36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

‏19 سالہ لڑکی، جس نے ارب پتی بننے کے لیے دنیا بھر کو بے وقوف بنایا

تازہ ترین

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...
- Advertisement -

یہ ایلزبتھ ہومز ہیں، جو اسٹیو جابس بننا چاہتی تھیں، یہاں تک کہ کپڑے بھی انہی کے جیسے پہنتی تھیں یہاں تک کہ وہ تاریخ کی کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی خاتون بھی بن گئیں لیکن ان کا طب کی دنیا میں "انقلاب” دراصل ایک دھوکا تھا اور اب جبکہ اس کا پردہ چاک ہو چکا ہے تو ایلزبتھ کو 20 سال قید اور لاکھوں ڈالرز جرمانے کا سامنا ہے۔

اپنے عروج کے زمانے میں ایلزبتھ ہومز کی کمپنی ‘تھیرانوس’ (Theranos) کی مالیت 9 ارب ڈالرز تھی، جس کا دعویٰ تھا کہ ان کی ٹیکنالوجی محض خون کے چند قطروں سے سینکڑوں ٹیسٹ کر سکتی ہے، یہاں تک کہ کینسر یعنی سرطان اور کولیسٹرول کی زیادہ مقدار تک کی تشخیص کر سکتی ہے۔

یہ کمپنی ایلزبتھ ہومز نے صرف 19 سال کی عمر میں بنائی تھی، جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان کے اس "انقلابی تصور” نے سب کو قائل کر لیا تھا یہاں تک کہ کئی بڑے اداروں نے ان کے ساتھ کئی ملین ڈالرز کے معاہدے کیے، وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتیں، ‘فوربس’ سے لے کر ‘فورچیون’ تک دنیا کے اہم ترین جرائد کے سرورق پر ان کی تصاویر آئیں، انہیں ‘اسٹیو جابس’ کا زنانہ ورژن تک کہا گیا لیکن پھر حقیقت دنیا کے سامنے آ گئی۔

تھیرانوس کی ٹیکنالوجی کی کوتاہیاں اور خامیاں، اور انہیں چھپانے کی کوششوں نے سارے راز فاش کر دیے۔ نہ صرف ایلزبتھ کو کمپنی نے نکال دیا گیا، انہیں دھوکا دہی کے مقدمات کا سامنا ہے، بلکہ کمپنی کو اپنی لیبارٹریز، ٹیسٹ مراکز، یہاں تک کہ اپنے دفاتر بند کرنا پڑے۔ اب اگر ایلزبتھ ہومز پر جرم ثابت ہوتا ہے تو انہیں 20 سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

ایلزبتھ ہومز 3 فروری 1984ء کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ ایک کانگریشنل کمیٹی کی رکن تھیں اور والد کرسچن ہومز ایک امریکی انرجی کمپنی ‘اینرون’ میں کام کرتے تھے اور بعد ازاں امریکی سرکاری امدادی ادارے ‘یو ایس ایڈ’ میں منتقل ہوئے۔ رشتہ دار کہتے ہیں کہ ایلزبتھ بچپن ہی میں کہتی تھی کہ وہ بڑے ہو کر ارب پتی بنے گی اور وہ اسے انتہائی سنجیدہ اور مضبوط عزم رکھنے والی بچی قرار دیتے ہیں۔ لیکن انہیں بچپن ہی سے شکست تسلیم نہ کرنے کی عادت تھی۔

بہرحال، پڑھائی میں سخت محنت کی اور چینی زبان بھی سیکھی اور اسٹین فرڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں انہیں ایک تحقیقی منصوبے کے لیے 3,000 ڈالرز کا وظیفہ بھی ملا۔ سنگاپور میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد ان کی ملاقات بیجنگ میں رمیش بلوانی سے ہوئی، جو ایک پاکستانی نژاد امریکی تھے۔ رمیش ہی بعد ازاں تھیرانوس میں ایلزبتھ کے بعد ‘نمبر 2’ بنے۔

ایلزبتھ نے یہ کمپنی اپنے پروفیسر چیننگ رابرٹسن کے ساتھ بنائی تھیں، جس کا ابتدائی نام ‘Real-Time Cures’ رکھا گیا لیکن بعد میں بدل کر Theranos کر دیا گیا۔ کمپنی نے ایسی میڈیکل ڈیوائس کے لیے پیٹنٹ درخواست دی جو ایک ویئریبل ڈیوائس کے ذریعے مریضوں کی نگرانی اور انہیں دوا کی فراہمی کا جائزہ لینے کا کام کرتی۔

اس کے بعد ایلزبتھ نے اسٹین فرڈ یونیورسٹی چھوڑ دی اور اپنا پورا وقت تھیرانوس کو دینے لگیں۔ ان کا بزنس ماڈل یہ تھا کہ ان کی لیب ٹیسٹنگ مشین بلڈ ٹیسٹ کر سکتی ہے، جس کے لیے انگلی سے بالکل معمولی مقدار میں خون کی ضرورت ہوگی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ سرطان اور کولیسٹرول بڑھنے جیسے امراض کا بھی پتہ چلا لے گی۔

اسے ایک انقلاب سمجھا گیا اور کئی معروف شخصیات ایلزبتھ کے دلائل سے قائل ہو کر اس منصوبے میں اپنا سرمایہ لگانے پر آمادہ ہو گئیں۔ مثلاً معروف کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی ‘اوریکل’ کے بانی لیری ایلیسن اور کئی مشہور لوگوں نے اس میں سرمایہ کاری کی جو جلد ہی 700 ملین ڈالرز تک پہنچ گئی۔

لیکن ایلزبتھ ہومز کو حقیقت کا پتہ تھا اس لیے انہوں نے سرمایہ کاروں سے اس شرط پر پیسہ لیا کہ وہ یہ نہیں بتائیں گی کہ تھیرانوس کی ٹیکنالوجی کس طرح کام کرتی ہے، اور یہ بھی کہ انہیں کمپنی معاملات میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوگی۔

تھیرانوس ‘خفیہ موڈ’ میں چلتی رہی اور ایلزبتھ خود کو ‘نیا اسٹیو جابس’ سمجھنے لگی۔ ان کی جیسی سیاہ رنگ کی شرٹس پہنتیں، اپنا دفتر بھی اسٹیو جابس کے پسندیدہ فرنیچر کی طرح بنانے لگیں اور جابس ہی کی طرح وہ کبھی چھٹی نہیں کرتی تھیں۔ گویا وہ ایک جنونی تھیں، ایک سخت گیر باس، جو چاہتی تھیں کہ ان کے ملازمین بھی اتنی ہی محنت کریں، جتنی وہ کرتی ہیں۔ وہ ملازمین کے آنے اور جانے کے اوقات پر کڑی نظر رکھتیں اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی کہ وہ زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کریں۔ اس کے لیے انہوں نے روزانہ رات 8 بجے دفتر میں کھانے کا اہتمام بھی شروع کر دیا۔

اس عمل میں ایلزبتھ کے سب سے اہم ساتھی رمیش تھے، جو بہت کم تجربہ رکھنے کے باوجود محض اپنی ‘بدمعاشی’ کی صلاحیت کی بنیاد پر اس عہدے پر پہنچ گئے تھے اور شاید اس لیے بھی کیونکہ ان کے ایلزبتھ کے ساتھ خفیہ تعلقات تھے۔ بہرحال، دونوں کا ساتھ اس وقت چھوٹ گیا جب کمپنی کا جہاز ڈوبنے لگا تھا، تب 2016ء میں ایلزبتھ نے رمیش کو کمپنی سے ہی نکال دیا۔

بہرحال، جب تھیرانوس کو لاکھوں بلکہ کروڑوں ڈالرز کا سرمایہ ملنے لگا تو وہ ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ فورچیون اور فوربس جیسے مؤقر جرائد کر سرورق پر ان کی تصاویر چھپیں، TED Talks میں انہیں خطاب کے لیے مدعو کیا گیا، یہاں تک کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ‘علی بابا’ کے مالک ارب پتی جیک ما کے ساتھ ایک پینل میں بھی انہوں نے شرکت کی۔

اسے دیکھتے ہوئے تھیرانوس پر اعتماد مزید بڑھا چلا گیا۔ ‘کیپٹل بلو کراس’ اور ‘کلیو لینڈ کلینک’ نے کمپنی کے ساتھ معاہدے کیے اور والگرین نے اپنے اسٹورز میں تھیرانوس کے ٹیسٹنگ مراکز کھول دیے۔ اس کے علاوہ ‘سیف وے’ کے ساتھ 350 ملین ڈالرز کا خفیہ معاہدہ بھی کیا گیا۔

یعنی ایلزبتھ ہومز کی پانچویں انگلیاں گھی میں تھیں اور ان کا اعتماد بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ وہ دنیا کی کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی خاتون بنیں، اور ان کی دولت 4.6 ارب ڈالرز تک جا پہنچی۔

لیکن یہ ‘چار دن کی چاندنی’ تھی۔ تھیرانوس کی ٹیکنالوجی پر سوالات اٹھنا شروع ہو چکے تھے گو کہ یہ ایسا ابتدا ہی سے ہو رہا تھا لیکن تب ایلزبتھ کا جادو چل رہا تھا اور کوئی اعتراضات کو سننے کو تیار نہیں تھا۔ کمپنی میں پہلی دراڑ اس وقت پڑی جب چیف سائنٹسٹ اور کمپنی کے ابتدائی ملازمین میں سے ایک ایئن گبنز نے ہومز کو خبردار کیا کہ ان کے ٹیسٹ ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچے کہ انہیں عوام پر استعمال کیا جائے اور اس ٹیکنالوجی میں اب بھی خامیاں ہیں۔ دوسری جانب عام سائنس دانوں کے اعتراضات اور خدشات بھی بڑھتے جا رہے تھے۔

اگست 2015ء میں صحت کے حوالے سے امریکی ادارے FDA نے تھیرانوس کے بارے میں اپنی تحقیقات کا آغاز کیا اور پایا کہ ان کے ٹیسٹ نظام میں "بڑی خامیاں” دیکھی گئی ہیں۔ پھر اکتوبر 2015ء میں اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ سے وابستہ صحافی جان کیریرو کی تحقیقات شائع ہوئیں، اور کمپنی کا زوال وہیں سے شروع ہو گیا۔

وال اسٹریٹ جرنل دراصل نیوز کارپوریشن کی ملکیت ہے جو مشہور میڈیا کی معروف شخصیت روپرٹ مرڈوک کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روپرٹ مرڈوک بھی ‘تھیرانوس’ میں سرمایہ رکھتے تھے۔ ایلزبتھ ہومز کو اخبار میں خبر شائع ہونے سے پہلے ہی اس بارے میں پتہ چل گیا تھا، اس لیے انہوں نے براہِ راست مرڈوک سے رابطہ کیا اور کہا کہ اس خبر کو رکوائیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے ایڈیٹر پر بھروسا ہے، اگر خبر میں کوئی کمی یا خامی ہوگی تو وہ اسے شائع نہیں کریں گے۔ لیکن یہ خبر شائع ہو گئی اور تھیرانوس کے لیے ‘ایٹم بم’ ثابت ہوئی۔

صحافی کیریرو نے اس رپورٹ میں بتایا کہ تھیرانوس کی بلڈ ٹیسٹنگ مشین ‘ایڈیسن’ درست نتائج نہیں دے سکتی۔ اس لیے ملنے والے سیمپلز کے لیے وہی روایتی مشینیں استعمال کر کے نتائج دے رہا ہے، جو سب استعمال کر رہے ہیں لیکن ظاہر یہ کیا جا رہا ہے کہ یہ نتائج دراصل ان کی "جدید ٹیکنالوجی” کی مرہونِ منت ہیں۔

ایلزبتھ ہومز نے فوراً میڈیا کا رخ کیا اور اپنے دفاع میں یہ تک کہا کہ "جب آپ نظام کو بدلنے کی جدوجہد کرتے ہیں تو آپ کے ساتھ بالکل ایسا ہی ہوتا ہے۔ پہلے تو وہ سمجھتے ہیں کہ آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے، پھر وہ آپ سے لڑتے جھگڑنے پر آ جاتے ہیں اور پھر اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے اور انقلاب آ جاتا ہے۔”

لیکن یہ باتیں اب کسی کو قائل نہیں کر سکتی تھیں۔ ‏2016ء میں FDA، سینٹرز فار میڈی کیئر اینڈ میڈی کیڈ سروسز اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) سب تھیرانوس پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ جولائی کے مہینے میں ہومز پر لیب ٹیسٹنگ انڈسٹری میں دو سال کی پابندی عائد کی گئی، اکتوبر میں تھیرانوس کو بند کر دیا گیا اور ساتھ ہی اس کے لیب آپریشنز اور سینٹرز پر بھی تالے پڑ گغے۔

تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مارچ 2018ء میں تھیرنوس، ایلزبتھ ہومز اور رمیش بلوانی پر سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے "کھلی دھوکا دہی” کا مقدمہ دائر کیا گیا۔ پھر ایلزبتھ نے کمپنی میں اپنے تمام مالی اثاثے اور اختیارات چھوڑے، 5 لاکھ ڈالرز کا جرمانہ بھرا اور تھیرانوس کے 1.89 کروڑ حصص بھی لوٹا دیے۔ انہیں 10 سال تک کسی بھی کمپنی کے ڈائریکٹر یا افسر بننے سے بھی روک دیا گیا۔

کمپنی اب سوئی کی نوک پر کھڑی تھی، ہومز نے سرمایہ کاروں سے مزید سرمایہ طلب کیا لیکن اب ایسا ہونے والا نہیں تھا۔ جون 2018ء میں تھیرانوس نے اعلان کیا کہ ایلزبتھ استعفیٰ دے رہی ہیں اور اسی روز امریکی محکمہ انصاف نے ایلزبتھ اور رمیش کے خلاف دھوکا دہی کے مقدمات کیے۔

ستمبر 2018ء میں تھیرانوس نے اپنے شیئر ہولڈرز کو بتایا کہ کمپنی بند کی جا رہی ہے۔

اس دوران 2019ء کے وسط میں ایلزبتھ نے ایونز ہوٹل گروپ کے مالک کے بیٹے 27 سالہ ولیم ایونز سے شادی بھی کر لی ہے اور دونوں اس وقت سان فرانسسکو میں رہتے ہیں۔

البتہ مقدمے میں 20 سال قید کی سزا کی تلوار ان پر اب بھی لٹک رہی ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال جو آج بھی سامنے کھڑا ہے وہ یہ کہ کس طرح ایک 19 سال کی لڑکی نے دنیا کی بڑی بڑی شخصیات کو بے وقوف بنایا؟

مزید تحاریر

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے