21.6 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

اناطولین ایگل مشقیں اور ڈیفنس ڈپلومیسی – جویریہ صدیق

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

کالم نگار معروف صحافی، یوٹیوبر ہیں۔ اپ انہیں ٹویٹر پر فالو کرسکتے ہیں۔

پاکستان ائیر فورس وہ ملکی اثاثہ ہے جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ زمانہ امن ہو یا جنگ پاکستان ائیر فورس ملکی دفاع میں سرگرم عمل رہتی ہے۔ یوں تو تاریخ ائیر فورس کے کارناموں سے بھری پڑی ہے، لیکن ماضی قریب میں 27 فروری 2019ء کو شاہینوں نے وہ تاریخ رقم کی کہ دنیا پر شاہینوں کی دھاک بیٹھ گئی۔ دن کی روشنی میں بھارت کے دو جنگی طیارے گرائے اور ان کو عبرت ناک شکست دی۔ اس کے بعد سے عالمی دفاعی مارکیٹ میں پاکستان کے طیارے جے ایف 17 تھنڈر کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس وقت تین جے ایف 17 تھنڈر نائجیریا کی ائیر فورس کا حصہ بن چکے ہیں۔

دیگر ممالک بھی اس طیارے کی خریداری میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور امید ہے جلد نئے معاہدے بھی طے پا جائیں گے۔ پاکستان فضائیہ نے کورونا کے باوجود کامیابی کے ساتھ دوست ممالک کے ساتھ جنگی مشقیں کیں۔ یہ مشترکہ جنگی مشقیں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ ان سے دوست ممالک قریب آتے ہیں۔ 2020 سندھ میں موجود ائیر فورس کی آپریشنل ائیربیس شاہین نو کا آغاز ہوا جس میں چینی فضائیہ اور پاکستان فضائیہ کے پائلٹس کے دستے ،ائیر ڈیفنس کنٹرولز اور تکنیکی عملے نے حصہ لیا۔ان مشقوں میں چین اور پاکستان کے جنگی جہازوں نے حصہ لیا۔ان مشقوں میں عسکری اور فضائی مہارت پر بطور خاص توجہ دی گئی۔ اس وقت کے سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور نے ان مشقوں میں چین کے جے ۱۰ طیارے میں پرواز کی۔ یہ طیارہ ماڈرن ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔ پاکستان ان طیاروں کی خریداری میں گہری دلچسپی لے رہا ہے۔ امکان ہے جلد ہی یہ طیارے پاکستان فضائیہ کے بیڑے کا حصہ بن جائیں گے۔

اسی طرح اب ترکی کے شہر قونیا میں اناطولین ایگل مشقوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ فضائی مشقیں ۲۰۰۱ سے ہورہی ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد پائلٹس کو جنگ کے لیے تیار کرنا ہے اور دوست ممالک کے ساتھ مل کر فضائی مشقیں کرتے ہیں ۔اس بار ان کا انعقاد ۲۱ جون سے ۲ جولائی تک قونیا ترکی میں ہو رہا ہے اور اس میں چار ممالک کی ائیر فورس حصہ لے رہی ہیں۔جن میں ترکی پاکستان آذربائیجان اور قطر شامل ہیں۔ ان تمام ممالک کے پائلٹس مل کر فضائی مشق میں حصہ لیں گے اور جدید علوم میں مہارت حاصل کریں گے۔ترکی ان مشقوں کا میزبان ملک ہے۔

اس وقت تمام ملکوں کے طیارے قونیا کی ۳ مین جیٹ بیس پہنچ چکے ہیں اور پائلٹس نے ٹرینگ کا آغاز کردیا ہے۔۲۰۰۱ سے جاری ترکی کی اناطولین ایگل مشقوں میں اب تک چودہ ممالک حصہ لے چکے ہیں۔ان چودہ ممالک کے ۳۵ ہزار ۶۵۷ فوجی اہلکار اور ۲۹۲۰ ائرکرافٹس نے اس مشق میں حصہ لیا۔اس ضمن ۲۴۲۲۲ سورٹیز کیری آوٹ کی گئی۔ جب پہلی بار اناطولین الگل مشقوں کا انعقاد کیا گیا تو اس میں ترکی کے ساتھ امریکہ نے شرکت کی۔اگر ہم بات کریں پاکستان کی تو پاکستان اپنے بردار ملک ترکی کے ساتھ ان مشقوں میں ۲۰۱۵ سے حصہ لے رہا ہے ۔۲۰۱۹ سے پاکستان اپنا تیار کردہ جے ایف ۱۷ تھنڈر ان مشقوں میں لے کر جارہا ہے۔

2021 قونیا میں ہونے والی اناطولین ایگل میں پاکستان اس بار ۵ جے ایف ۱۷ تھنڈر کے ساتھ شرکت کررہا ہے، جن کا تعلق بلاک ۲ سے ہے۔اس کے ساتھ پاکستان کا سی ون تھرٹی جو ٹرانسپورٹ سکواڈرن سے تعلق رکھتا ہے، وہ بھی اس مشق کا حصہ ہے۔ قطر ۴ رافیل طیاروں اور ایک سی ون تھرٹی کے ساتھ ان مشقوں میں شریک ہے۔ ترکی کی ائیرفورس اپنے اسکورڈن نمبر ۱۰۱ کے ساتھ شریک ہے اور اس کے ساتھ ترک نیوی بھی ان مشقوں میں حصہ لے گی۔نیٹو اور کچھ ممالک مبصر کے طور پر اس مشق کا حصہ ہوں گے۔ ان ممالک میں بیلاروس، جاپان، بلغاریہ، بنگلہ دیش، جارجیا، عراق، سویڈن، یوکرائن، ملائشیا، لبنان، اومان اور ہنگری وغیرہ شامل ہیں جو مبصر کے طور پر شریک ہیں ۔

آذر بائیجان اس اناطولین ایگل میں پہلی بار شرکت کررہا ہے اور وہ ۲مگ ۲۹ ساتھ لایا ہے۔اس طرح کی مشقیں عسکری ڈپلومیسی کا حصہ ہیں۔ ان مشقوں سے پائلٹس کی اچھی ٹریننگ ہوتی ہے۔ پاکستان فضائیہ بہت مہارت سے عسکری ڈپلومیسی کرتے ہوئے پائلٹس کی استعداد کار میں اضافہ کررہی ہے۔اس سے دوست ممالک مزید قریب آرہے ہیں اور زمانہ امن میں پائلٹس کو زمانہ جنگ کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔

اناطولین ایگل میں پائلٹس کو جنگ کے لیے تیار کیا جائے، مختلف اہداف حاصل کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ایوی ایشن میں جدید تقاضوں کو سمجھا جائے گا تاکہ جنگ کی صورت میں پائٹلس اپنے اہداف حاصل کرسکیں۔ ۲۰۲۰ میں کورونا کے باعث ان مشقوں کو ملتوی کردیا گیا تھا، لیکن اب ۲۰۲۱ میں کورونا ایس و پیز پر عمل درآمد کرکے ان مشقوں کا کامیابی سے انعقاد کیا جارہا ہے۔ یہ جولائی تک جاری رہیں گے اور اس سے دوست ممالک مزید قریب آئیں گے۔ ترکی تمام دنیا سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور یہ مشق اس کی کڑی ہے۔ پاکستان اور ترکی کے تعلقات بھی اس سے مزید مضبوط ہوں گے۔ امکان ہے اس مشق کے بعد آذربائیجان باقاعدہ طور پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کرے گا۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے