28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلو 9 روپے اضافے کا امکان

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

آئندہ ماہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان، سی این جی کی موجودہ قیمت 81.8 فی کلو ہے۔

ذرائع کے مطابق مالی سال 22-2021 کے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد آٹا، پیٹرولیم مصنوعات اور اب سی این جی کی قیمتوں میں بھی یکم جولائی سے اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ اس اضافے کا فیصلہ بجٹ میں اضافی ٹیکسوں کے باعث کیا گیا ہے جس کے بعد سی این جی کی قیمت میں 9 روپے فی کلو تک اضافے کا امکان ہے۔

اس حوالے سے آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین غیاث عبد اللہ پراچہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے آئندہ سال کے بجٹ میں ایل این جی پر اضافی ٹیکس لگانے سے سینکڑوں سی این جی اسٹیشنز بند ہوجائیں گے۔ سی این جی پپمس بند ہونے کے باعث لاکھوں افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیکسوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لیا جائے یا پھر دیگر شعبوں کی طرح مقامی گیس سستے داموں دی جائے۔

غیاث عبد اللہ نے کہا کہ حکومت برآمدات کو بڑھانے کے لیے برآمدی صنعت پر توجہ دینے کے ساتھ بہت سارے شعبوں کو سستی توانائی مہیا کر رہی ہے لیکن تجارتی فرق کو کم کرنے کے لیے درآمدی بل میں بھی کمی ضروری ہے جس کے لیے سی این جی کا فروغ ضروری ہے۔ حالیہ بجٹ میں تقریباً تمام شعبوں کو ریلیف فراہم کیا گیا لیکن سی این جی سیکٹر کے ساتھ ایسا سخت رویہ کیوں ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ سی این جی سیکٹر سب سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے اور ایل این جی کے لیے پوری قیمت ادا کر رہا ہے۔ سی این جی کی بندش سے ایل این جی منصوبے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ سی این جی واحد سب سیکٹر ہے جو بغیر کسی سبسڈی یا چھوٹ کے ایل این جی خریدتا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔ فیصلے کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 13 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 110 روپے 70 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 79 پیسے کا اضافہ اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں 2 روپے 3 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ دوسری طرف مٹی کا تیل بھی 1 روپے 89 پیسے مہنگا ہوا تھا۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے