13.2 C
Islamabad
منگل, اکتوبر 26, 2021

نیوزی لینڈ کے یوٹیوبر کا اردو سیکھنے کا دلچسپ سفر

تازہ ترین

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

وفاق اور سندھ حکومت کو ایک ساتھ مل کر چلنا پڑے گا، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت کو ایک ساتھ مل کر چلنا پڑے گا۔ کراچی کی اہمیت کا اندازہ...
- Advertisement -

کارل روک نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور بلاگر اور یوٹیوبر ہیں جو بھارت میں رہتے ہیں اور ہندی بولتے ہیں۔ اپنی انتہائی معلومات یوٹیوب وڈیوز کی بدولت وہ کافی معروف ہیں اور پاکستان کے حالیہ سفر نے تو ان کی شہرت مزید بڑھا دی ہے۔

کارل نے گزشتہ سال دسمبر کے وسط میں اپنے دورۂ پاکستان کی پہلی وڈیو یوٹیوب پر ڈالی اور یہ سلسلہ اب  تک جاری ہے۔ چند روز پہلے انہوں نے اردو سیکھنے کے حوالے سے ایک دلچسپ وڈیو اپنے یوٹیوب چینل پر پیش کی ہے جس میں انہیں پاکستان کی قومی زبان سیکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

کارل اس وقت اپنے آبائی ملک نیوزی لینڈ میں مقیم ہیں اور کرونا وائرس کی وجہ سے ان کی سرگرمیاں محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت کو زیادہ سے زیادہ بہتر انداز میں استعمال کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور اسی لیے انہوں نے یہ وقت اردو کے لیے صرف کرنے کا ارادہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی بھارت میں رہ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کو ہندی نہیں آتی تو آپ کے لیے عام لوگوں میں گھلنا ملنا مشکل ہو جائے گا۔ "میرا معاملہ تو پھر ایسا ہے کہ اگر مجھے ہندی بولنی نہ آتی تو میں اپنے سسرالی خاندان  سے بات نہیں کر پاتا۔ کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستان میں  بھی ہے کہ اگر آپ کو اردو بولنا یا پڑھنا نہیں آتی تو آپ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ مجھے اپنے دورۂ پاکستان میں دکانوں کے سائن بورڈز اور ہوٹلوں کے مینیو پڑھنے میں دشواری پیش آئی۔ تو یہی  وجہ ہے کہ میں نے اردو   پڑھنا اور لکھنا سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ہندی اور اردو زبانیں بولنے میں تقریباً ایک جیسی ہیں۔ ہندی کے کچھ الفاظ سنسکرت سے آئے ہیں اور اردو کے عربی اور فارسی سے۔ لیکن روزمرہ بول چال 80 فیصد تک ایک جیسی ہے۔”

آکلینڈ، نیوزی لینڈ میں کارل کو اردو کا کوئی استاد نہیں ملا اور انہیں دو گھنٹے کے فاصلے پر واقع دوسرے شہر ہملٹن میں ایک استاد ملے جن کے پاس وہ ہفتے بھر میں دو گھنٹے کا ایک لیکچر لینے لگے۔ کارل کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ زبان سیکھنے کے لیے استاد کا ہونا ضروری ہے۔

ان کے استاد ٹوڈ دراصل امریکی ہیں جو دو سال پاکستان کے شہر لاہور میں رہ چکے ہیں اور کئی سال بھارت میں بنارس میں بھی گزارے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں اردو اور بھارت میں ہندی سیکھی۔ وہ ایک خیراتی ادارہ چلاتے ہیں جو نیوزی لینڈ میں اردو اور ہندی سکھاتا ہے۔

بہرحال، اس اردو کلاس کے دوران کارل نے پہلے ہفتے اردو حروفِ تہجی سیکھنے کا آغاز کیا اور کلاس لینے کے بعد وہ روزانہ ایک گھنٹہ گھر پر ان کی مشق کرتے اور یوں پہلے  ہفتے میں انہوں نے اردو کے آدھے حروفِ تہجی یاد کر لیے اور دوسری کلاس کے بعد باقی ماندہ حروف بھی  انہیں یاد ہو گئے۔ یوں دو ہفتوں میں انہیں اردو کے تمام حروفِ تہجی کی پہچان ہو گئی۔

تیسرا ہفتہ کارل نے اردو حروفِ علت (vowel) کا رخ کیا۔ کارل کہتے ہیں کہ "کیونکہ میں ہندی بول سکتا ہوں اس لیے میں اپنی اردو کو ہندی میں نقل حرفی  (transcribe) کر کے اپنی ہندی پریکٹس بھی کرتا رہا۔ یوں یہ دونوں لحاظ سے میرے لیے مددگار رہا۔  میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ہندی آتی ہے اور اس لیے میرے لیے اردو سیکھنا کہیں آسان رہا۔ اگر آپ ہندی نہیں جانتے تو آپ کو دو گنا وقت لگے گا کیونکہ آپ کو الفاظ کے تلفظ پر محنت کرنا پڑے گی  کیونکہ اردو اور ہندی کا تلفظ کافی حد تک ملتا جلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ایک استاد تجویز کرتا ہوں، وہ آپ کی  سیکھنے کی رفتار بھی بڑھائے گا اور غلطیوں  کی اصلاح بھی کرے گا۔”

چوتھے ہفتے انہوں نے اردو کے الفاظ اور چھوٹے موٹے جملے پڑھنا شروع کر دیے اور یوں کارل کہتے ہیں کہ اب میں اپنا وقت اردو کے سائن بورڈز، مینیو اور چھوٹی موٹی کہانیاں پڑھنے میں صرف کروں گا۔ "چار ہفتے، کُل 8 گھنٹوں کے لیکچرز اور روزانہ 30 سے 40 منٹ کی پڑھائی کے بعد میں بنیادی اردو پڑھنے کے قابل ہو گیا۔  میری رائٹنگ تو بہت بُری ہے لیکن خیر ہے، لکھائی اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔”

اس مہم کے دوران پاکستان سے خریدا گیا اردو الفاظ اور اعداد  کا چارٹ ان کے کافی کام آیا۔ اس کے علاوہ انہیں استاد نے  اردو حروفِ تہجی کے انگریزی اور ہندی ترجمے کا چارٹ بھی دیا۔ اور ہاں! ایک بڑا کردار ٹپال دانے دار چائے کا بھی رہا، جو  وہ پاکستان سے ہی خرید کر لے گئے تھے۔

یہ پورا دلچسپ سفر ان کی اس وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے:

 

مزید تحاریر

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

وفاق اور سندھ حکومت کو ایک ساتھ مل کر چلنا پڑے گا، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت کو ایک ساتھ مل کر چلنا پڑے گا۔ کراچی کی اہمیت کا اندازہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے