25.7 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

موبائل فون پر نیا ٹیکس؟ اب کس موبائل پر کتنا ٹیکس دینا پڑے گا؟

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

پاکستان خطے میں سب سے زیادہ موبائل فون درآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ قومی ادارۂ شماریات کے مطابق مالی سال ‏2020-21ء میں جولائی سے اپریل کے دوران پاکستان نے 1.684 ارب ڈالرز کے موبائل فون درآمد کیے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 64 فیصد کا اضافہ تھا۔ واضح رہے کہ یہ اتنا بڑا اضافہ اُس وقت ہوا جب دنیا کرونا وائرس سے نمٹ رہی تھی، اور معاشی مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے تھے۔

درآمدات کو قانونی صورت دینے کے لیے پاکستان نے چند سال بعد ایک نظام متعارف کروایا تھا جسے Device Identification, Registration and Blocking System یا مختصراً DIRBS کا نام دیا گیا تھا، اس سے موبائل فون کی اسمگلنگ کا دروازہ کافی حد تک بند ہو چکا ہے۔

اب پاکستان نے اپنے درآمدی بل کو گھٹانے اور موبائل فونز بنانے والے اداروں کو اسمبلی پلانٹ لگانے پر مجبور کرنے کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ یعنی جن کمپنیوں کے پاکستان میں اسمبلی پلانٹس ہیں، ان کے فونز کی قیمتوں میں تو کوئی نمایاں فرق نہیں پڑے گا لیکن جو بیرونِ ملک سے درآمد کرنے پر انحصار کرتی ہیں، ان کے موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

گو کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں ہونے والا اضافہ موبائل فونز بنانے والے اداروں سے لیا جائے گا، لیکن لازماً اس کا بوجھ صارفین پر ہی پڑے گا اور انہیں ہر امپورٹڈ سیٹ پر ہزاروں روپے ادا کرنے پڑیں گے۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے افراد کو بھی اپنے پاس موجود ہر موبائل فون پر بھاری ٹیکس ادا کرنے ہوں گے۔

موبائل فونز پر ٹیکس میں اضافہ ان کی قیمت کے لحاظ سے کیا گیا ہے، مثلاً عام فیچر فون، جنہیں عرفِ عام میں بٹنوں والا فون کہا جاتا ہے، کی قیمت اگر 30 ڈالرز سے کم ہو تو اس پر 165 روپے کی ریگولیٹری ڈیوٹی کو بڑھا کر 300 روپے کیا گیا ہے۔ پہلے اس قیمت کے فیچر فونز پر مجموعی طور 615 روپے تھا جو اب بڑھ کر 750 روپے ہو گیا ہے۔

یہ کچھ زیادہ تو نہیں ہے لیکن اصل دھچکے اسمارٹ فونز صارفین کو پہنچائے گئے ہیں، خاص طور پر سستے اور درمیانی قیمت کے اسمارٹ فونز استعمال کرنے والوں کو۔ شروع کرتے ہیں 30 ڈالرز تک کے اسمارٹ فونز سے، جن پر فیچر فون کی طرح پہلے صرف 165 روپے کی ریگولیٹری ڈیوٹی لگتی تھی لیکن اسے بڑھا کر 3 ہزار روپے کر دیا گیا ہے اور دیگر ٹیکس بھی ملائے جائیں تو ایسے فونز پر اب 615 روپے کے بجائے 3450 روپے ادا کرنا پڑیں گے یعنی پانچ گُنا سے بھی زیادہ اضافہ۔ عموماً یہ فونز سب سے غریب طبقہ لیتا ہے، خود ہی اندازہ لگا لیں کہ پانچ ہزار روپے سے کم میں کون سے اسمارٹ فون آتا ہے؟ اور اگر آ بھی جائے تو اس پر تقریباً اپنی قیمت کے برابر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

آگے بڑھیں تو 31 سے 100 ڈالرز کی قیمتوں والے فونز آتے ہیں یعنی تقریباً 5 سے 15 ہزار روپے کی قیمت رکھنے والے فون۔ ان پر پہلے ریگولیٹری ڈیوٹی 1620 روپے تھی، جبکہ کُل ٹیکس 2170 روپے ادا کرنا پڑتا تھا۔ اب نئے قانون کے تحت ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا کر 3 ہزار روپے کر دی گئی ہے اور کُل ٹیکس ادا کرنا پڑے گا 3550 روپے۔

پاکستان میں سب سے زیادہ اسمارٹ فونز کی فروخت 101 سے 200 ڈالرز کے فونز کی ہوتی ہے یعنی تقریباً 16 ہزار روپے سے 32 ہزار روپے کے اسمارٹ فونز کی۔ ان پر ریگولیٹری ڈیوٹی ناقابلِ یقین حد تک بڑھا دی گئی ہے۔ پہلے اس قیمت کے فونز پر روپے ریگولیٹری ڈیوٹی 2430 اور مجموعی ٹیکس 5690 روپے تھا لیکن اب ڈیوٹی بڑھا کر 7500 روپے اور کُل ٹیکس 10760 روپے کر دیا گیا ہے یعنی ریگولیٹری ڈیوٹی میں تین گُنا اضافہ اور مجموعی ٹیکس میں دو گنا۔

یعنی درمیانی قیمت کے تمام اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں اب کم از کم پانچ سے چھ ہزار روپے کا اضافہ ہوگا۔

نسبتاً زیادہ رینج کی طرف چلیں تو 201 سے 350 ڈالرز یعنی 32 ہزار سے 56 ہزار روپے فونز پر پہلے ریگولیٹری ڈیوٹی 3240 تھی اور دیگر ٹیکس ملا کر کُل 7400 روپے ادائیگی کرنا پڑتی تھی۔ لیکن اب تو حد ہی کر دی گئی ہے، صرف ریگولیٹری ڈیوٹی ہی 11 ہزار روپے کر دی گئی ہے اور کُل ڈیوٹی 15160 روپے ہوگی۔ یعنی یہاں بھی ریگولیٹری ڈیوٹی میں تین گُنا اضافہ اور کُل ٹیکس میں دو گُنا اضافہ ہوا ہے۔

یہ وہ رینج ہے جس میں مڈل کلاس فونز لینا پسند کرتی ہے اور خاص طور پر آجکل کے نوجوانوں میں اسی رینج کے فونز مقبول ہیں۔ یہ ان کے لیے بہت بری خبر ہوگی کیونکہ اس رینج کے فونز کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔

اس سے آگے مہنگے ترین فونز آتے ہیں، جو عموماً اپر مڈل کلاس اور اپر کلاس کے لوگ خریدتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں اتنا اضافہ نہیں کیا گیا۔ 56 ہزار سے 80 ہزار والے اسمارٹ فونز پر پہلے ریگولیٹری ڈیوٹی 9450 روپے تھی، جسے 15 ہزار کر دیا گیا ہے اور کُل ڈیوٹی 20900 سے بڑھا کر 26450 کی گئی ہے۔ یعنی صرف 25 فیصد کا اضافہ۔

‏500 ڈالرز سے بھی زیادہ یعنی 80 روپے سے اوپر والے فونز کا قصہ بھی سن لیں کہ جن میں ایپل کے آئی فون اور سام سنگ کے فلیگ شپ فونز سمیت وہ تمام مہنگے ترین فونز آتے ہیں، جن کے اکثریت صرف خواب ہی دیکھ سکتی ہے۔ پہلے ان پر ریگولیٹری ڈیوٹی 16650 روپے تھی، جو "بڑھا” کر 22 ہزار روپے کی گئی ہے جبکہ کُل ٹیکس جو پہلے 36970 تھا اب 42340 روپے ہوگا۔

یعنی کمپنیاں جب تک اسمبلی پلانٹ لگائیں گی، تب تک ان پر پڑنے والے بھاری ٹیکس عوام اپنی جیب سے ادا کریں۔ ورنہ تب تک ویوو، ٹیکنو، انفینکس اور آئی ٹیل پر ہی گزارہ کریں اور ایپل اور سام سنگ تو چھوڑیں شیاؤمی، ون پلس، اوپو جیسے برانڈز کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو اپنی جیبیں خالی کریں کیونکہ کمپنی آپ کی طرف سے ٹیکس نہیں بھرے گی۔ لیکن اگر آپ نے حال ہی میں کوئی نیا فون لیا ہے تو اسے اچھی طرح سنبھال کر اور پھونک پھونک کر استعمال کریں کیونکہ ہو سکتا ہے آپ کے لیے اب جلدی فون بدلنا آسان نہ ہو۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے