35.3 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

بجلی کی پیداواری گنجائش طلب سے زیادہ، پھر بھی لوڈ شیڈنگ؟

تازہ ترین

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا ، کچھ کام...

بجٹ پاس نہیں ہوا تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت زمین بوس ہوجائے گی، اعتزاز احسن

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 1985 کی اسمبلی اس ملک کی بربادی کی...

3 مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف کاش ایسا ہسپتال بنالیتے جس پر انہیں یقین ہوتا، اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف ضمانتی تھے تو کاش وہ نواز شریف کو بھی پاکستان واپس...

دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ہیرا دریافت

افریقہ کے ملک بوٹسوانا میں ایک کمپنی نے 1,098 قیراط کا ہیرا دریافت کیا ہے، جسے اپنی نوعیت کا دنیا کا تیسرا سب سے...
- Advertisement -

گزشتہ چند روز سے پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں قیامت خیز گرمی پڑ رہی ہے اور ساتھ ہی ان علاقوں کو بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا بھی ہے۔ لیکن لوڈ شیڈنگ کیوں؟ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ حکومت کی جانب سے پورے فخر کے ساتھ یہ دعوے کیے جا رہے تھے پاکستان ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے بلکہ اب وہ بیرونِ ملک بجلی برآمد بھی کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان کو پاکستانی بجلی کے ممکنہ خریدار کی حیثیت سے پیش کرنے کی باتیں بھی کی گئیں۔

لیکن پھر گزشتہ ماہ بجلی کے بھاری بھرکم بل آ گئے۔ تب سرکاری پالیسی کے تحت بیانات میں ‘یو ٹرن’ آیا اور کہا گیا کہ گزشتہ حکومت نے ضرورت سے زیادہ اور مہنگے داموں پر پاور پلانٹس لگائے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو مہنگے داموں پر بجلی خریدنا پڑ رہی ہے۔

لیکن بیانات کی اس ‘اندھا دھند فائرنگ’ کے دوران ہی جون کا مہینہ آ گیا اور اس وقت خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں بجلی نے عوام کی زندگی عذاب کر رکھی ہے اور یہی وہ علاقہ ہے کہ جہاں اس وقت سب سے زیادہ گرمی پڑ رہی ہے۔ ایسے علاقے بھی ہیں کہ جہاں دن کا تین چوتھائی حصہ بجلی نہیں ہے۔

لیکن شدید گرم موسم میں اتنی لوڈ شیڈنگ کیوں؟

ذرائع کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں بجلی کی کُل پیداواری گنجائش 29,000 میگاواٹ ہے اور اس میں 6,500 میگاواٹ کی قلت بتائی جاتی ہے۔ جس کی بڑی وجہ بجلی گھروں کو RLNG کی فراہمی میں کمی اور تربیلا ڈیم کی ٹربائنز کی مرمت ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے پرانی جنریشن کمپنیاں بھی بند کر دی گئی ہیں اور صرف گڈو اور دیگر پاور پلانٹس چلا رہی ہے جن سے 450 میگاواٹ کی پیداوار ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذرائع کہتے ہیں کہ ریونیو کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ 5,500 میگاواٹ کی ہے۔ حکومت صرف 1,500 میگاواٹ کی کمی کا اعتراف کر رہی ہے۔ وزارت توانائی کے مطابق طلب 24,100 میگاواٹ تک جا پہنچی ہے اور پیداوار 22,600 میگاواٹ پر کھڑی ہے، یعنی 1,500 میگاواٹ کا شارٹ فال ہے۔ لیکن اگر ریونیو کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ اور اس سرکاری شارٹ فال کو ملایا جائے تو کُل کمی 6,500 میگا واٹ کی بنتی ہے۔

سرکاری ذرائع کہتے ہیں کہ 800 میگا واٹ کی کمی کی صورت میں ملک بھر میں ایک گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اس لیے 6,500 میگا واٹ کی کمی سے کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تو ہو ہی جاتی ہے۔ لیکن کیونکہ اس صورت حال کا پورے ملک کو سامنا نہیں، اس لیے خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے چند علاقوں کو 4 سے 20 گھنٹے کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ یہاں تک کہ اسلام آباد اور لاہور جیسے شہروں کو گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔

اس صورتِ حال میں "ٹوئٹر وار” بھی شروع ہو چکی ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ بجلی کی فراہمی آج تقریباً 16,000 میگا واٹ رہی جبکہ طلب 25,000 میگا واٹ ہے۔ 2018ء میں ہم نے کم نرخ پر 27,000 میگاواٹ بجلی فراہم کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر بجلی کافی مقدار میں موجود ہے اور ترسیل کی صلاحیت بھی ہے تو آخر اتنے بڑے پیمانے پر لوڈ شیڈنگ کیوں ہو رہی ہے؟

اُدھر وفاقی وزیر حماد اظہر اپنے ٹوئٹ میں کہتے ہیں کہ اوسط شارٹ فال 1,000 میگاواٹ کا ہے جو ایک بڑے پن بجلی گھر کی مرمت کے کام اور چند تھرمل پلانٹس کی بندش کی وجہ سے گزشتہ 48 گھنٹوں میں بڑھا ہے۔ تربیلا سے فراہمی 4 سے 6 دن میں بحال ہو جائے گا اور آج رات تک متبادل پلانٹس سے 1,100 میگاواٹ بجلی نظام میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

لیکن آزاد ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت نے جون کی آمد سے پہلے ہی اس قلت کا اندازہ کیوں نہیں لگایا جبکہ معلوم تھا کہ طلب 26,000 میگاواٹ سے اوپر جائے گی۔ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے پاور ڈویژن نے آخر تھرمل پاور پلانٹس اور تربیلا ڈیم کے ٹربائن کی مرمت مئی ہی میں کیوں مکمل کیوں نہیں کہ جب موسم نسبتاً بہتر تھا؟

سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف تو ہمیں بتا رہی تھی کہ مسلم لیگ ن نے ضرورت سے زیادہ پاور پلانٹس لگا دیے ہیں۔ انہوں نے اِس سال مہنگی ترین LNG بھی خریدی، ڈیزل سے مہنگی ترین بجلی بھی بنائی اور گردشی قرضوں میں بھی اربوں کا ریکارڈ اضافہ کیا۔ اب پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ بجلی کی پیداواری گنجائش کم ہے؟ اگر آپ نے جھوٹ ہی بولنا ہے تو کم از کم تسلسل کے ساتھ تو بولیں۔

اس سے پہلے شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر حکومت بجلی کی پیداواری گنجائش کو سنبھالنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتی تو اسے گھر چلے جانا چاہیے اور اس شدید گرم موسم میں عوام کو مزید مصیبت میں مبتلا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آٹے اور چینی سے لے کر ادویات اور اب بجلی تک، ہر معاملے میں اس حکومت نے عوام کو پریشان کیا ہے۔ لوگ بجلی کے مہنگے ترین بل بھرنے کے باوجود اس سے محروم ہیں۔

مزید تحاریر

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا ، کچھ کام...

بجٹ پاس نہیں ہوا تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت زمین بوس ہوجائے گی، اعتزاز احسن

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 1985 کی اسمبلی اس ملک کی بربادی کی...

3 مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف کاش ایسا ہسپتال بنالیتے جس پر انہیں یقین ہوتا، اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف ضمانتی تھے تو کاش وہ نواز شریف کو بھی پاکستان واپس...

دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ہیرا دریافت

افریقہ کے ملک بوٹسوانا میں ایک کمپنی نے 1,098 قیراط کا ہیرا دریافت کیا ہے، جسے اپنی نوعیت کا دنیا کا تیسرا سب سے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے