25.7 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

جب مقدس ایوان کُشتی کے اکھاڑے بن گئے

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

قومی اسمبلی میں گزشتہ روز جو کچھ ہوا، جمہوریت پر یقین رکھنے والے عوام کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ یہ وہ نمائندے ہیں کہ جنہیں ووٹ کی طاقت کے ذریعے اسمبلی میں قانون سازی کے لیے بھیجا جاتا ہے، لیکن وہاں اسی قانون کی دھجیاں اڑاتے نظر آئے۔ کیا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کیا نیم پڑھے لکھے، محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے، ماضی قریب میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ جنوری 2017ء میں اُس وقت کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے اراکین کے مابین پاناما پیپرز کے معاملے پر جھگڑا ہوا۔ اس دوران اراکین اسمبلی نے تھپڑوں، گھونسوں اور لاتوں سے ایک دوسرے کی ‘تواضع’ کی۔

رواں سال فروری میں معاملہ الٹ تھا۔ اب برسرِ اقتدار تحریکِ انصاف تھی اور مسلم لیگ ن اور دیگر بڑی جماعتیں حزبِ اختلاف میں۔ اجلاس کے دوران حزبِ اختلاف کے اراکین بجلی کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی، بدعنوانی اور کشمیر کے معاملے پر مبینہ سودے بازی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کر رہا تھا اور اس دوران حزبِ اختلاف اور اقتدار کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ شروع ہو گئیں۔ بعد ازاں تین اراکین پیپلز پارٹی کے نوید قمر، مسلم لیگ ن کے حامد حمید اور تحریکِ انصاف کے عطا اللہ خان کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس (شو کاز نوٹس) جاری کیے گئے۔

لیکن یقین جانیں، آپ دوسرے ملکوں کی اسمبلیوں میں ہونے والے جھگڑے دیکھ لیں تو آپ کو اپنے اراکینِ اسمبلی بہت معصوم لگیں گے۔

جارجیا

دسمبر 2014ء میں ایک اجلاس کے دوران حالات تب قابو سے باہر ہو گئے جب حزبِ اختلاف کے ایک رکن نے گالیاں بکنا شروع کر دیں۔ کچھ ہی دیر میں اراکین میں تصادم شروع ہو گیا۔ چند اراکین تو ایک دوسرے پر باکسنگ کی مشقیں کر رہے تھے تو باقی انہیں بچانے کی کوششوں میں مصروف نظر آئے۔ چند اراکین نے تو مائیک نکال کر ان سے ہی دوسروں کو مارنا شروع کر دیا۔


جنوبی افریقہ

‏2016ء میں جنوبی افریقہ میں حزبِ اختلاف کی جماعت کے اراکین صدر جیکب زوما کو تقریر کرنے سے روک رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے الزامات کے بعد زوما کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ اس احتجاج کے دوران سرخ رنگ کے لباس میں موجود اِن اراکین کو سکیورٹی گارڈز نے روکنے کی کوشش کی، اور یوں ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔


نیپال

آئین کے مسودے پر بحث کے دوران 2015ء میں نیپال کی پارلیمنٹ میں زبردست جھگڑا ہوا۔ جس میں لاتیں، مکے اور گھونسے تو ایک طرف، کرسیاں بھی خوب چلیں۔ ہنگامے کے دوران تین سکیورٹی گارڈز بھی زخمی ہوئے۔


یوکرین

2012ء میں یوکرین کی پارلیمنٹ میں ایک بل پر بحث کی جا رہی تھی، جس کے مطابق ملک کے روسی بولنے والے علاقوں میں عدالتوں، ہسپتالوں اور دیگر اداروں میں روسی زبان کا استعمال کرنے کی اجازت ملنی چاہیے یا نہیں لیکن یہ بحث جلد ہی بے قابو ہو گئی۔ ایک رکن نے تقریر کرنے والے عہدیدار کو پھول دینے کے بہانے انہیں ڈائس سے ہٹانے کی کوشش کی جس کے دوران زبردست تصادم شروع ہو گیا۔


تائیوان

تائیوان کی پارلیمنٹ اپنے جھگڑوں کی وجہ سے دنیا بھر میں "مشہور” ہے۔ مئی 2007ء میں تائیوان کی حکمران ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی کے اراکین بجٹ میں تاخیر کے حوالے سے سوال پر اسپیکر سے ناراض ہو گئے اور کچھ ہی دیر میں ایوان اکھاڑے کا منظر پیش کرنے لگا۔


بولیویا

اسی سال یعنی 2007ء میں جنوبی امریکا کے ملک بولیویا کی پارلیمنٹ میں ججوں پر بد عنوانی کے الزامات کے حوالے سے بحث کے دوران جھگڑا ہو گیا۔ جیسی لڑائی اس میں دیکھی گئی، ویسی بہت کم جگہ دیکھی گئی ہوگی۔ لاتوں، گھونسوں، مکوں اور دستیاب ہر ممکنہ "ہتھیار” کا آزادانہ استعمال ہوا۔


بھارت

اکتوبر 1997ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کی اسمبلی میں زبردست جھگڑا ہو گیا جس میں اراکین نے مائیک کا بطور ہتھیار جو استعمال کیا ہے، ویسا دنیا میں کہیں نظر نہیں آیا ہوگا۔ کرسیاں بھی ایک دوسرے پر پھینکی گئیں۔ یہاں تک کہ سکیورٹی اہلکاروں کو میزوں کے بالائی حصے نکال کر انہیں بطور ڈھال استعمال کر کے اسپیکر کو بچانا پڑا۔ ہنگامے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔


اردن

اردن کی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے تو حد ہی کر دی۔ انہوں نے جھگڑے کے بعد ایک دوسرے رکن کو قتل کرنے کے لیے کلاشنکوف پارلیمان میں لانے کی کوشش کی۔ نومبر 2013ء میں پیش آنے والے اس واقعے میں طلال شریف نامی رکن کو کلاشنکوف لانے کی کوشش پر سکیورٹی گارڈز نے روکا تو انہوں نے چند فائر بھی مارے۔


اسرائیل

اسرائیل کی پارلیمان بھی ایک بڑا تماشا ہے۔ گزشتہ دو سال میں چار مرتبہ انتخابات ہی ملک کے سیاسی منظر نامے کو ظاہر کرتے ہیں۔ بہرحال، 2018ء میں جب اُس وقت کے امریکی صدر مائیک پنس خطاب کر رہے تھے تو چند اراکین نے ان پر آوازے کسے۔ اس دوران کئی سکیورٹی اہلکار اندر داخل ہوئے اور ان اراکین کو کچھ ہاتھا پائی کے بعد باہر نکال دیا۔


جاپان

ستمبر 2017ء میں جاپان میں ایک متنازع بل پیش کیا گیا، جس کے تحت دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار جاپانی فوجیوں کو بیرونِ ملک لڑنے کی اجازت دی گئی۔ حزبِ اختلاف کے اراکین نے اس کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور جب ایوانِ بالا کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا تو انہوں نے مداخلت کر کے اس ووٹنگ کو روکنے کی کوشش کی۔ خود ہی دیکھ لیجیے:


ترکی

ترکی میں اراکینِ اسمبلی پر کوئی مقدمہ نہیں کروایا جا سکتا اور انہیں استثنیٰ حاصل ہے، اس قانون کے خلاف 2016ء میں ایک تجویز پیش کی گئی تھی، جس کی سماعت کے دوران جھگڑا ہو گیا۔ ابتدائی کھینچا تانی کے بعد چند دیگر اراکین گتھم گتھا ہو گئے اور لاتوں، گھونسوں اور مکوں کی برسات شروع ہو گئی۔ اس دوران پانی کی بوتلیں بھی ایک دوسرے کو ماری گئیں۔ خواتین اراکین بھی رگڑے میں آئیں اور انہیں بھی خوب مار پڑی۔ اس واقعے میں متعدد اراکین زخمی ہوئے۔


کوسوو

یورپ کے ملک کوسوو میں تو اراکین پارلیمنٹ نے حد ہی کر دی۔ مارچ 2016ء میں ایک اجلاس کو روکنے کے لیے حزبِ اختلاف کے اراکین نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ جی ہاں! یہ بہترین "نسخہ” ثابت ہوا اور کچھ ہی دیر میں پورا ایوان خالی ہو گیا۔ کئی اراکین کو جلتی آنکھوں کے ساتھ کھانستے ہوئے باہر نکلتے دیکھا گیا۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے