36 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

بجلی کمپنیاں کہیں بھی جبری لوڈشیڈنگ نہیں کررہیں، حماد اظہر

تازہ ترین

داسو ڈیم سے اپریل 2025 میں بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ داسو ڈیم منصوبے میں سستی اور صاف بجلی پیدا ہونے سے ملک کو فائدہ ہوگا، ہمیں بہت...

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...
- Advertisement -

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 گھنٹے کے دوران کہیں بھی جبری لوڈشیڈنگ نہیں کی گئی، 48 گھنٹوں میں 1500 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی گئی ہے جبکہ مزید بجلی آج سسٹم میں شامل کی جائے گی۔

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ملک میں جاری لوڈشیڈنگ کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلی نظام کی خرابی کے باعث بریک ڈاؤن کا خدشہ ہے۔ بجلی کمپنیاں زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کررہی ہیں۔ گزشتہ سال کی بہ نسبت اس سال بجلی کی طلب میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس کے باوجود بجلی کمپنیاں کہیں بھی جبری لوڈشیڈنگ نہیں کررہی ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ اس وقت طلب کے مقابلے میں فقط 593 میگاواٹ کا شارٹ فال ہے جس پر کل تک قابو پالیں گے۔ مانیٹرنگ اور ضروری اقدامات کے باعث شارٹ فال میں کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ روز صبح ساڑھے 8 بجے بجلی کی طلب 22 ہزار 393 میگاواٹ تھی جبکہ پیداوار 21 ہزار 800 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس وقت تربیلا کا ٹنل 3 بھی فعال کردیا گیا ہے جس سے بجلی کی پیداوار میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

وفاقی وزیر کا آج سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ ٹویٹ میں لوڈشیڈنگ کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں 1500 میگاواٹ بجلی نظام میں شامل کی گئی ہے۔ بجلی چوری کرنے والے علاقوں میں واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث یا پھر ترسیلی نظام میں خرابی کے باعث لوڈشیڈنگ کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور عمر ایوب کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ گزشتہ ڈھائی سالوں میں لوڈشیڈنگ کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ یہ مسئلہ 2 دن کے اندر حل کرکے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ ختم کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تربیلا ڈیم پر تعمیراتی کام جاری ہونے کی وجہ سے ٹربائن بند ہے لیکن یہ مسئلہ جلد ہی حل کرکے بجلی کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔ بجلی سے متعلق جو بھی مسائل آرہے ہیں ان سے بہت جلد نمٹ لیا جائے گا۔

مزید تحاریر

داسو ڈیم سے اپریل 2025 میں بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ داسو ڈیم منصوبے میں سستی اور صاف بجلی پیدا ہونے سے ملک کو فائدہ ہوگا، ہمیں بہت...

پی ٹی آئی دور میں گھوڑوں کے بجائے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خبردار! اگر کسی نے نالائق حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ...

اسلام آباد میں خواتین کے لیے الگ بازار بنانے جا رہے ہیں، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منشیات اور آئس کے ڈیلرز کو فور طور پر ختم کیا جائے، اسلام آباد...

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے