25.5 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

12 بوگیوں کا پٹری سے اترنا حادثے کا سبب بنا جو تاریخ میں دوسری مرتبہ ہوا، وزیر ریلوے

تازہ ترین

3 مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف کاش ایسا ہسپتال بنالیتے جس پر انہیں یقین ہوتا، اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف ضمانتی تھے تو کاش وہ نواز شریف کو بھی پاکستان واپس...

دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ہیرا دریافت

افریقہ کے ملک بوٹسوانا میں ایک کمپنی نے 1,098 قیراط کا ہیرا دریافت کیا ہے، جسے اپنی نوعیت کا دنیا کا تیسرا سب سے...

اس گرمی میں کہاں جائیں؟ آپ کے لیے 10 بہترین سیاحتی مقامات

پاکستان کے بیشتر میدانی علاقوں میں اِس وقت شدید گرمی پڑ رہی ہے سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں سے لے کر شمال میں جہاں...

پارکس اور گراؤنڈ پر جو ہزاروں گھر بن چکے ہیں، انہیں گرانے کی ہماری ہمت نہیں، سعید غنی

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں کہ ہم کام نہیں کرتے، سندھ میں...
- Advertisement -

وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جس جگہ ٹرین کا حادثہ ہوا، ادھر ٹریک کی خرابی کے امکانات بہت کم ہیں، 60 ارب روپے میں ریلوے ٹریک بنانے جارہا ہوں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2014 کے بعد سے اب تک مین لائن ٹرین پر کوئی بڑا خرچہ نہیں کیا گیا۔ سکھر ریلوے ٹریک کو کئی مرتبہ خطرناک ٹریک قرار دے چکا ہوں، یہی وجہ ہے کہ اس ٹریک پر ٹرینوں کی رفتار کم کرنے کی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ کوچز بھی 50 سال پرانی ہیں، ٹریک ٹھیک کرنے کے لیے کوئی نئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے، ہمیں پرانے طریقوں سے ہی ٹریک کی مرمت کرنی پڑتی ہے۔

گھوٹکی ٹرین حادثے کے حوالے سے اعظم سواتی نے بتایا کہ اب تک  63 افراد جاں بحق اور 20 اب تک ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ 3 کی حالت تشویش ناک ہے۔ حادثہ پیش آنے کے فوراً بعد خود جاکر حالات کا جائزہ لیا اور ٹریک کی بحالی تک وہیں موجود تھا۔ واقعے کی تحقیقات میں 3 سے 4 ہفتے لگیں گے جس کے بعد تمام چیزیں کھل کر سامنے آجائیں گی۔ 12 بوگیوں کا پٹری سے اترنا حادثے کا سبب بنا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں دوسری بار ہوا ہے۔ ہم اس کے اسباب جاننے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جب سر سید ایکسپریس ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اتریں تو کچھ ہی منٹ بعد دوسری ٹرین آگئی جس کے باعث مسافروں کو اپنی جان بچانے کا وقت نہ مل سکا۔ یہی وجہ ہے کہ 63 افراد جان کی بازی ہار بیٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹرین کو اسٹارٹ کرکے حرکت میں لانے میں تقریباً 45 منٹ کافی ہوتے ہیں لیکن ریسکیو ٹرین 2 سے ڈھائی گھنٹے تاخیر سے پہنچی۔ اس کے ذمہ داروں کا بھی تعین کیا جائے گا۔ کچھ مسافروں نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ٹرین جب کراچی سے چلی تو اس کے ڈبے ہل رہے تھے۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ ٹرین حادثے میں مرنے والوں کو 15 لاکھ روپے اور زخمی ہونے والوں 3 لاکھ تک معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران ان سے متاثرین کی مزید امداد کرنے کی بات کروں گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 60 ارب روپے میں ریلوے ٹریک بنانے جارہا ہوں، انسانی جانیں بچانے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے تاہم ریلوے کی مکمل اپ گریڈیشن کے لیے مجھے 620 ارب روپے چاہیئے ہوں گے۔

مزید تحاریر

3 مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف کاش ایسا ہسپتال بنالیتے جس پر انہیں یقین ہوتا، اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف ضمانتی تھے تو کاش وہ نواز شریف کو بھی پاکستان واپس...

دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ہیرا دریافت

افریقہ کے ملک بوٹسوانا میں ایک کمپنی نے 1,098 قیراط کا ہیرا دریافت کیا ہے، جسے اپنی نوعیت کا دنیا کا تیسرا سب سے...

اس گرمی میں کہاں جائیں؟ آپ کے لیے 10 بہترین سیاحتی مقامات

پاکستان کے بیشتر میدانی علاقوں میں اِس وقت شدید گرمی پڑ رہی ہے سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں سے لے کر شمال میں جہاں...

پارکس اور گراؤنڈ پر جو ہزاروں گھر بن چکے ہیں، انہیں گرانے کی ہماری ہمت نہیں، سعید غنی

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں کہ ہم کام نہیں کرتے، سندھ میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے