36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

گرمی کی شدید لہر، یہ احتیاطی تدابیر لازماً اختیار کریں

تازہ ترین

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...
- Advertisement -

آجکل پاکستان کا بیشتر حصہ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور گزشتہ چند روز سے سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میدانی علاقوں میں تو قیامت خیز گرمی پڑ رہی ہے اور گرمی کی اس لہر کا دائرہ پہاڑی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ بدھ کی دوپہر پشاور میں درجہ حرارت 47 درجہ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اسلام آباد میں 41 بلکہ مری تک میں 36 ڈگری تھا۔

وفاقی دار الحکومت میں تو گزشتہ کئی روز سے پارا 40 درجہ سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آیا۔ اس صورتِ حال میں لُو لگ جانے اور طبیعت بگڑ جانے کا خطرہ ہوتا ہے خاص طور پر شیر خوار بچوں، لڑکوں، لڑکیوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین، دل کے امراض، بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) یا پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کو۔ ان کے علاوہ ذہنی مسائل سے دوچار اور اس سے چھٹکارے لیے ادویات استعمال کرنے والے افراد اور 65 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ بھی خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر بچوں کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر آج مختلف تصاویر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں اسکول جانے والے بچوں کو گرمی سے بے ہوش ہوتے یا ان کی نکسیر پھوٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں کے جسم سے نمکیات بہت جلدی ختم ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں وقفے وقفے سے بار بار پانی دینا چاہیے، ہلکے پھلکے کپڑے پہنانے چاہئیں اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ہو سکتا ہے بڑوں کے مقابلے میں بچوں میں لُو لگنے کی علامات جلد ظاہر نہ ہوں لیکن ان کی طبیعت بگڑ سکتی ہے اور ان کے چڑچڑے پن سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چھوٹے بچے جو بول نہیں سکتے ان کی جلد کا خشک ہونا یا پانی پینے سے انکار کرنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ انہیں شدید گرمی لگ رہی ہے یا پھر ان کے ڈائپرز بار بار بدلنے کی ضرورت پیش نہ آئے تو بھی یہ ایک علامت ہے۔

انتہائی گرم موسم میں دودھ پینے والے بچوں کا دودھ بڑھا دیں۔ دودھ پلانے والی ماؤں کو چاہیے کہ بچوں کو زیادہ پانی پلائیں اور خود بھی زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں۔

دن کے انتہائی گرم اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو چند احتیاطی تدابیر اختیار کریں، مثلاً خوب پانی پی کر جائیں، دھوپ کے چشمے اور ٹوپی کا استعمال کریں۔ اگر گرمی زیادہ ہو تو گیلے تولیے اپنے سر اور گردن پر رکھیں۔ ٹھنڈے پانی میں پیر رکھ کر یا نہا کر بھی جسمانی درجہ حرارت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

کوشش کریں کہ دن کے اوقات میں گھر کی سب سے نچلی منزل پر رہیں۔ پردے وغیرہ بند رکھیں تاکہ دھوپ نہ آئے اور جب ٹھنڈی ہوا چلنا شروع ہو تو کھڑکیاں کھول دیں۔

کوشش کریں کہ گھر سے باہر اس وقت نکلیں جب موسم نسبتاً بہتر ہو اور دھوپ میں چلنے سے گریز کریں۔ چھتری کا استعمال بھی آپ کو براہِ راست دھوپ سے بچا سکتا ہے۔

سخت گرمی کے موسم میں کوشش کریں کہ کھانا کم اور ہلکا پھلکا کھائیں۔ دہی، لسی، رائتے اور سلاد وغیرہ کا استعمال کریں۔ کیفین والے مشروبات مثلاً چائے، کافی وغیرہ سے اجتناب کریں۔ کھانے میں بھی نمک کی مقدار کم رکھیں۔

گدوں پر موٹی سوتی چادریں ڈالیں تاکہ ان کی گرمی سے جسم پر دانے نہ نکل آئیں۔ بہت نرم گدے اور تکیے استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔

ایسی چھوٹی موٹی احتیاط آپ کو کسی بڑے مسئلے سے بچا سکتی ہیں کیونکہ ‘ہیٹ ویو’ بہت خطرناک ہوتی ہے۔ 2015ء میں کراچی میں آنے والی گرمی کی لہر میں 1,500 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 40 ہزار سے زیادہ افراد لو لگنے کی وجہ سے بیمار پڑ گئے تھے۔ اگر آپ کو گرمی کی وجہ سے سانس لینے میں تکلیف محسوس ہو، دل کی دھڑکن بے ترتیب لگے، پسینہ آنا بند ہو جائے، متلی اور قے کی کیفیت ہو اور غشی کے دورے پڑنے لگیں، سر میں درد ہو اور جلد گرم اور سرخ ہو جائے تو یہ لو لگ جانے کی واضح علامات ہیں۔ ایسی صورت میں فوراً قریبی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

 

مزید تحاریر

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے