی ہے کہ اگر شرائط کی خلاف ورزی کی جائے اور اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہ سافٹ ویئر خود بخود ختم ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کواڈریم میں ایسی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ حال ہی میں ایک غیر ملکی حکومت کو دکھائی گئی سیلز پریزنٹیشن میں اس بات کا ذکر سرے سے نہیں ہے کہ اِن ریچ کو دور بیٹھے بند کیا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ ضرور تھا، بلکہ بار بار اس کا ذکر کیا گیا کہ یہ ٹیکنالوجی صرف قانونی مقاصد کے لیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے استعمال کی جائے۔ ذرائع کے مطابق دونوں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ کواڈریم کی سروسز NSO کی خدمات کے مقابلے میں نسبتاً سستی ہیں۔

ستمبر 2020ء میں افریقہ کے ملک گھانا سے ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ سائبر انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے 14 افراد ملک کے دورے پر آئے ہیں۔ خبروں کے مطابق ان میں سے چند کا تعلق کواڈریم سے بھی تھا۔ یہ تمام لوگ گھانا کے صدر نانا اکوفو-ایڈو کی دعوت پر آئے تھے۔ جو دسمبر 2020ء میں انتخابات کی تیاریاں کر رہے تھے، جو بالآخر انہوں نے جیتے بھی۔

اخبار ‘ہارٹز’ اس رپورٹ کے دو اہم پہلوؤں کی تصدیق کرتا ہے، پہلا یہ کہ کواڈریم کا عملہ واقعی گھانا آیا تھا اور دوسرا یہ کہ کواڈریم نے گھانا کی حکومت کے ساتھ مل کر کام بھی کیا۔ البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے کس کام کے لیے گھانا کا دورہ کیا اور آخر کس منصوبے پر کام کیا گیا تھا۔ ہارٹز یہ بھی کہتا ہے کہ کواڈریم نے اپنی خدمات انڈونیشیا کی ایک سرکاری ایجنسی کو بھی فراہم کی ہیں۔

مزید تحاریر

بجٹ پاس نہیں ہوا تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت زمین بوس ہوجائے گی، اعتزاز احسن

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 1985 کی اسمبلی اس ملک کی بربادی کی...

3 مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف کاش ایسا ہسپتال بنالیتے جس پر انہیں یقین ہوتا، اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف ضمانتی تھے تو کاش وہ نواز شریف کو بھی پاکستان واپس...

دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ہیرا دریافت

افریقہ کے ملک بوٹسوانا میں ایک کمپنی نے 1,098 قیراط کا ہیرا دریافت کیا ہے، جسے اپنی نوعیت کا دنیا کا تیسرا سب سے...

اس گرمی میں کہاں جائیں؟ آپ کے لیے 10 بہترین سیاحتی مقامات

پاکستان کے بیشتر میدانی علاقوں میں اِس وقت شدید گرمی پڑ رہی ہے سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں سے لے کر شمال میں جہاں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے