35.3 C
Islamabad
جمعہ, جون 18, 2021

آئی ایم ایف کا ”تعاون“ امریکی افواج سے تعاون کے ساتھ مشروط؟ فنانشل ٹائمز نے نئی بحث چھیڑدی

تازہ ترین

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا ، کچھ کام...

بجٹ پاس نہیں ہوا تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت زمین بوس ہوجائے گی، اعتزاز احسن

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 1985 کی اسمبلی اس ملک کی بربادی کی...
- Advertisement -

اگرچہ وزیرِ خزانہ پاکستان شوکت ترین نے اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا میں تعاون کرنے پر پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی کچھ نا مقبول اصلاحات کو موخر کرنے کا موقع ملا ہے۔

تاہم معروف اخبار ‘فائنانشل ٹائمز’ نے گزشتہ روز ایک خبر شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالرز کے قرضے کی اگلی قسط حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے کیونکہ ملک اس وقت افراطِ زر پر قابو پانے اور  کرونا وائرس  کی وجہ سے معیشت کو پہنچنے والے دھچکے سے بحال ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ البتہ پاکستانی حکام امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے بدلے میں آئی ایم ایف شرائط پر امریکی مدد کے خواہاں ہیں۔

شوکت ترین نے کہا ہے کہ انہوں نے انٹرویو میں امریکا کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات پر بات کی تھی اور اس میں آئی ایم ایف میں امریکی مدد کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔

اخبار کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف بجلی کے نرخ اور سیلز ٹیکس بڑھانے کا عمل روکنے کے لیے اسلام آباد کی درخواست پر غور کر رہا ہے کہ جن سے پاکستان  کے غریب طبقے کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ "ہم غریب طبقے پر مزید بوجھ نہیں لادنا چاہتے۔ ہم نے اس حوالے سے امریکی حکام سے بات کی ہے اور وہ مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔”

شوکت ترین نے اپریل میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ وہ گزشتہ تین سال میں ملک کے چوتھے وزیرِ خزانہ ہیں، جن کا کہنا ہے کہ 2008ء میں حالات مختلف تھے اور آج مختلف ہیں۔

پاک-امریکا تعلقات میں اس وقت زوال آیا جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں 2 ارب ڈالرز کی سکیورٹی امداد روک دی تھی۔اس کے باوجود پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کے لیے امریکا کی مدد کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ رواں ہفتے وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے امریکی صلاحیتوں کے مستقبل کے حوالے سے تعمیری گفتگو کی ہے۔

یہ خبریں بھی  گردش کر رہی ہیں کہ امریکا افغانستان میں انسدادِ دہشت گردی کی کار روائیوں کے لیے پاکستان سے فضائی اڈوں کا طالب ہے۔

لیکن پاکستان کا مسئلہ اس وقت سخت معاشی حالات ہیں۔ افراطِ زر نے غریب طبقے کی کمر توڑ رکھی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نہ صرف ان کے لیے بلکہ خود حکومت کے لیے بھی مشکلات کھڑی کر رہی ہیں کہ جنہیں عوام میں سخت عدم مقبولیت کا سامنا ہے۔

شوکت ترین کہتے ہیں کہ رواں سال معاشی نمو 4 فیصد ہوگی، لیکن ہمیں اس سے بھی آگے جانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان اپنے مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی راہ پر گامزن تھا لیکن وبا کی آمد اور سیاسی افراتفری نے اس کو بری طرح متاثر کیا۔ دوسری جانب پاکستان فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں ہے، جو دنیا میں انسداد دہشت گردی کی نگرانی کرنے والا سب سے بڑا گروپ ہے۔ پاکستان کو اس کی تمام شرائط پر پورا اترنے کے لیے بھی  کام کرنا پڑ رہا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ صدر  جو بائیڈن کی جانب سے افواج کی واپسی کا اعلان امریکا کے مقابلے میں پاکستان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ افغان امن عمل اور دہشت گردی کے خاتمے دونوں کے لیے پاکستان کی مدد کا خواہاں ہے اور اس کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں۔

 

مزید تحاریر

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ...

پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو؟ – جمال عبداللہ عثمان

پیمانہ کیا ہو کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تمام حکومتوں سے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ یا پھر پیمانہ کیا ہو، جس سے پتا...

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا ، کچھ کام...

بجٹ پاس نہیں ہوا تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت زمین بوس ہوجائے گی، اعتزاز احسن

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 1985 کی اسمبلی اس ملک کی بربادی کی...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے