28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

چین کے تین خلا باز تاریخی مہم پر جانے کے لیے تیار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

چین اپنے نئے خلائی اسٹیشن پر تین خلا باز بھیجنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے اور جمعرات کی صبح یہ تینوں اپنے تاریخی سفر پر روانہ ہو جائیں گے۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS)، جو امریکا، روس، کینیڈا، یورپ اور جاپان کا مشترکہ منصوبہ ہے، چین کے خلا بازوں کو آنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ امریکی قانون کے تحت ‘ناسا’ چین کے ساتھ کوئی خلائی تعاون نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے مقابلے پر اپنا خلائی اسٹیشن بنا لیا ہے، جس کے پہلے مہمان اب روانہ ہونے والے ہیں۔

چینی خلائی ادارے کے مطابق یہ خلا باز ‘شین چو 12’ خلائی جہاز کے ذریعے جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق 9 بج کر 22 منٹ پر روانہ ہوں گے۔ ایجنسی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جی چی منگ نے کہا کہ اس عظیم کائنات کی کھوج اور خلاؤں میں بھی ایک طاقتور ملک بننے کے لیے ایسی خلائی سرگرمیاں ہمارا خواب ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ مستقبلِ قریب میں جب یہ خلائی اسٹیشن مکمل ہو جائے گا تو ہم دیکھیں گے کہ چینی اور دوسرے ملکوں کے خلا باز بھی اس اسٹیشن پر مل کر کام کریں گے۔ یہ خلائی تحقیق کے لیے چین کا مثبت حصہ ہے اور خلا کے پر امن استعمال اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی جانب ایک قدم بھی۔

چین کے خلائی اسٹیشن کی تعمیر کے لیے ‘شین چو 12’ کُل 11 مشن میں سے تیسرا ہے، جس کی تکمیل 2022ء میں متوقع ہے۔ اس مشن کے لیے خلا باز نی ہائی شینگ، لیو بومنگ اور تانگ ہونگ بو صحرائے گوبی میں واقع جیوچوان خلائی اڈے سے روانہ ہوں گے۔

یہ تینوں تین مہینے تک اِس نئے اسٹیشن کے مرکزی ماڈیول میں رہیں گے۔یہ کسی بھی چینی خلا باز کا خلا میں طویل ترین قیام ہوگا۔ وہ ‘تیان ہی’ نامی اسٹیشن پر قیام کے دوران اس کی مرمت کے مختلف کام کریں گے، تجربات کریں گے اور خلا میں چہل قدمی (spacewalk) بھی کریں گے۔

نی ہائی شینگ نے کہا کہ اس مرتبہ مشن ذرا لمبا ہے، ہمیں نہ صرف بنیادی ماڈیول کو بنانا ہے جو خلا میں ہمارا گھر ہوگا، بلکہ مختلف تکنیکی تجربات بھی کرنے ہوں گے۔ نی چین کی فضائیہ کے ایک معروف پائلٹ تھے، جو اب تک دو خلائی مشن میں حصہ لے چکے ہیں اور 1998ء میں تربیت کے لیے منتخب کردہ ابتدائی خلا بازوں میں شامل تھے۔ لیو اِس سے پہلے 2011ء کی مہم کا حصہ تھے کہ جس میں چین کی پہلی خلائی چہل قدمی (spacewalk) بھی کی گئی تھی جبکہ تانگ ہونگ بو 2010ء میں خلا بازوں کے دوسرے سلسلے میں منتخب ہوئے اور پہلی بار خلا میں جائیں گے۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے