21.6 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

افغانستان میں ترکی کیا اہم کردار ادا کرنے جارہا ہے؟

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

افغانستان اور ترکی کے درمیان تعلقات کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں اور 20 ویں صدی کے دوران دونوں میں خاطر خواہ تعلقات رہے۔

معروف امریکی جریدے ‘نیوز ویک’ کے لیے تجزیہ کار فرزاد رمضانی اور زہرہ دربندساری کا لکھنا ہے کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ترکی نے، نیٹو کے واحد مسلم اکثریتی رکن کی حیثیت سے، اپنے قومی مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 2001ء میں اپنی فوج افغانستان بھیجی۔ انقرہ نے مختلف سیاسی، معاشی، سلامتی اور ثقافتی پہلوؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی بھی کوشش کی۔

افغان معاشرے کے دو عناصر – سنّی اکثریت اور ترک اقلیت (ازبک اور ترکمن) ترکی کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ ترکی نے ہمیشہ افغانستان میں ترک اقلیت کی طرف توجہ کی ہے، ان کی حمایت کی ہے، خاص طور پر جب بات سابق نائب صدر افغانستان عبد الرشید دوستم کی ہو۔

پھر افغان-ترک اسکولوں کا قیام ، ترکی کی جانب سے وظائف کی تعداد بڑھانا، عملے کی تربیت ، ثقافتی اصلاح، یونس امرہ فاؤنڈیشن کی موجودگی میں اضافہ ، ترک ڈراموں اور فلموں کی نشریات اور ترکش زبان کی تعلیم، یہ سب افغانستان میں ترکی کی ‘سافٹ پاور’ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر افغانستان کے ترک اکثریتی علاقوں میں۔

دونوں ممالک کے مابین چند سالوں سے موجود تزویراتی معاہدے کے علاوہ دوسرے پہلوؤں سے بھی سفارتی اور تزویراتی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی سطح پر دیکھیں تو انقرہ افغانستان میں اپنے سیاسی اہداف کے لیے جمعیتِ اسلامی جیسی تنظیم کو استعمال کرتا ہے۔  ترکی ہرات اور قندھار میں قونصل خانوں کے قیام اور جمعیتِ اسلامی اور حزبِ اسلامی کے ذریعے طالبان کے  ساتھ رابطوں کے ذریعے  افغانستان کے مختلف نسلی گروہوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔

ان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران ترکی نے افغانستان کے حوالے سے کئی اہم کانفرنسوں کی میزبانی کی۔ پاکستان، افغانستان اور ترکی کے سہ فریقی اجلاسوں اور افغانستان اور پاکستان کے مابین ثالثی کرنے کے علاوہ انقرہ نے طالبان کے افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی میزبانی اور ثالث کی حیثیت سے کام کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ یورپ اور امریکا کی حمایت سے ترکی افغانستان میں زیادہ سرگرم نظر آتا ہے۔ اسی طرح استانبول امن کانفرنس کی میزبانی کے لیے کام کیا جا رہا ہے اور ترکی-افغانستان-پاکستان سہ فریقی بات چیت کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

فوجی اور سکیورٹی معاملات میں ترکی نے افغان فوج اور پولیس کی تربیت میں مدد کے لیے ایک پروگرام تشکیل دیا ہے، اور انہیں وظائف بھی دے رہا ہے۔ انقرہ کا ہدف ہے افغانستان میں سیاسی استحکام، موجودہ سیاسی ڈھانچے اور اداروں کو مضبوط بنانا، امن کا فروغ اور دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ۔ ترکی افغانستان میں ایک اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر ستمبر کے مہینے تک ہونے والے امریکی فوج کے انخلا کے بعد۔ امن فوج کی صورت میں موجودگی اور کابل کے ہوائی اڈے کی حفاظت اور انتظام سنبھالنا ترکی کی خواہش ہے۔

افغانستان میں ترکی کے بڑھتے ہوئے کردار پر دو رائے پائی جاتی ہیں۔ اس کا دفاع کرنے والے مذہبی یکسانیت، معاشی و تعلیمی حالات کو بہتر بنانے کی انقرہ کی صلاحیت، داخلی معاملات میں غیر جانب داری اور نیٹو میں ترکی کے کردار کا ذکر کرتے ہیں۔ جبکہ مخالفین کا ماننا ہے کہ ترکی کے عزائم ترک قوم پرستی کو فروغ دینے کے لیے ہیں، وہ معاشرے کو سیکولرائز کرنا چاہتا ہے اور علاقائی حریفوں کا عدم اطمینان بھی افغانستان کے مفاد میں نہیں۔ انقرہ کی کوششوں کے باوجود طالبان اب بھی ملک میں ترکی کے کردار کو مثبت نظر سے نہیں دیکھ رہے۔

بہرحال، ترکی یورپ، امریکا اور نیٹو کی حمایت سے افغانستان میں زیادہ سے زیادہ سیاسی اور فوجی موجودگی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ خطے کے دیگر با اثر ممالک بھارت، چین اور روس ترکی کی موجودگی کو اپنے تزویراتی مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔

دونوں لکھتے ہیں کہ افغانستان میں ترکی کے کردار کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس کا انحصار متعدد داخلی متغیرات پر ہوگا، خاص طور پر کابل حکومت کی ساخت پر۔ ملک میں ترکی کا کردار بڑھنے کے حوالے سے حکومت کے اندر اور عبد اللہ عبد اللہ اور صدر اشرف غنی کے دھڑوں میں کوئی عمومی رائے نہیں پائی جاتی۔  گو کہ چند حلقے ترکی کی موجودگی اور کردار کو سراہتے ہیں، اور افغانستان میں ترکی کے معاشی کردار اور ثالث کی حیثیت کو بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ترکی کی فوجی موجودگی کے حوالے سے بڑے پیمانے مخالفت پائی جاتی ہے۔  دونوں لکھاریوں کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے مستقبل میں ترکی ایک بہتر معاشی، سفارتی اور سیاسی کردار ادا کرے گا ،  لیکن فوجی امنگوں کے حوالے سے یہ کردار آگے نہیں بڑھ سکتا۔

 

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے