36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

پی ایس ایل 6، کون کتنے پانی میں؟

تازہ ترین

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...
- Advertisement -

پاکستان سپر لیگ کے چھٹے سیزن کا آغاز آج یعنی بدھ سے ایک مرتبہ پھر ہونے جا رہا ہے۔ رواں سال بھی کرونا وائرس کی وجہ سے 14 میچز کھیلے جانے کے بعد سیزن ملتوی ہو گیا تھا۔ البتہ انتظامیہ کی بھرپور کوششوں اور کاوشوں سے اب باقی ماندہ میچز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی میں کھیلے جا رہے ہیں۔

اب تک کھیلے گئے مقابلوں کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر کیا پوزیشن ہے؟ آئیے اس حوالے سے ایک نظر تمام ٹیموں پر ڈالتے ہیں:

کراچی کنگز

کراچی کنگز رواں سال دفاعی چیمپئن اور اپنے پانچ میں سے تین میچز جیتنے کے بعد 6 پوائنٹس اور بہتر نیٹ رن ریٹ کی بدولت پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آگے ہے۔

گو کہ ٹیبل پر موجود ٹاپ چاروں ٹیموں کے پوائنٹس چھ، چھ ہیں لیکن کراچی کو کوئٹہ کے خلاف شاندار کامیابی کی بدولت بہترین نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے سب پر برتری حاصل ہے۔ کراچی نے کوئٹہ کو صرف 121 رنز پر ڈھیر کرنے کے بعد ہدف 14 ویں اوور ہی میں حاصل کر لیا تھا۔

لیکن شرجیل خان کی ایک اور سنچری کے باوجود اگلے مقابلے میں اسے اسلام آباد یونائیٹڈ کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ البتہ تیسرے میچ میں کامیابی کے ساتھ کنگز کا سانس بحال ہو گیا۔ چوتھا مقابلہ روایتی حریف لاہور قلندرز کے خلاف تھا جو کراچی کے لیے مایوس کن ثابت ہوا کیونکہ وہ 186 رنز کا دفاع بھی نہیں کر سکا۔ لاہور کو آخری دو اوورز میں 30 رنز کی ضرورت تھی جب ڈیوڈ ویزے کے چھکوں نے قلندرز کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور کنگز زہر کا گھونٹ پی کر رہ گئے۔

پانچویں میچ میں کراچی نے پشاور زلمی کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر اپنا غصہ اتارا۔ 189 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بابر اعظم اور محمد نبی کی شاندار بلے بازی نے اہم کردار ادا کیا۔

لیکن اب کراچی کو محمد نبی، ڈین کرسچن اور جو کلارک کی خدمات حاصل نہیں اس لیے بیٹنگ لائن میں بابر اعظم اور شرجیل خان پر دباؤ زیادہ ہوگا۔ اگر کسی میچ میں دونوں نہیں چلے تو کمزور مڈل آرڈر کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس لیے کراچی کو اگلے مقابلوں میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوں گے۔

پشاور زلمی

پشاور زلمی رواں سیزن میں اپنی اب تک کی کارکردگی سے بہت خوش ہوگا، خاص طور پر اگر تقابل پی ایس ایل 2020ء سے کیا جائے تو کہ جب وہ چوتھے نمبر پر آیا تھا۔

زلمی بلاشبہ پی ایس ایل کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتی ہے اور پہلے چار میں سے تین سیزنز میں وہ گروپ مرحلے میں پوائنٹس ٹیبل پر نمبر ایک رہا اور مسلسل تین سال فائنل میں بھی پہنچا، جن میں سے 2017ء میں اسے کامیابی بھی ملی اور وہ چیمپئن بنا۔

رواں سال پشاور کے لیے سیزن کا آغاز اچھا نہیں تھا کیونکہ اسے لاہور قلندرز کے خلاف پہلے میچ میں شکست ہوئی تھی۔ لیکن اس کے بعد مسلسل تین فتوحات نے اس کے حوصلے بلند کر دیے ہوں گے۔ جن میں ملتان کے خلاف 194 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ یہی نہیں بلکہ اپنے روایتی حریف کوئٹہ کے خلاف اگلے مقابلے میں 199 رنز کا ہدف بھی حاصل کر لیا کہ جہاں آخری دو اوورز میں 27 رنز درکار تھے۔

چوتھے میچ میں اس نے اسلام آباد کو صرف 118 رنز پر ڈھیر کر کے با آسانی کامیابی حاصل کی اور کراچی کنگز کے خلاف میچ جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر نمبر ون بننے کا خواہش مند تھا لیکن کراچی نے اس میچ میں شاندار کارکردگی دکھائی اور چھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر لی۔

انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے روی بوپارا، لیام لوِنگسٹن اور ٹام کولر-کیڈمور اس بار ٹیم کا حصہ نہیں ہیں البتہ ٹیم میں اب بھی خاصا دم نظر آتا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ

اسلام آباد یونائیٹڈ تاریخ کی واحد پی ایس ایل ٹیم ہے جس نے دو مرتبہ ٹائٹل جیتا ہے اور پچھلے سیزن کی بھیانک کارکردگی کے بعد اِس بار بلند حوصلوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ اسلام آباد نے اب تک چار میچز کھیلے ہیں اور انہی میں چھ پوائنٹس حاصل کر چکا ہے۔ پہلے میچ میں ملتان کے خلاف آخری اوور میں درکار 20 رنز حاصل کیے اور زبردست کامیابی حاصل کی۔ پھر کراچی کے خلاف 197 رنز کا ہدف حاصل کیا۔ البتہ وہاب ریاض کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور پشاور کے ہاتھوں صرف 118 رنز پر ڈھیر ہو کر بری طرح شکست کھائی۔ لیکن کوئٹہ کے خلاف چھ وکٹوں سے کامیابی نے اسے ایک مرتبہ پھر بہتر پوزیشن پر پہنچا دیا ہے۔

جتنے پوائنٹس کراچی اور پشاور نے پانچ، پانچ میچز میں حاصل کیے، اسلام آباد چار مقابلوں میں ہی وہاں تک پہنچ چکا ہے اور اگلے میچ میں کامیابی اسے ٹاپ پوزیشن پر پہنچا سکتی ہے۔

گو کہ اسلام آباد کو اب ایلکس ہیلز اور پال اسٹرلنگ کی خدمات میسر نہیں لیکن کولن منرو اور عثمان خواجہ کی آمد سے ٹیم بھرپور نظر آتی ہے۔

لاہور قلندرز

اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھیں تو لاہور قلندرز پی ایس ایل تاریخ کی ناکام ترین ٹیم ہے، جس کی کامیابی کی شرح 40 فیصد بھی نہیں ہے۔ لیکن گزشتہ سیزن سے قلندرز کو "حال” آیا ہوا ہے کہ جس میں وہ فائنل تک پہنچے اور رواں سال بھی مہم کا اچھا آغاز کیا ہے۔

لاہور نے چھٹے سیزن کا آغاز پشاور زلمی کے خلاف کامیابی سے کیا، جو تاریخ میں پہلا سیزن بنا ہے جس میں قلندروں نے فتح کے ساتھ سیزن کی شروعات کی ہو۔ پھر کوئٹہ کے خلاف فخر زمان اور محمد حفیظ کی طوفانی بیٹنگ کی بدولت ملنے والی ایک اور کامیابی پائی لیکن ‘پنجاب ڈربی’ میں ملتان کے ہاتھوں شکست سے یہ پیش رفت رک گئی۔

البتہ اس کا ‘سب سے بڑے میچ’ پر کوئی اثر نہیں پڑا، یعنی کراچی-لاہور ٹاکرے پر۔ جہاں 186 رنز کے تعاقب میں لاہور کو آخری دو اوورز میں 30 رنز کی ضرورت تھی بلکہ آخری اوور میں 20 رنز درکار تھے۔ یہاں ڈیوڈ ویزے کا جادو چلا اور انہوں نے قلندروں کو کامیاب و کامران کر دیا۔

چار میچز میں تین فتوحات بلاشبہ بہت اچھی کارکردگی ہے اور اسلام آباد کی طرح وہ بھی اگلے میچ میں کامیابی کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر آ سکتے ہیں۔

پھر لاہور کے لیے مزید اچھی خبر یہ ہے کہ ‘فخرِ افغانستان’ راشد خان ٹیم میں واپس آ گئے ہیں اور ابو ظبی کی سست وکٹوں پر لاہور کو ان کی آمد سے بہت حوصلہ ملے گا۔ یہی نہیں بلکہ جیمز فاکنر، کیلم فرگوسن، جو برنس اور ٹم ڈیوڈ کی خدمات حاصل ہونے سے ڈیوڈ ویزے اور جو ڈینلی کی غیر موجودگی کا ازالہ بھی ہوتا نظر آتا ہے۔

ملتان سلطانز

قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ پچھلے سال یعنی 2020ء کے سیزن میں ملتان سلطانز پوائنٹس ٹیبل پر نمبر وَن تھا، لیکن کوالیفائر اور ایلی منیٹر دونوں میں شکست کھائی اور ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔

رواں سال اسلام آباد کے خلاف محمد رضوان کی عمدہ بیٹنگ نے سلطانز کو 150 رنز کا ہندسہ تو عبور کروا دیا لیکن آخری اوور میں سہیل تنویر کی مایوس کن باؤلنگ نے انہیں جیتا ہوا میچ ہروا دیا۔ جیمز وِنس اور رضوان کی طوفانی بلے بازی کے باوجود پشاور کے خلاف دوسرے میچ میں بھی ملتان کو شکست کا منہ دیکھنا پڑے۔

اگلے میچ میں قلندرز کا سامنا تھا، جہاں ایک مرتبہ پھر رضوان چلے اور صہیب مقصود نے بھی بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور یوں ملتان کو سیزن کی پہلی، اور اب تک کی واحد، کامیابی ملی۔

کراچی کے خلاف میچ میں 11 اوورز میں صرف 1 وکٹ پر 122 رنز بنانے کے باوجود ملتان فاتحانہ اسکور نہ بنا پایا اور کراچی نے ہدف کا تعاقب کر کے اسے پچھاڑ دیا۔

پھر کوئٹہ کو 176 رنز پر محدود کرنے کے بعد ملتان کامیابی حاصل کر سکتا تھا کیونکہ تب تک سیزن کے تمام ہی میچز میں ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیم جیتی تھی۔ لیکن اچھے آغاز کے باوجود صرف رضوان ہی کچھ مقابلہ کر پائے اور ملتان 22 رنز سے ہار گیا اور اس کے ساتھ ہی کرونا وائرس سے سیزن کو معطل کر دیا۔

اب باقی ماندہ سیزن میں ملتان کو شاہد آفریدی کی کمی تو بہت شدت سے محسوس ہوگی، لیکن انہیں محمد رضوان اور شاہنواز ڈاہانی سے بڑی امیدیں ہیں۔ البتہ صورتِ حال اچھی نہیں ہے، پانچ میچز میں صرف ایک کامیابی کے بعد ان کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

کوئٹہ 2019ء کا چیمپئن ہے اور پہلے چار سیزنز میں سے تین میں فائنل تک پہنچنے والی ٹیم، لیکن پچھلے سال پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نیچے رہا۔ پی ایس ایل کے پاکستان منتقل ہوتے ہی کوئٹہ کی حالت قابلِ رحم ہو گئی ہے اور اس نے گزشتہ 11 میچز میں سے صرف 2 میں کامیابی حاصل کی ہے۔

رواں سال اس نے افتتاحی مقابلے میں کراچی کے ہاتھوں بدترین شکست کھائی۔ پھر لاہور سے مقابلہ تو خوب کیا لیکن 178 رنز کا دفاع نہیں کر سکا۔ یہاں تک کہ پشاور زلمی کے خلاف تو 198 رنز بنانے کے باوجود ہار گیا۔ پھر اسلام آباد یونائیٹڈ کے ہاتھوں شکست کھا کر سیزن میں مسلسل چوتھا میچ ہارا۔ بس آخر میں ملتان کے خلاف ہدف کا کامیابی سے دفاع کر کے سب کو حیران کر دیا کیونکہ سیزن میں اس سے پہلے کوئی ٹیم اپنے اسکور کا کامیابی سے دفاع نہیں کر پائی تھی۔

کوئٹہ کو اب تک بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور مجموعی طور پر کارکردگی مایوس کن ہے۔ لیکن عرب امارات ان کے لیے ‘لکی’ ہے، جہاں ان کی میچز میں کامیابی کی شرح کسی بھی دوسری ٹیم سے زیادہ ہے۔ تو کیا پی ایس ایل کی امارات واپسی کوئٹہ کے لیے قسمت کے دروازے کھول دے گی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن بظاہر یہ آسان نہیں لگتا کیونکہ کوئٹہ ٹام بینٹن، کرس گیل اور بین کٹنگ کی خدمات سے محروم ہو چکا ہے۔

تو آج اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے مقابلے کے ساتھ سلسلہ وہیں سے جڑ جائے گا، جہاں سے ٹوٹا تھا۔ جو بھی ٹیم جیتی وہ پوائنٹس ٹیبل پر پہلے نمبر پر آئے گی اور ساتھ ہی سیزن کا نصف حصہ مکمل ہو جائے گا۔ باقی ماندہ مقابلوں پر متحدہ عرب امارات کی گرمی، رات کے اوقات میں اوس، نئے کھلاڑیوں کی کارکردگی اور دیگر بہت سے عوامل اہم کردار ادا کریں گے۔ دیکھتے ہیں کہ 19 جون کو جب پہلا مرحلہ مکمل ہوگا تو پوائنٹس ٹیبل پر کون کہاں پہنچا ہے۔

مزید تحاریر

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے