28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

دنیا کا تنہا ترین قبیلہ، جو کسی سے نہیں ملنا چاہتا

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کا وہ علاقہ کون سا ہے کہ جہاں تہذیب آج تک نہیں پہنچی؟ جہاں جدید دنیا کا شائبہ تک نہیں ہے اور نہ ہی وہاں کے لوگ کسی دوسرے انسان سے ملنا اور تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔

ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں بحر الکاہل کا کوئی جزیرہ آ رہا ہے، آخر کار یہ دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے، اتنا بڑا کہ زمین کے کل رقبے کا 32 فیصد صرف اسی سمندر پر مشتمل ہے۔ لیکن نہیں!

تو یہ جزیرہ بحر اوقیانوس میں ہوگا؟ وہ تر صدیوں تک "بحرِ ظلمات” یعنی اندھیروں کا سمندر بھی کہلاتا رہا ہے۔ لیکن یہ تو وہاں بھی نہیں ہے۔ تو آخر یہ "دُور دراز” مقام کہاں ہے؟ یہ ہے بحرِ ہند میں، بلکہ اس میں بھی خلیجِ بنگال میں، یعنی دنیا کے گنجان ترین آبادیوں کے عین درمیان میں۔

کالا پانی

آپ نے ضرور جزائر انڈمان کا نام سنا ہوگا، وہی کہ جہاں ‘کالا پانی’ جیسی بدنامِ زمانہ جیل تھی، جسے برطانیہ سیاسی قیدیوں کو جلا وطن کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ یہ اور ملحقہ جزیرے خلیجِ بنگال میں ہیں واقع جو برطانیہ سے آزادی کے بعد وراثت میں بھارت کو ملے تھے۔ ان جزائر میں سے ایک ہے جزیرہ شمالی سینٹی نیل (North Sentinel Island)۔ یہاں کے رہنے والے لوگوں کو سینٹی نیلی (Sentilese) کہتے ہیں اور یہ اس علاقے کے دیگر چھ قبائل میں سے ایک ہے جن میں انڈمانی، جراوا، اونگے، شومپن اور نکوباری شامل ہیں۔ ان میں سے صرف سینٹی نیلی ہی ایسے ہیں، جو باقی دنیا سے بالکل نہیں ملنا چاہتے بلکہ جس نے بھی ایسی کوشش کی ہے، اکثر و بیشتر اسے ان کی جانب سے انتہائی جارحانہ ردِ عمل دیکھنا پڑا بلکہ کچھ لوگ تو ان کے ہاتھوں مارے بھی گئے ہیں۔

اکیسویں صدی میں پتھر کا زمانہ

شمالی سینٹی نیل جزیرے کے لوگ آج، اِس جدید دور میں بھی گویا پتھر کے زمانے میں رہتے ہیں۔ ان کا طرزِ زندگی آج بھی ویسا ہے، جیسا انسان کا آج سے ہزاروں سال پہلے ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ بشریات (anthropologists) کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ ان سے رابطہ کرنے یا میل جول بڑھانے کے نتیجے میں انہیں عام انسانوں کی وہ بیماریاں لگ سکتی ہیں، جن کے خلاف ان کے جسم میں مدافعت نہیں پائی جاتی۔ اس لیے اس جزیرے میں داخل ہونے پر اب پابندی عائد ہے اور اس کے گرد 5 بحری میل کے علاقے میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔

اصل ‘علاقہ غیر’

کہنے کو تو یہ جزیرہ بھارت میں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا اور اگر کوئی شخص جزیرے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے مارا جاتا ہے تو بھی حکومت اِس قبیلے کے افراد پر کوئی مقدمہ نہیں چلائے گی۔ یعنی کہ واقعتاً ‘علاقہ غیر’ ہے۔ محققین اور ماہرینِ بشریات کو بھی یہاں جانے کے لیے پیشگی کلیئرنس کی ضرورت ہوتی ہے۔

شمالی سینٹی نیل جزیرہ انڈمان و نکوبار جزائر کے دارالحکومت پورٹ بلیئر سے صرف 64 کلومیٹرز کے فاصلے پر ہے۔ یہ جزیرہ تقریباً 60 مربع کلومیٹرز پر پھیلا ہوا ہے اور یہاں کی آبادی کے بارے میں جو اندازے لگائے گئے ہیں، وہ 100 سے 150 کے درمیان ہے۔ یہاں کے باسیوں کا گزر بسر شکار پر ہوتا ہے۔ یہ تیر کمان کا استعمال کر کے مختلف جنگلی حیات کا شکار کرتے ہیں اور سمندر سے مچھلیاں اور کیکڑے بھی پکڑتے ہیں۔ یہ زراعت سے واقف نہیں ہیں کیونکہ جزیرے پر کوئی زرعی علاقہ نہیں دیکھا گیا۔ البتہ دھاتوں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور دھاتوں کو استعمال کر کے ہتھیار بناتے ہیں۔

تاریخ میں ذکر

تاریخ میں اس جزیرے کا ذکر پہلی بار 1771ء میں ملتا ہے جب ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک جہاز اس کے قریب سے رات کے وقت گزرا تھا۔ لیکن 1867ء میں ایک ہندوستانی جہاز ‘نینوہ’ اس جزیرے کے قریب پھنس گیا تھا۔ مسافر اور عملہ بحفاظت ساحل تک پہنچ گیا اور وہاں تیسرے روز مقامی قبائلی افراد نے ان پر تیروں سے حملہ کر دیا۔ کپتان ایک کشتی کے ذریعے یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا اور کئی روز بعد اسے دوسرے بحری جہاز نے سمندر سے نکالا۔ باقی تمام مسافروں کی جزیرے پر موجودگی کی اطلاع ملنے پر برطانوی بحریہ نے یہاں کا رخ کیا اور پایا کہ مسافروں نے ڈنڈوں اور پتھروں سے مقابلہ کر کے قبائلیوں کو بھگا دیا تھا اور پھر وہ دوبارہ ان کی طرف نہیں آئے۔

قبیلے سے رابطے کی ابتدائی کوششیں

لیکن اس جزیرے پر جانے کی پہلی باقاعدہ کوشش 1880ء میں برطانوی بحریہ کے ایک افسر مورس وڈال پورٹ مین نے کی تھی۔ انہوں نے چند مسلح اہلکاروں کے ساتھ اس جزیرے پر قدم رکھا اور انہیں آتا دیکھ کر قبائلی گھروں سے بھاگ گئے تھے۔ کئی روز کی تلاش کے بعد انہیں چند گاؤں ملے۔ انہوں نے مجموعی طور پر چھ قبائلی افراد کو پکڑا جس میں ایک بزرگ جوڑا اور چار بچے شامل تھے۔ انہیں جزائر کے مرکزی شہر پورٹ بلیئر لایا گیا، جہاں دونوں بزرگ تو بیمار ہونے کے بعد چل بسے۔ بچے مرے تو نہیں لیکن وہ بھی بیمار ضرور پڑ گئے۔ جس پر انہیں جلد بازی میں واپس جزیرے پر لایا گیا اور بہت سے تحفے تحائف کے ساتھ چھوڑ دیا گیا۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ ان بچوں کی واپسی کے بعد جو امراض مقامی قبائلیوں کو لاحق ہوئے ہوں گے، غالباً انہی کی وجہ سے اس جزیرے کے باسی بیرونی دنیا سے رابطے نہیں رکھنا چاہتے۔

‏1896ء میں ایک قیدی انڈمان جزیرے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور ایک کشتی بنا کر اس جزیرے کے ساحل تک پہنچ گیا۔ تلاش کے دوران اس کی لاش اس جزیرے کے ساحل سے ملی تھی، جسم میں کئی تیر گھسے ہوئے تھے اور گلا کٹا ہوا پایا گیا۔

تقسیمِ ہند کے بعد

تقسیمِ ہند کے بعد انڈمان اور نکوبار کے جزائر بھارت کو ملے اور 1967ء میں 20 رکنی ایک دستے نے ماہرِ بشریات تریلوک ناتھ پنڈت کی سربراہی میں اس جزیرے کا رخ کیا۔ اس دورے کا مقصد ان قبائلیوں کے ساتھ دوستانہ رابطہ کرنا تھا اور یہ کسی بھی پیشہ ور ماہرِ بشریات کا پہلا دورہ تھا۔ انہوں نے ساحل کے قریب پہنچ کر دُوربین سے دیکھا تو مقامی باشندے نظر آئے لیکن ٹیم کو آتا دیکھ کر وہ جنگل میں چھپ گئے۔ بہرحال، قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے انہیں تقریباً 1 کلومیٹر کے بعد ایک گاؤں نظر آیا جس میں گھاس اور پتوں سے بنی 18 جھونپڑیاں تھیں۔ یہاں انہیں خام شہد، جنگلی پھل، ایک کلہاڑا، مختلف تیر کمان اور بھالے، مچھلی کے جال، لکڑی سے بنی بالٹیاں اور برتن بھی ملے۔ اس دورے میں قبائلیوں سے رابطہ نہیں ہو سکا اور وفد اُن کے لیے تحفے چھوڑ کر واپس آ گیا۔

پھر 70ء اور 80ء کی دہائی میں پنڈت نے اس جزیرے کے کئی دورے کیے۔ چند دوروں میں قبائلی افراد کا رویہ دوستانہ تھا اور کچھ میں بہت سخت۔ پنڈت بتاتے ہیں کہ کبھی وہ ہاتھ ہلاتے، جو خیر مقدم کی علامت تھی اور کبھی پیٹھ دکھاتے، جو ظاہر کرتا کہ ان کو خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔ کبھی کبھی تو ایسا ہوتا کہ ہمیں دیکھ کر وہ مختلف چیزیں لینے کے لیے جنگل سے آتے اور پھر تیروں سے حملہ کر دیتے۔

نیشنل جیوگرافک کی مہم

اس دوران 1974ء میں پنڈت سمیت کئی ماہرین نے نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کے لیے ایک دستاویزی فلم "Man in Search of Man” بنانے کے لیے اس جزیرے کا رخ کیا۔ اس دوران تین دن تک قبائلی افراد سے رابطہ کرنے کی کوششیں کی گئیں، یہاں تک کہ ان کی کشتی خراب ہو گئی اور اس حادثے کے کچھ ہی دیر بعد مقامی افراد جنگل سے نکل آئے اور تیروں سے ان پر حملہ کر دیا۔ ایک تیر ڈائریکٹر کی ٹانگ پر لگا، بہرحال وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس دورے میں سینٹی نیل قبائلیوں کی اولین تصاویر ضرور کھینچی گئیں۔ رگوبھیر سنگھ کی کھینچی گئی تصویریں جولائی 1975ء میں نیشنل جیوگرافک میگزین میں شائع ہوئیں۔

آخری کوششیں

پھر 1987ء اور 1991ء کے دورے ہوئے، جن میں فلم بندی بھی کی گئی بلکہ 1991ء میں پہلی بار اُن کے ساتھ پر امن رابطے کو دستاویزی صورت بھی ملی۔ پنڈت کے علاوہ خاتون ماہرِ بشریات مدھومالا چتوپدھیائی اور مختلف سرکاری محکموں کے عہدیدار اس وفد میں شامل تھے جو 4 جنوری 1991ء کو جزیرے پر پہنچا۔ پہلی بار قبائلیوں کو بغیر ہتھیاروں کے دیکھا گیا۔ وہ قریب بھی آئے اور تحفے میں پیش کیے گئے ناریل بھی لیے۔

پنڈت اور مدھومالا نے 24 فروری کو ایک مرتبہ پھر جزیرے کا رخ کیا اور اس مرتبہ تو وہ کشتی میں ہی چلے آئے اور ناریل کے تھیلے اٹھا کر اتر گئے۔

یہ سلسلہ 1994ء تک چلتا رہا اور اس دوران جزیرے پر ناریل اگانے کی کوشش بھی کی گئی کیونکہ یہ مقامی قبیلے کو بہت پسند ہے لیکن اس جزیرے پر اُگتا نہیں۔ لیکن پھر اچانک اس پروگرام کو بند کر دیا گیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت کو تشویش تھی کہ کہیں بیرونی افراد کے زیادہ میل جول سے سینٹی نیلی افراد کی بقا کو خطرہ لاحق نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ 1991ء کی مہم کی تصاویر تک غائب کر دی گئیں اور حکومت کی جانب سے ان تصویروں کا استعمال بھی محدود کر دیا گیا۔

خود مدھومالا نے 2018ء کے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے 19 سال سے دوبارہ اس جزیرے کا رخ نہیں کیا کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ قبیلہ صدیوں سے اس جزیرے پر موجود ہے اور اسے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ ان کے مسائل تب شروع ہوئے جب بیرونی دنیا کے لوگوں نے ان سے ملنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ انہیں ہمارے کسی تحفظ کی ضرورت نہیں، بہتر یہی ہے کہ انہیں تنہا چھوڑ دیا جائے۔

عظیم سونامی

‏2004ء کے آخر میں جب بحرِ ہند میں آنے والا سونامی نے سینٹی نیل جزیرے پر بھی تباہی مچائی۔ بھارت کی افواج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پورے جزیرے کا جائزہ لیا کہ کہیں قبیلے کو مدد کی ضرورت تو نہیں لیکن ان کا رویہ بہت جارحانہ نظر آیا۔ اس مہم کے دوران 32 افراد گنے گئے، جو تین مقامات پر پھیلے ہوئے تھے اور لاش کوئی نہیں تھی۔ ان کی ہیلی کاپٹر پر تیر اندازی کے بعد اس مہم کو ختم کر دیا گیا کیونکہ یہ یقین ہو گیا تھا کہ قبائلی بڑی حد تک سونامی کی تباہ کاریوں سے بچ گئے ہیں۔

قتل کے واقعات اور عالمی "شہرت”

‏27 جنوری 2006ء کو دو بھارتی ماہی گیر سندر راج اور پنڈت تیواری غیر قانونی طور پر اس جزیرے کے ساحل پر کیکڑے پکڑ رہے تھے کہ یہاں پھنس گئے۔ قبائلیوں نے حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا۔ تین دن بعد بھارتی کوسٹ گارڈ کے ہیلی کاپٹر کو ان کی لاشیں دفن کرنے کی جگہ ملی، جنہیں نکالنے کی کوشش کے دوران مقامی افراد نے حملہ کر دیا اور یہ مشن ختم کر دیا گیا۔

لیکن جس واقعے نے اس جزیرے اور یہاں کے مقامی باشندوں کو دنیا بھر میں "شہرت” دی، وہ نومبر 2018ء میں پیش آیا جب ایک 26 سالہ امریکی جون ایلن چاؤ مسیحی مذہب کی تبلیغ کے لیے اس جزیرے پر پہنچا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ ان قبائلی افراد کے ساتھ رہے اور انہیں تہذیب اور مذہب سے روشناس کرائے۔ کیونکہ جزیرے پر کسی کو جانے کی اجازت نہیں، اس لیے وہ مقامی ماہی گیروں کو پیسے دے کر غیر قانونی طور پر جزیرے پر پہنچا۔

چاؤ کے خطوط کے مطابق وہ جانتا تھا کہ اسے موت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کا دورہ غیر قانونی ہے، لیکن اس کا کہنا تھا کہ "یہ جزیرہ شیطان کا آخری گڑھ ہے، جہاں کسی نے کبھی خدا کا نام تک نہیں سنا۔ ان لوگوں کو یہ پیغام پہنچانا ضروری ہے۔ اگر وہ مجھے قتل بھی کر دیں تو مجھ سے ناراض مت ہوں۔ میری لاش نکالنے کی بھی ضرورت نہیں۔”

15 نومبر 2018ء کو چاؤ نے جزیرے پر اترنے کی پہلی کوشش کی۔ اس کی کشتی جیسے ہی جزیرے کے قریب پہنچی، مقامی افراد کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا جس پر وہ واپس چلے گئے۔ چاؤ کے خطوط کے مطابق دوسری بار جب وہ وہاں پہنچے تو مقامی افراد نے حیرت، خوشی اور غصے کا ملا جلا رجحان دکھایا۔ اس موقع پر ان کے لیے مذہبی گانے بھی گئے۔ چاؤ کے مطابق یہ لوگ اونچی آواز میں اور اشاروں کے ساتھ بھی بات کرتے۔ آخری خط میں چاؤ نے بتایا کہ میں نے انہیں مچھلیاں تحفے میں دیں تو ایک لڑکے نے مجھے تیر میرا جو میری بائبل میں گھس گیا، جو میں نے سینے پر رکھی ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ واپس آ گئے۔

ایک روز چھوڑ کر 17 نومبر کو چاؤ نے ماہی گیروں سے کہا کہ وہ اسے جزیرے پر چھوڑ دیں۔ انہوں نے بعد میں دیکھا کہ مقامی افراد اس کی لاش لے جا رہے ہیں اور اگلے روز اس کی لاش ساحل پر پڑی دیکھی گئی۔ پولیس نے چاؤ کی مدد کرنے پر 7 افراد کو گرفتار کیا کہ وہ اسے جزیرے پر کیوں لے گئے۔ جبکہ ‘نامعلوم افراد’ کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا لیکن ان کے خلاف کار روائی کوئی نہیں ہونی تھی۔ خود امریکی حکومت نے کہا کہ وہ بھارتی حکومت پر دباؤ نہیں ڈالے گی کہ وہ قبائلی افراد کے خلاف اقدامات اٹھائے۔ چاؤ کی لاش واپس لینے کی کوششیں بھی روک دی گئیں۔

بلاشبہ جدید دنیا کے کچھ نہ کچھ آثار تو اس قبیلے کو نظر آتے ہی ہوں گے۔ آسمان پر ہوائی جہاز اور سمندر میں بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔ اتنی مہمات جو ان کے جزیرے کی طرف گئی ہیں، ان سے بھی انہیں اندازہ ہو گیا ہوگا کہ باہر بھی ایک دنیا ہے جو ہم سے مختلف ہے۔ لیکن بیرونی دنیا کے خلاف اتنی مزاحمت غالباً تاریخ میں کسی نے نہیں کی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہ چھوٹا سا جزیرہ انسانوں کے ہزاروں سال پرانے طرزِ زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے