25.7 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

”ہم کیا ہماری ہجرت کیا“ – سلمان احمد صوفی

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
اور پھر آخر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔۔
فیض احمد فیض

فیض لکھتے کم اور موتی زیادہ رولتے تھے۔ ان کی سوچ کی گہرائی انہی کے قلم کی شان تھی جس کو جیل کی سلاخیں بھی زنگ آلود نا کر سکیں۔ اکثر کلاسیکل شعراء کو پڑھنے کے بعد اک سوال سوچ کی لہروں پہ تیرتا نظر آتا ہے کہ کیا اس بڑھ کر بھی کوئی شعر کہہ سکتا ہے؟پھر ذہن کے نہاں خانوں میں خیال امنڈتا ہے کہ میر اور درد کو پڑھتے ہوئے بھی قاری شاید ایسا ہی سوچتے ہوں؟ مگر دنیا نے دیکھا ان کے بعد جس دھج سے غالب ،ذوق اور مومن آئے سب حیران رہ گئے کہ یہ نا ہوتے تو اردو ادب میں کیا ہوتا؟ یہ ہستیاں دنیا سے اٹھیں تو اقبال اور فیض نے ایسے شعر کہے کہ زمانہ عش عش کر اٹھا۔ ہر جانے والے کے بعد ایک نیا ضرور آتا ہے جو اپنا اسلوب اور سوچ لاتا ہے مگر چند عشروں سے یہ سلسلہ شاید تک سا گیا ہے ہم میں نئی بات کہنے والے نا جانے کدھر رہ گئے ؟

تلاش حق میں سرگرداں دلاور اب خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ جو چند سر پھرے ہیں بھی ان کی راہ کھوٹی کرنے کے واسطے بھی کئی رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں۔ سوچ کی آبیاری نا معاشرہ کر رہا ہے اور نا ہمارے ادارے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی بنجر زمین کی طرح ہے جس میں سیم و تھور کی تہیں چڑھی دکھائی دیتی ہیں، سوچنے والے ذہنوں کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

ہر سال میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں سنتے ہیں کہ طالب علم کے تقریباً پورے نمبرز حاصل کیے ہیں لیکن ان میں سے شاید چند ایک ہی ہوں جنہوں نے تحقیق کے میدان میں جھنڈے گاڑے ہوں یا کوئی نئی چیز ایجاد کی ہو ؟ کسی بھی پاکستانی نے کیمسٹری، بیالوجی یا اکنامکس میں کوئی نوبل پرائز جیتا ہو؟کبھی کوئی تحقیقی مقالہ لکھا ہو کہ جس پہ دنیا میں تہلکہ مچا ہو؟ ڈاکٹر عبدالسلام کے بعد کسی بھی سائنسدان نے نوبل پرائز نہیں لیا۔ پاکستان کی جامعات دنیا کی ٹاپ کی یونیورسٹیوں میں کوئی نام و نشان نہیں رکھتیں۔ ایسا ہو بھی تو کیوں کر؟اس لیے کہ ہزاروں اسکول ایسے ہیں جہاں لیبارٹری نام کی چڑیا نہیں ہے جہاں ہیں وہاں نا تو سامان ہے نا ہی جدت۔ کمپیوٹر لیبز بھی موجود نہیں جہاں ہیں وہاں بس اے سی ہونے کی وجہ سے "ٹھنڈے کمرے” کا کام دے رہی ہیں۔ کالجز میں بھی لیبارٹریز کسی اجڑے دیار سے کم کا نظارہ نہیں دے رہیں جو لیبارٹریز کم اور کاٹھ کباڑ کا سٹور زیادہ لگتی ہیں اس میں کوئی ایک حکومت ذمہ دار نہیں پچھلے 73 سالوں میں ہر اک حکومت نے تعلیم کو اولین ترجیح دی نا جدید تقاضوں پہ استوار کیا۔

بچے یونیورسٹیوں میں پہنچ جاتے ہیں مگر اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ ان کا اس ڈگری حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ جو اس فرسودہ تعلیمی نظام کا شاخسانہ ہے اگر آپ بچوں سے میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے طلباء سے پوچھ لیں تو کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں تو وہ ڈاکٹر، انجینئر یا فوجی بننے کا گھسا پٹا جواب ہی دیں گے۔ اب سارے یہ سب بن بھی نہیں سکتے سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ جو یہ نہیں بنتے تو وہ کیا کریں گے؟ اس کا جواب ندارد ہے ۔اس پہ بھی کوئی تحقیق ہو تو پتہ چلے۔

تحقیق بذات خود مشکل اور صبر آزما کام ہے مگر اسے مشکل تر بنا دیا جاتا ہے کہ اول تو طالب علم اس راہ کی طرف آتے ہی ڈرتے ہیں جو آجائیں وہ اس پرخار راستے پہ نا آنے والوں پہ رشک کرتے ہیں پاکستان میں کسی بھی مضمون میں ایم اے کرنے کے بعد تقریباً %5 فیصد لوگ ہی ایم فل کرتے ہیں جو کہ 1.5سے 2 سال کی ڈگری ہوتی ہے مگر جو لوگ نوکری کے ساتھ ساتھ کوئی تحقیق کرتے ہیں تو ان کے لیے یہ کام مشکل ہوجاتاہے وہ 2 کی بجائے3, 4 سال میں یہ کام کر پاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ طلباء کے اپنے مسائل کے ساتھ ساتھ اکثر سرکاری یا نجی یونیورسٹیوں میں موجود ناتجربہ کار اور نوجوان اساتذہ بھی ہیں جو نئے نئے ایم فل کر کے آئے ہوتے ہیں، اکثر ذہین طلباء سے خود کو "ان سکیور” محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر و بیشتر سفارش پہ بھرتی ہوتے ہیں دوسرے بہت ساروں کو خود ریسرچ کا زیادہ پتہ نہیں ہوتا تو اپنے طلباء کو بھی بہتر طور پہ نہیں بتا سکتے ۔ آپ کسی طرح ایم فل یا اس کے مساوی ڈگری لے کر پاکستان میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں تو عموما 5 سال سے کم میں ڈگری مکمل نہیں ہوتی۔

کیا وجہ ہے کہ یورپی ممالک تو چھوڑیے پاکستانی طلباء و طالبات چین اور ملائیشیا وغیرہ سے 3 سال میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کر کے آ جاتے ہیں۔وہاں کی جامعات طلباء کو عموماً 1 سے 3 لاکھ ماہانہ وظیفہ بھی مہیا کرتی ہیں جس سے طالب علم ذہنی پریشانی سے آزاد رہتے ہیں کہ انہیں کمانے کی فکر نہیں ہوتی وہ وقت پہ ناصرف اپنی ڈگری مکمل کر لیتے ہیں بلکہ اس دوران اپنے گھر والوں کو ماہانہ رقوم بھیجنے کے قابل بھی ہو جاتے ہیں۔ جس سے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوتا ہے ۔ہمارا ہمسایہ ملک ہر سال لاکھوں طلباء کو سکالرشپ پہ باہر بھیجتا ہے جس سے ناصرف اسے زرمبادلہ کے ذخائر ملتے ہیں بلکہ جب یہ طلباء وطالبات وہاں سیٹل ہو جاتے ہیں تو اپنے ملک کے لیے لابنگ بھی کرتے ہیں جبکہ ہمارا رونا یہ ہوتا ہے کہ ہماری باہر سنی نہیں جاتی۔ سنی تب جائے جب محنت اور صبر سے اس پہ باقاعدہ کام کیا جائے۔

اچھا خیر ،پاکستان میں اول تحقیق کرنے پہ کوئی معاوضہ نہیں ملتا اگر ملے بھی تو وہ برائے نام ہوتا ہے وہ بھی اس صورت میں اگر آپ کیمپس پہ ہی موجود رہیں یا پھر یونیورسٹی میں تدریسی عمل کا حصہ بنیں جس سے ایک انسان اپنا گھر نہیں چلا سکتا مجبورا نوکری کے ساتھ ساتھ تحقیقی کام سر انجام دینا پڑتا ہے جو کہ اعصاب پہ بوجھ بن جاتا ہے جو بے چارے شادی شدہ ہوں وہ تو سمجھیں چومکھی لڑائی لڑ رہے ہوتے ہیں بیوی بچوں اور نوکری کی زمہ داریوں سے نبردآزما ہوتے ہوئے معیاری تحقیق کرنا آسان نہیں ہے۔ سب سے اہم پہلو جو خصوصاً پاکستان میں نظر انداز ہے کہ آپ تحقیق کس چیز پہ کر رہے ہیں ؟ آپ کس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں ؟ اس کے پاکستان کے معاشرے یا انڈسٹری پہ کیا اثرات ہوں گے ؟ یہاں صرف پی ایچ کی ڈگری کے حصول کی خاطر تحقیق ہو رہی ہوتی ہے جبکہ باہر کی یونیورسٹیوں کو خاص موضوعات پہ تحقیقات کے لیے فنڈنگ ملتی ہے جس کا اس انڈسٹری یا سیکٹر کو فائدہ ہوتا ہےمثال کے طور پہ فارماسیوٹیکل کمپنیز ہوں یا کوروپویٹ سیکٹر ہر کوئی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پہ بے پناہ خرچ کر رہا ہے جو ریسرچ کرنے والے ہیں ان کو نوازا بھی جاتا ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں ریسرچرز کو ذہنی ازیت کے سوا کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا

جو باہر سر ریسرچ کر کے آتے ہیں ان کو نوکری تک نہیں دی جاتی وہ مجبورا دوبارہ باہر چلے جاتے ہیں میرے اک دوست جرمنی سے بیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے واپس پاکستان آئے وہ تحقیق میں دلچسپی رکھتے تھے مگر ان کو یہاں کوئی گھاس نہیں ڈالی گئی۔ ایک سال بے روزگار رہ کر وہ امریکہ چلے گئے ہیں۔ ایسی بے شمار مثالیں ہمارے ارد گرد ہیں اسی لیے پاکستان ایسے بد قسمت ممالک میں سر فہرست ہے جہاں برین ڈریننگ کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ ہم دعا ہی کر سکتے ہیں کبھی اس وطن میں ملک کی محبت سے سرشار "سر پھروں” کی قدر کی جائے گی ورنہ کھلی فضاء میں سانس لینے کے آرزو مند رزق کے متلاشی پرندے بھی ہجرت کر جاتے ہیں۔

شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
افتخار عارف

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے