35.3 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

شوکت عزیز کا پبلک فورم استعمال کرنا غلط تھا، روایت بن چکی ہے کہ سب پبلک کردو، جسٹس عمر عطا بندیال

تازہ ترین

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا ، کچھ کام...

بجٹ پاس نہیں ہوا تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت زمین بوس ہوجائے گی، اعتزاز احسن

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 1985 کی اسمبلی اس ملک کی بربادی کی...
- Advertisement -

شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ شوکت صدیقی کا مداخلت کے لیے پبلک فارم استعمال کرنا غلط تھا، وہ خاموشی سے انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں سے ملتے رہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آج بروز جمعہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ ریفرنس صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نہیں بھیجا بلکہ سپریم جوڈیشل کونسل نے از خود نوٹس لیتے ہوئے شوکاز نوٹس بھیجا۔ نوٹس کے جوابات اور دلائل سامنے رکھتے ہوئے جج کی برطرفی کا فیصلہ کیا گیا۔

شوکت عزیز کے وکیل کی جانب سے جسٹس فائز عیسیٰ کیس کا حوالہ دینے پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وقت کم ہے، اتنی تفصیل میں مت جائیں۔ آپ نے تقریر میں اپنا بغض نکال دیا، آپ نے لوگوں کے بارے میں شکایتیں کرنے کے لیے پبلک فورم استعمال کیا۔ ہمیں ملک کے اداروں کا دفاع کرنا ہے، اگر اداروں کا تحفظ ہم نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا؟ یہ ایک نئی روایت بنادی گئی ہے کہ سب کچھ پبلک کردو، ادارے پر حملے کی صورت میں شکایت کے لیے اندرونی طریقہ کار موجود تھا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الحسن نے اس موقع پر وکیل شوکت عزیز صدیقی سے سوال کیا کہ کیا یہ تقریر جج کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی نہیں تھی؟ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ ادارے پر حملے کی صورت میں پہلے تحفظات سے آگاہ کیا جاتا؟ جواب میں وکیل حامد خان نے کہا کہ اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کے لیے شوکت عزیز صدیقی نے 4 مرتبہ وقت لیا جسے قبول نہیں کیا گیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ شوکت عزیز صدیقی چیف جسٹس کو رپورٹ بھیجتے تو ضرور اس پر ایکشن لیتے لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اگر ایک جج غلطی کرتا ہے تو پوری عدلیہ کا ٹرائل شروع ہوجاتا ہے، وہ اگر بینچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ سکتے تھے تو اس معاملے پر کیوں نا لکھا؟ جسٹس عمر عطا نے مزید کہا کہ ہمیں 30 جون کا خیال ہے، آرڈر کر رہے ہیں کہ جیسے ہی بینچ دستیاب ہوگا مقدمہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

مزید تحاریر

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا ، کچھ کام...

بجٹ پاس نہیں ہوا تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت زمین بوس ہوجائے گی، اعتزاز احسن

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 1985 کی اسمبلی اس ملک کی بربادی کی...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے