28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

ارطغرل غازی کا ہیرو، اینگن آلتن دوزیاتان کس نئے ڈرامے کا حصہ بننے والے ہیں؟

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

ترکی 150 سے زیادہ ملکوں میں اپنی ٹیلی وژن سیریز نشر کرتا ہے اور امریکا کے بعد ٹیلی وژن ڈرامے برآمد کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں کئی ترک ڈرامے ایسے سامنے آئے ہیں جنہوں نے عالمی مقبولیت حاصل کی، یہاں تک کہ ان کا تحریری ترجمہ بلکہ مختلف زبانوں میں ڈبنگ تک کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ترک ڈراموں کی برآمد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور انہیں ترک طرزِ زندگی، تاریخ اور ثقافت کو دنیا میں متعارف کروانے کے لیے ایک اہم قومی اثاثہ سمجھا جار ہا ہے۔

مشہور ترین ترک ڈراموں میں ‘سن انلات کارادینز’، ‘کارا پارا عشق’ ، ‘عشق و ماوی’ اور ‘دریلش: ارطغرل’ نمایاں ہیں۔ جنہیں بین الاقوامی ناظرین نے نہ صرف اپنی کہانیوں اور ثقافتی پہلوؤں بلکہ ان میں موجود سماجی پیغام کی وجہ سے بھی بہت پسند کیا۔ ‘دریلش: ارطغرل’ کو دیکھ لیں جو مسلمانوں کے عظیم ماضی کو ٹیلی وژن اسکرین پر لایا، وہ بھی ایسے دور میں جس میں دنیا بھر میں اسلاموفوبیا اپنے عروج پر ہے۔

ہدایت کار متین گونے کا یہ ڈراما سلطنتِ عثمانیہ کے قیام سے پہلے 13 ویں صدی کے اناطولیہ کی داستان بیان کرتا ہے۔ ارطغرل غازی ایک دلیر ترک رہنما تھے جنہوں اپنے زبردست عزم اور حوصلے کی بدولت آئندہ نسلوں کے لیے ایک نسل قائم کرنے کی جدوجہد کی۔ یہ ڈراما کئی ملکوں میں دیکھا گیا ہے، پاکستان سے لے کر بنگلہ دیش اور چلی سے لے کر بوسنیا تک۔

پاکستان میں تو اس ڈرامے نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں اور اب نوجوان ارطغرل کے مختلف کرداروں کے انداز اپنانے کو فیشن سمجھتے ہیں۔ بھارت میں اردو سمجھنے اور بولنے والی بہت بڑی آبادی بھی پاکستان کا ڈب کیا گیا ‘ارطغرل غازی ‘ دیکھتی ہے۔ جنوبی بھارت میں رہنے والے جاوید خان نے تو اپنے ریستوران کا نام ہی ارطغرل پر رکھ دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام ارطغرل کی داستان کو اپنی جدوجہدِ آزادی سے ملتا جلتا پاتے ہیں اور یہ ڈراما لوگ کے دل اور اذہان دونوں فتح کر چکا ہے۔

ڈرامے میں ارطغرل غازی کا کردار ادا کرنے والے اینگن آلتن دوزیاتان اب ایک مقبولِ عام چہرہ بن چکے ہیں۔ وہ 1979ء میں مغربی ازمیر کے ضلع قارشی یاکا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین ترک مہاجر تھے، جو سابق یوگوسلاویہ سے ہجرت کر کے ترکی آئے تھے۔

دوزیاتان نے دوکوز ایلول یونیورسٹی سے تھیٹر ڈپارٹمنٹ میں تعلیم حاصل کی اور 2001ء میں استنبول کے مختلف تھیٹرز سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

ان کا پہلا ٹیلی وژن ڈرامہ ‘رخسار’ تھا۔ ایک جوڑے کی محبت کے گرد گھومتی داستان بیان کرتے اس ڈرامے میں دوزیاتان ایک سپورٹنگ ایکٹر تھے۔ 2001ء سے 2004ء تک انہوں نے متعدد ڈراموں میں مختلف کردار ادا کیے اور 2005ء میں پہلی بار انہیں ایک مرکزی کردار ملا جو انہوں نے ‘کادین ہر زمان حق لیدر’ میں ادا کیا۔ ٹیلی وژن ڈراموں کے علاوہ دوزیاتان نے مختلف فلموں میں بھی مرکزی کردار ادا کیے، مثلاً ‘رومانٹک کامیڈی’ اور ‘انالودو قرتالری’ ۔

گو کہ دوزیاتان ترکی میں ویسے ہی مشہور تھے لیکن "دریلش: ارطغرل” نے ان کی شہرت کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور انہیں عالم گیر شہرت رکھنے والا اداکار بنا دیا۔ ارطغرل غازی کے کردار کی بدولت دوزیاتان کو کئی اعزازات بھی ملے جن میں بہترین اداکار کے لیے گولڈن بٹرفلائی ایوارڈ، سال کی بہترین ٹیلی وژن سیریز کے لیے گولڈن پام ایوارڈ اور بہترین ٹی وی سیرز کے لیے ترکی یوتھ ایوارڈ۔ 2019ء میں دوزیاتان کو دبئی میں بہترین بین الاقوامی اداکار کا DIAFA  ایوارڈ بھی ملا۔

اب دوزیاتان نوجوان نسل کے ہیرو بن چکے ہیں۔ وہ خود بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس سیریز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یونس امرہ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک آن لائن ایونٹ میں انہوں نے کہا کہ ارطغرل غازی کی شخصیت، انصاف کے حوالے سے ان کے نقطہ نظر اور انسانیت کے اصولوں نے انہیں بہت متاثر کیا۔

ارطغرل کے بعد دوزیاتان ایک ڈرامے ‘قورشن’ میں جلوہ گر ہوئے اور حال ہی میں اعلان کیا گیا ہے کہ وہ ترکی کے سرکاری براڈ کاسٹر TRT کی نئی سیریز میں عثمانی بحریہ کے پہلے امیر البحر باربروس خیر الدین پاشا کا کردار ادا کریں گے۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے