28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

اس گرمی میں کہاں جائیں؟ آپ کے لیے 10 بہترین سیاحتی مقامات

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

پاکستان کے بیشتر میدانی علاقوں میں اِس وقت شدید گرمی پڑ رہی ہے سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں سے لے کر شمال میں جہاں تک میدانی علاقے موجود ہیں، ہر شہر کم از کم ایک مرتبہ تو 40 درجہ سینٹی گریڈ کی "نفسیاتی حد” عبور کر ہی چکا ہے۔ اس صورتِ حال میں دل چاہتا ہے کہ بس کوئی پُر فضا اور ٹھنڈا مقام ہو، جہاں کا رُخ کریں اور چند دن وہاں گزاریں۔ یہی وجہ ہے کہ مئی سے لے کر اگست تک پاکستان میں سیاحت اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سیاحت کے لیے جائیں تو کہاں جائیں؟ تو آئیے آپ کو ان چند مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں جہاں جانا آسان بھی ہے اور وہاں سیاحت کے لحاظ سے بنیادی سہولیات بھی موجود ہیں، یعنی ہوٹل، تفریحی مقامات اور سب سے بڑھ کر بہترین موسم اور دلفریب مناظر بھی۔

وادئ سوات

ماضی قریب میں بہت مشکل وقت دیکھنے والی وادئ سوات بلاشبہ پاکستان کے خوبصورت ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ سر سبز و شاداب کھیت کھلیانوں سے لے کر پہاڑوں تک، خوب صورت گاؤں اور شفاف دریاؤں تک، آپ کو یہاں سب کچھ ملے گا۔ وادی میں کئی مقامات ایسے ہیں جو دیکھنے کے قابل ہیں مثلاً کالام، اوشو جنگل اور مہو ڈنڈ جیسی خوبصورت جھیل۔ حال ہی میں پی آئی اے نے ملک کے مختلف شہروں سے سوات کے لیے پروازوں کا آغاز کیا ہے یعنی اب یہاں جانا اور بھی آسان ہو گیا ہے۔


وادئ ہنزہ

وادئ ہنزہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جدید شاہراہِ قراقرم اسی وادی سے گزرتی ہے اور اس وادی میں سڑک کنارے سے ہی ایسے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ دل چاہتا ہے یہ سفر کبھی ختم نہ ہو۔ وادئ ہنزہ دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک زیریں وادی اور دوسری بالائی وادی۔ زیریں وادی میں اس کے تمام بڑے شہر ہیں، مثلاً کریم آباد وغیرہ۔ یہیں سے آپ کو وادی کے تمام گنجان آباد علاقے اپنے قدموں میں نظر آئیں گے اور اُن کے اوپر راکاپوشی ایک نگہبان کی طرح کھڑا نظر آتا ہے۔ بالائی ہنزہ جسے وادئ گوجال بھی کہا جاتا ہے میں پسو کونز اور عطا آباد جھیل جیسے مشہور مقامات ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔

عطا آباد جھیل


وادئ شمشال

یہ ذرا کم معروف وادی ہے لیکن ایک حیرت انگیز مقام ہے۔ اس کا راستہ وادئ گوجال میں شاہراہِ قراقرم سے نکلتا ہے اور ایک بھرپور ایڈونچر کے حامل جیپ ٹریک کے بعد ایسی جگہ پہنچتا ہے جسے کوہ پیماؤں کی سرزمین کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ پاکستان کی معروف کوہ پیما ثمینہ بیگ اور ان کے بھائی علی بیگ کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ کوہ پیمائی کے شوقین افراد یہاں ارد گرد کے خوبصورت ٹریک بھی کر سکتے ہیں اور اگر نہ بھی کریں تو یہاں چند دن گزار کر آپ کی طبیعت تازہ دم ہو جائے گی۔


وادئ چترال

خیبر پختونخوا کے انتہائی شمال میں وادئ چترال واقع ہے، جو اپنی خوبصورتی اور قدیم تاریخ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اگر آپ ایڈونچر پسند کرتے ہیں اور "کچھ نیا” دیکھنا چاہتے ہیں تو چترال کی وادئ بروغل چلے جائیں۔ یہاں ماضی میں صرف گھوڑوں کے ذریعے ہی جانا ممکن تھا لیکن اب جیپ کے ذریعے جایا جا سکتا ہے۔ یہاں انتہائی بلندی پر واقع جھیلیں ہیں اور بہت بڑے بڑے سبزہ زار بھی، جن کے پسِ منظر میں بلند و بالا چوٹیاں ہیں۔ یہاں کا سب سے بڑا قدرتی شاہکار کرومبر جھیل ہے، جو آخری گاؤں بروغل سے ایک دن کے ٹریک پر واقع ہے۔

کرومبر جھیل


وادئ کالاش

چترال میں کالاش کی وادیاں پاکستان کے منفرد علاقے بھی ہیں کیونکہ پورے ملک کے برعکس یہاں کے لوگوں کے عقائد، ثقافت اور زبان مکمل طور پر الگ ہے۔ پھر یہ پاکستان کی خوبصورت ترین وادیوں میں بھی شمار ہوتی ہیں۔ یہاں کے مقامی لکڑی سے بنے گھروں میں رہتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ دراصل سکندر اعظم کی عالمی فتوحات کے زمانے میں یہاں بس جانے والے یونانیوں کی اولادیں ہیں۔ یہ وادیاں چترال سے صرف ڈھائی گھنٹے کے فاصلے پر ہیں اور قدرتی اور تاریخی دونوں لحاظ سے دیکھنے کے قابل ہیں۔


اسکردو

پاکستان کا حیرت انگیز ترین علاقہ بلاشبہ اسکردو ہے، کیونکہ یہاں آپ کو ایک ہی جگہ پر بہت کچھ دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ انتہائی بلند و بالا پہاڑ، دریائے سندھ جیسا عظیم دریا، بڑی جھیلیں، سر سبز پھلوں کے باغات اور ساتھ ہی صحرا بھی۔ جی ہاں! اسکردو کے نواح میں دنیا کے خوبصورت ترین سرد صحرا موجود ہیں، جو موسمِ سرما میں برف سے ڈھک جاتے ہیں اور باقی ایام میں یہاں دھول اڑتی دکھائی دیتی ہے۔ سرفہ رنگا اور کٹپنا نامی دونوں صحرا سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔ اسکردو کے لیے اسلام آباد سمیت مختلف شہروں سے براہِ راست پروازیں بھی چلتی ہیں لیکن اگر آپ ایڈونچر کے شوقین ہیں تو دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتے رہیں، شاہراہِ قراقرم پر سفر کو آپ زندگی میں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔

صحرائے کٹپنا


دیوسائی

دیوسائی کو بسا اوقات ‘دنیا کی چھت’ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ 4,117 میٹر (13,497 فٹ) بلند یہ میدان دنیا کی دوسری بلند ترین سطح مرتفع ہے اور یہاں صرف گرمیوں کے موسم میں ہی جا سکتے ہیں۔ یہاں کی تا حدِ نظر سبز چراہ گاہیں، ان کے پسِ منظر میں برف سے ڈھکی چوٹیاں، ان کے درمیان شفاف اور نیلے پانی کی جھیلیں اور پہاڑی چشمے اسے خوبصورت ترین مقام بناتے ہیں۔ یہاں ریچھ بھی پائے جاتے ہیں کہ جنہیں ہمالیائی بھورے بھالو کہتے ہیں۔ اگر آپ اسکردو جاتے ہیں تو دیوسائی ضرور جائیں، بذریعہ جیپ با آسانی ایک دن میں دیوسائی کے تمام اہم مقامات دیکھے جا سکتے ہیں۔


فیری میڈوز

اگر آپ میں دم ہے، ہمت ہے اور ایڈونچر کا شوق رکھتے ہیں، ساتھ ہی جیب بھی بھاری ہے، تو فیری میڈوز ضرور جائیں، یہاں سے نانگا پربت کے حیران کُن نظارے ملتے ہیں جو پاکستان کی دوسری اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے۔ ہمت کی بات اس لیے کی کیونکہ یہاں تک پہنچنے کا راستہ بڑا خراب ہے، جسے دنیا کی خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک کہتے ہیں۔ اس کے بعد کئی کلومیٹرز کا پیدل سفر بھی ہے جس کے بعد ہی آپ فیری میڈوز پہنچ جاتے ہیں جہاں پاکستان کے مہنگے ترین ہوٹل آپ کے منتظر ہوں گے۔ لیکن اس نظارے کی کوئی قیمت نہیں، جو یہاں سے نظر آتا ہے۔


درۂ خنجراب

یہ پہاڑی درہ پاکستان اور چین کو ملاتا ہے اور یہاں آپ کو پہنچائے گی دنیا کی سب سے اونچی باقاعدہ سڑک جو 4,600 میٹرز یعنی 15,397 فٹ بلندی سے گزرتی ہے۔ یہاں آپ کو برف سے ڈھکے پہاڑوں کے دامن میں پاک-چین سرحد نظر آئے گی کہ جہاں ایک خوبصورت یادگار بھی بنی ہوئی ہے۔ سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں آتی ہے، خاص طور پر ہنزہ آنے والے تقریباً سارے ہی سیاح یہاں کا چکر ضرور لگاتے ہیں۔


وادئ نلتر

وادئ نلتر گلگت شہر سے صرف 54 کلومیٹرز کے فاصلے پر ہے یعنی یہ ہنزہ اور اسکردو وغیرہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ قریب ہے۔ اس کے حیران کن جنگلات، شفاف اور رنگین جھیلیں اور سردیوں میں اسکی انگ کی سہولیات سیاحوں میں مقبول بناتی ہیں۔ یہاں صرف جیپ کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے اور سیاحوں کے لیے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس موجود ہیں۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے