28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

نیوزی لینڈ کے یوٹیوبر کا اردو سیکھنے کا دلچسپ سفر

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

کارل روک نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور بلاگر اور یوٹیوبر ہیں جو بھارت میں رہتے ہیں اور ہندی بولتے ہیں۔ اپنی انتہائی معلومات یوٹیوب وڈیوز کی بدولت وہ کافی معروف ہیں اور پاکستان کے حالیہ سفر نے تو ان کی شہرت مزید بڑھا دی ہے۔

کارل نے گزشتہ سال دسمبر کے وسط میں اپنے دورۂ پاکستان کی پہلی وڈیو یوٹیوب پر ڈالی اور یہ سلسلہ اب  تک جاری ہے۔ چند روز پہلے انہوں نے اردو سیکھنے کے حوالے سے ایک دلچسپ وڈیو اپنے یوٹیوب چینل پر پیش کی ہے جس میں انہیں پاکستان کی قومی زبان سیکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

کارل اس وقت اپنے آبائی ملک نیوزی لینڈ میں مقیم ہیں اور کرونا وائرس کی وجہ سے ان کی سرگرمیاں محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت کو زیادہ سے زیادہ بہتر انداز میں استعمال کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور اسی لیے انہوں نے یہ وقت اردو کے لیے صرف کرنے کا ارادہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی بھارت میں رہ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کو ہندی نہیں آتی تو آپ کے لیے عام لوگوں میں گھلنا ملنا مشکل ہو جائے گا۔ "میرا معاملہ تو پھر ایسا ہے کہ اگر مجھے ہندی بولنی نہ آتی تو میں اپنے سسرالی خاندان  سے بات نہیں کر پاتا۔ کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستان میں  بھی ہے کہ اگر آپ کو اردو بولنا یا پڑھنا نہیں آتی تو آپ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ مجھے اپنے دورۂ پاکستان میں دکانوں کے سائن بورڈز اور ہوٹلوں کے مینیو پڑھنے میں دشواری پیش آئی۔ تو یہی  وجہ ہے کہ میں نے اردو   پڑھنا اور لکھنا سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ہندی اور اردو زبانیں بولنے میں تقریباً ایک جیسی ہیں۔ ہندی کے کچھ الفاظ سنسکرت سے آئے ہیں اور اردو کے عربی اور فارسی سے۔ لیکن روزمرہ بول چال 80 فیصد تک ایک جیسی ہے۔”

آکلینڈ، نیوزی لینڈ میں کارل کو اردو کا کوئی استاد نہیں ملا اور انہیں دو گھنٹے کے فاصلے پر واقع دوسرے شہر ہملٹن میں ایک استاد ملے جن کے پاس وہ ہفتے بھر میں دو گھنٹے کا ایک لیکچر لینے لگے۔ کارل کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ زبان سیکھنے کے لیے استاد کا ہونا ضروری ہے۔

ان کے استاد ٹوڈ دراصل امریکی ہیں جو دو سال پاکستان کے شہر لاہور میں رہ چکے ہیں اور کئی سال بھارت میں بنارس میں بھی گزارے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں اردو اور بھارت میں ہندی سیکھی۔ وہ ایک خیراتی ادارہ چلاتے ہیں جو نیوزی لینڈ میں اردو اور ہندی سکھاتا ہے۔

بہرحال، اس اردو کلاس کے دوران کارل نے پہلے ہفتے اردو حروفِ تہجی سیکھنے کا آغاز کیا اور کلاس لینے کے بعد وہ روزانہ ایک گھنٹہ گھر پر ان کی مشق کرتے اور یوں پہلے  ہفتے میں انہوں نے اردو کے آدھے حروفِ تہجی یاد کر لیے اور دوسری کلاس کے بعد باقی ماندہ حروف بھی  انہیں یاد ہو گئے۔ یوں دو ہفتوں میں انہیں اردو کے تمام حروفِ تہجی کی پہچان ہو گئی۔

تیسرا ہفتہ کارل نے اردو حروفِ علت (vowel) کا رخ کیا۔ کارل کہتے ہیں کہ "کیونکہ میں ہندی بول سکتا ہوں اس لیے میں اپنی اردو کو ہندی میں نقل حرفی  (transcribe) کر کے اپنی ہندی پریکٹس بھی کرتا رہا۔ یوں یہ دونوں لحاظ سے میرے لیے مددگار رہا۔  میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ہندی آتی ہے اور اس لیے میرے لیے اردو سیکھنا کہیں آسان رہا۔ اگر آپ ہندی نہیں جانتے تو آپ کو دو گنا وقت لگے گا کیونکہ آپ کو الفاظ کے تلفظ پر محنت کرنا پڑے گی  کیونکہ اردو اور ہندی کا تلفظ کافی حد تک ملتا جلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ایک استاد تجویز کرتا ہوں، وہ آپ کی  سیکھنے کی رفتار بھی بڑھائے گا اور غلطیوں  کی اصلاح بھی کرے گا۔”

چوتھے ہفتے انہوں نے اردو کے الفاظ اور چھوٹے موٹے جملے پڑھنا شروع کر دیے اور یوں کارل کہتے ہیں کہ اب میں اپنا وقت اردو کے سائن بورڈز، مینیو اور چھوٹی موٹی کہانیاں پڑھنے میں صرف کروں گا۔ "چار ہفتے، کُل 8 گھنٹوں کے لیکچرز اور روزانہ 30 سے 40 منٹ کی پڑھائی کے بعد میں بنیادی اردو پڑھنے کے قابل ہو گیا۔  میری رائٹنگ تو بہت بُری ہے لیکن خیر ہے، لکھائی اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔”

اس مہم کے دوران پاکستان سے خریدا گیا اردو الفاظ اور اعداد  کا چارٹ ان کے کافی کام آیا۔ اس کے علاوہ انہیں استاد نے  اردو حروفِ تہجی کے انگریزی اور ہندی ترجمے کا چارٹ بھی دیا۔ اور ہاں! ایک بڑا کردار ٹپال دانے دار چائے کا بھی رہا، جو  وہ پاکستان سے ہی خرید کر لے گئے تھے۔

یہ پورا دلچسپ سفر ان کی اس وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے:

 

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے