36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

گھر سے کام کرنے کی وجہ سے دل کے دوروں میں ایک تہائی کمی؟

تازہ ترین

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...
- Advertisement -

فن لینڈ میں کووِڈ-19 کی آمد کے بعد ملک میں دل کے دوروں میں اچانک کمی دیکھنے میں آئی ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہات میں سے ایک گھر سے کام کرنے کی اجازت بھی ہو سکتی ہے۔

امراضِ قلب کے ماہر میکا لین کے مطابق دارالحکومت ہیلسنکی کے یونیورسٹی سینٹرل ہسپتال میں اپریل اور مئی 2020ء کے دوران دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے آنے والے افراد کی تعداد میں تقریباً 30 فیصد کمی دیکھی گئی۔ یہ اس لیے حیران کُن ہے کیونکہ دیگر مقامات پر بھی ایسا ہی دیکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے مزید تحقیق میں پایا کہ نہ صرف فن لینڈ بلکہ یورپ کے دیگر ممالک اور امریکا میں بھی ایسا ہی رجحان دیکھنے میں آیا۔ لگتا ہے کووِڈ کی وبا کے دوران عالمی پیمانے پر ایسا ہوا ہے۔

فن لینڈ کے ادارۂ صحت نے اس حوالے سے مزید تفصیل جاننے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

لیکن میکا لین کے مطابق دل کے دوروں میں کمی کا سبب کووِڈ-19 کی وبا کے دوران طرزِ زندگی میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ "ہماری جین میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ ویسی ہی ہیں جیسی ایک سال پہلے تھیں یا دو سال پہلے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ ماحول میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔”

ایک بڑا عنصر یہ ہے کہ گزشتہ سال مارچ کے بعد سے گھر سے کام کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ دنیا بھر کے ممالک میں لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا۔ لین کہتے ہیں کہ "اب لوگ گھروں پر کام کر رہے ہیں، ان پر ذہنی دباؤ کم ہے کہ صبح کی ہنگامہ خیز ٹریفک میں، بھاگ دوڑ کر انہیں کام پر پہنچنا ہے اور دیگر معمولات کی بھی پریشان نہیں۔”

ایک تحقیق کے مطابق وبا سے پہلے بھی فن لینڈ میں یورپ کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں گھروں سے کام کرنے کا رجحان زیادہ تھا۔ گزشتہ سال گزشتہ سال مئی میں ‘یورو فاؤنڈ’ نامی ادارے نے انکشاف کیا تھا کہ فن لینڈ میں دیگر یورپی ملکوں کی نسبت ٹیلی ورکنگ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تقریباً 60 فیصد افراد اس طرح منتقل ہو رہے ہیں۔

میکا لین کے مطابق اس وقت ہمیں ریٹائر ہونے والے اور بے روزگار افراد کی شرح میں کمی نظر آ رہی ہے، تو اس کا سبب محض دفتر جانے اور آنے کے لیے سفر نہیں ہو سکتا۔ دیگر عوامل بھی دل کے دوروں میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ مثلاً ہمیں معلوم ہے کہ کئی لوگوں نے گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کے دوران تمباکو نوشی چھوڑی ہے، کیونکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے کووِڈ کی علامات زیادہ سنگین ہونے اور اموات بڑھنے کا خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ شہروں اور قصبوں میں فضائی آلودگی میں بہت کمی آئی ہے، جو لاک ڈاؤن کا نتیجہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہوا میں موجود آلودگی کے ذرات دل کے امراض کا ایک جانا پہچانا سبب ہیں۔

البتہ سب اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے کہ وبا کی آمد دل کے مریضوں پر مثبت اثرات ڈال رہی ہے۔ جنوری میں امریکن کالج آف کارڈیولوجی کے جریدے میں شائع شدہ ایک تحقیق نے پایا کہ وبا کے ابتدائی دنوں میں امریکا کے چند علاقوں میں دل کی شریانیں سکڑنے اور بلند فشارِ خون میں اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی محققین نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ چند مریض محض اس لیے مر گئے کہ وہ کرونا وائرس لگنے کے خطرے کی وجہ سے ہسپتال نہیں آنا چاہتے تھے۔

لیکن فن لینڈ کے معاملے میں میکا لین سمجھتے ہیں کہ یہاں ایسا نہیں ہے۔ "ہم نے دل کے امراض کی وجہ سے ہونے والی اموات میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا اور اِس وقت ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اضافہ حقیقی ہے، محض اس لیے نہیں کہ مریض ہسپتالوں کا رخ نہیں کر رہے۔

لین کے مطابق فن لینڈ میں کووِڈ-19 کی پابندیاں نرم پڑنے کے باوجود دل کے دورے کے مریضوں کی تعداد اوسط سے تقریباً 5 فیصد کم ہوئی ہے۔ "میرے خیال میں یہ عملی مثال ہے کہ ماحولیاتی عناصر دل کی صحت پر نمایاں اثرات رکھتے ہیں اور میرے خیال میں ہمیں اپنے طرزِ زندگی کو تبدیل کرنے کی تحریک مل سکتی ہے۔”

مزید تحاریر

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے