11 C
Islamabad
منگل, جنوری 25, 2022

دنیا میں سب سے زیادہ فٹ بال پاکستان ہی میں کیوں بنتی ہیں؟

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

فٹ بال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اور ہمالیہ کے دامن سے لے کر افریقہ کے جنگلات، عرب کے صحراؤں سے مغرب کے سبزہ زاروں تک، شاید ہی دنیا کی کوئی جگہ ایسی ہے جہاں فٹ بال نہ ہو۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ فٹ بال پاکستان میں تیار ہوتی ہیں؟ جی ہاں! وہ بھی صرف ایک ہی شہر میں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا شہر سیالکوٹ دنیا بھر میں بننے والی 40 فیصد فٹ بالز تیار کرتا ہے جو ناقابلِ یقین لگتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے۔

دراصل پاکستان جیسے ملک میں مزدوری اور دیگر لاگت لاگت کم ہونے کی وجہ سے یہ صنعت بہت آگے چلی گئی ہے۔ سیالکوٹ اور فٹ بال، یہ تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔ سیالکوٹ پہلی بار دنیا کے سامنے 1982ء کے ورلڈ کپ میں منظرِ عام پر آیا، جب یہاں تیار کی گئی گیند ‘Tango’ اسپین میں ہونے والے ورلڈ کپ میں استعمال کی گئی تھی۔ اس کے بعد سیالکوٹ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور آج فٹ بال کی پیداوار میں ‘سپر پاور’ ہے۔ ورلڈ کپ کے لیے آفیشل فٹ بال بنانا ویسے ہی بڑے اعزاز کی بات ہے لیکن یہ اس کی بھی علامت ہے فٹ بال کتنی اعلیٰ معیار کی گیند تیار کر سکتا ہے۔

لیکن سیالکوٹ ہی کیوں؟ آخر فٹ بال کا اس شہر سے تعلق کیسے قائم ہوا؟ اس کی تاریخ 1889ء سے جا ملتی ہے جب غیر منقسم ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ تب چند انگریزوں نے مطالبہ کیا کہ فٹ بال پنجاب میں ہی تیار نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ مغرب سے فٹ بال آنے کا طویل انتظار نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ ہی فٹ بال کی پیداوار کا جو آغاز ہوا تو آج تک جاری و ساری ہے۔ چند گوروں کے مطالبے نے سیالکوٹ کو ایک نئی سمت میں رواں کر دیا۔

آج سیالکوٹ کا بڑا انحصار فٹ بال پیداوار پر ہے۔ شہر میں چلتے پھرتے آپ کو یہاں فٹ بال کے کارخانوں کی ناقابلِ یقین تعداد نظر آئے گی، 2 ہزار سے بھی زیادہ۔ صرف 20 لاکھ آبادی رکھنے والے شہر کی بڑی آبادی فٹ بال انڈسٹری سے جڑی ہوئی ہے بلکہ اکثر و بیشتر تو پورے پورے خاندان یہ کام کرتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ سیالکوٹ کو مقابلے کا سامنا نہیں۔ ایشیا کے کئی ممالک نے ایسی کوششیں کیں کہ سیالکوٹ اور پاکستان کو پچھاڑ نہیں پائے۔ اب بھی سیالکوٹ کا کوئی مقابل نہیں دُور تک، بلکہ بہت دُور تک!

البتہ چند فٹ بال بنانے والے اداروں کے سوا باقی کارخانے جدت اپنانے کے معاملے میں پیش پیش نظر نہیں آئے، اس کے باوجود شہر کی فٹ بال دنیا میں بالا دستی حیران کن لگتی ہے۔ فٹ بال کی پیداوار کے زیادہ اچھے طریقے سامنے آنے کے باوجود شہر کے 35 میں سے صرف 5 بڑے کارخانوں نے جدت کو قبول کیا۔ البتہ صورت حال اب بدل رہی ہے کیونکہ فٹ بال کی عالمی انجمن (FIFA) نے فٹ بال کے لازماً ہاتھ سے سلے ہونے کی شرط ختم کر دی ہے اور اب سیالکوٹ کے کارخانے بین الاقوامی خریداروں کی طلب پوری کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی قبول کر رہے ہیں۔

سیالکوٹ کی معیشت برآمدات پر منحصر ہے بلکہ سیالکوٹ میں تیار شدہ 99 فیصد سامان برآمد ہی ہوتا ہے۔ ا سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہر فٹ بال پر کتنا انحصار کرتا ہے۔ اور تمام تر دباؤ کے باوجود سیالکوٹ اس وقت بھی دنیا کا فٹ بال مرکز ہے۔ آج بھی نائیکی، ریبوک اور ایڈیڈاس جیسے برانڈز اپنی گیندیں سیالکوٹ ہی سے بنواتے ہیں۔

جب فٹ بال ورلڈ کپ آتا ہے تو سیالکوٹ کی رونقیں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔ 2022ء میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاریاں بھی عروج پر ہیں، قطر میں بھی اور سیالکوٹ میں بھی۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے