25.7 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

اناطولین ایگل مشقیں اور ڈیفنس ڈپلومیسی – جویریہ صدیق

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

کالم نگار معروف صحافی، یوٹیوبر ہیں۔ اپ انہیں ٹویٹر پر فالو کرسکتے ہیں۔

پاکستان ائیر فورس وہ ملکی اثاثہ ہے جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ زمانہ امن ہو یا جنگ پاکستان ائیر فورس ملکی دفاع میں سرگرم عمل رہتی ہے۔ یوں تو تاریخ ائیر فورس کے کارناموں سے بھری پڑی ہے، لیکن ماضی قریب میں 27 فروری 2019ء کو شاہینوں نے وہ تاریخ رقم کی کہ دنیا پر شاہینوں کی دھاک بیٹھ گئی۔ دن کی روشنی میں بھارت کے دو جنگی طیارے گرائے اور ان کو عبرت ناک شکست دی۔ اس کے بعد سے عالمی دفاعی مارکیٹ میں پاکستان کے طیارے جے ایف 17 تھنڈر کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس وقت تین جے ایف 17 تھنڈر نائجیریا کی ائیر فورس کا حصہ بن چکے ہیں۔

دیگر ممالک بھی اس طیارے کی خریداری میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور امید ہے جلد نئے معاہدے بھی طے پا جائیں گے۔ پاکستان فضائیہ نے کورونا کے باوجود کامیابی کے ساتھ دوست ممالک کے ساتھ جنگی مشقیں کیں۔ یہ مشترکہ جنگی مشقیں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ ان سے دوست ممالک قریب آتے ہیں۔ 2020 سندھ میں موجود ائیر فورس کی آپریشنل ائیربیس شاہین نو کا آغاز ہوا جس میں چینی فضائیہ اور پاکستان فضائیہ کے پائلٹس کے دستے ،ائیر ڈیفنس کنٹرولز اور تکنیکی عملے نے حصہ لیا۔ان مشقوں میں چین اور پاکستان کے جنگی جہازوں نے حصہ لیا۔ان مشقوں میں عسکری اور فضائی مہارت پر بطور خاص توجہ دی گئی۔ اس وقت کے سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور نے ان مشقوں میں چین کے جے ۱۰ طیارے میں پرواز کی۔ یہ طیارہ ماڈرن ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔ پاکستان ان طیاروں کی خریداری میں گہری دلچسپی لے رہا ہے۔ امکان ہے جلد ہی یہ طیارے پاکستان فضائیہ کے بیڑے کا حصہ بن جائیں گے۔

اسی طرح اب ترکی کے شہر قونیا میں اناطولین ایگل مشقوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ فضائی مشقیں ۲۰۰۱ سے ہورہی ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد پائلٹس کو جنگ کے لیے تیار کرنا ہے اور دوست ممالک کے ساتھ مل کر فضائی مشقیں کرتے ہیں ۔اس بار ان کا انعقاد ۲۱ جون سے ۲ جولائی تک قونیا ترکی میں ہو رہا ہے اور اس میں چار ممالک کی ائیر فورس حصہ لے رہی ہیں۔جن میں ترکی پاکستان آذربائیجان اور قطر شامل ہیں۔ ان تمام ممالک کے پائلٹس مل کر فضائی مشق میں حصہ لیں گے اور جدید علوم میں مہارت حاصل کریں گے۔ترکی ان مشقوں کا میزبان ملک ہے۔

اس وقت تمام ملکوں کے طیارے قونیا کی ۳ مین جیٹ بیس پہنچ چکے ہیں اور پائلٹس نے ٹرینگ کا آغاز کردیا ہے۔۲۰۰۱ سے جاری ترکی کی اناطولین ایگل مشقوں میں اب تک چودہ ممالک حصہ لے چکے ہیں۔ان چودہ ممالک کے ۳۵ ہزار ۶۵۷ فوجی اہلکار اور ۲۹۲۰ ائرکرافٹس نے اس مشق میں حصہ لیا۔اس ضمن ۲۴۲۲۲ سورٹیز کیری آوٹ کی گئی۔ جب پہلی بار اناطولین الگل مشقوں کا انعقاد کیا گیا تو اس میں ترکی کے ساتھ امریکہ نے شرکت کی۔اگر ہم بات کریں پاکستان کی تو پاکستان اپنے بردار ملک ترکی کے ساتھ ان مشقوں میں ۲۰۱۵ سے حصہ لے رہا ہے ۔۲۰۱۹ سے پاکستان اپنا تیار کردہ جے ایف ۱۷ تھنڈر ان مشقوں میں لے کر جارہا ہے۔

2021 قونیا میں ہونے والی اناطولین ایگل میں پاکستان اس بار ۵ جے ایف ۱۷ تھنڈر کے ساتھ شرکت کررہا ہے، جن کا تعلق بلاک ۲ سے ہے۔اس کے ساتھ پاکستان کا سی ون تھرٹی جو ٹرانسپورٹ سکواڈرن سے تعلق رکھتا ہے، وہ بھی اس مشق کا حصہ ہے۔ قطر ۴ رافیل طیاروں اور ایک سی ون تھرٹی کے ساتھ ان مشقوں میں شریک ہے۔ ترکی کی ائیرفورس اپنے اسکورڈن نمبر ۱۰۱ کے ساتھ شریک ہے اور اس کے ساتھ ترک نیوی بھی ان مشقوں میں حصہ لے گی۔نیٹو اور کچھ ممالک مبصر کے طور پر اس مشق کا حصہ ہوں گے۔ ان ممالک میں بیلاروس، جاپان، بلغاریہ، بنگلہ دیش، جارجیا، عراق، سویڈن، یوکرائن، ملائشیا، لبنان، اومان اور ہنگری وغیرہ شامل ہیں جو مبصر کے طور پر شریک ہیں ۔

آذر بائیجان اس اناطولین ایگل میں پہلی بار شرکت کررہا ہے اور وہ ۲مگ ۲۹ ساتھ لایا ہے۔اس طرح کی مشقیں عسکری ڈپلومیسی کا حصہ ہیں۔ ان مشقوں سے پائلٹس کی اچھی ٹریننگ ہوتی ہے۔ پاکستان فضائیہ بہت مہارت سے عسکری ڈپلومیسی کرتے ہوئے پائلٹس کی استعداد کار میں اضافہ کررہی ہے۔اس سے دوست ممالک مزید قریب آرہے ہیں اور زمانہ امن میں پائلٹس کو زمانہ جنگ کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔

اناطولین ایگل میں پائلٹس کو جنگ کے لیے تیار کیا جائے، مختلف اہداف حاصل کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ایوی ایشن میں جدید تقاضوں کو سمجھا جائے گا تاکہ جنگ کی صورت میں پائٹلس اپنے اہداف حاصل کرسکیں۔ ۲۰۲۰ میں کورونا کے باعث ان مشقوں کو ملتوی کردیا گیا تھا، لیکن اب ۲۰۲۱ میں کورونا ایس و پیز پر عمل درآمد کرکے ان مشقوں کا کامیابی سے انعقاد کیا جارہا ہے۔ یہ جولائی تک جاری رہیں گے اور اس سے دوست ممالک مزید قریب آئیں گے۔ ترکی تمام دنیا سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور یہ مشق اس کی کڑی ہے۔ پاکستان اور ترکی کے تعلقات بھی اس سے مزید مضبوط ہوں گے۔ امکان ہے اس مشق کے بعد آذربائیجان باقاعدہ طور پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کرے گا۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے