28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

بھارت دنیا کا سب سے بڑا ملک بننے کے قریب، دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی؟

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

آبادی کے عالمی دن پر اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ بھارت 2027ء تک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔

اس وقت بھارت چین کے بعد دوسرا سب سے بڑا ملک ہے لیکن چین میں بچوں کی پیدائش کو محدود کرنے کی دہائیوں سے جاری کوششوں کی وجہ سے اس کی آبادی میں نمایاں کمی آئی ہے اور اگلے چند ہی سالوں میں بھارت اس سے آگے نکل جائے گا۔ لیکن یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوگا، جب بھارت کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے، مثلاً تعمیرات کا بحران جبکہ دوسرا بڑا مسئلہ دیہات سے شہروں کی جانب ہجرت کا ہے۔

بھارت میں اس وقت لوگوں کی بہت بڑی تعداد بہتر روزگار اور تعلیم کے مواقع کے لیے گاؤں سے شہروں کا رخ کر رہی ہے لیکن یہاں سستی رہائش ایک ایسا مسئلہ ہے جو حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں میں غیر قانونی اور کچی آبادیاں کھمبیوں کی طرح اُگ رہی ہیں۔ ایسی آبادیوں میں ضروریاتِ زندگی کی بنیادی ترین سہولیات بھی دستیاب نہیں ہوتیں اور عموماً یہاں فراہمی و نکاسی آب اور بجلی کی ترسیل کا نظام ناقص ہوتا ہے۔

بھوپندر کمار دارالحکومت دہلی کی ایک ایسی ہی آبادی میں رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ روزگار کے مواقع اور مناسب گھروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اگلے 20 سالوں میں تو لوگ آدم خور بن جائیں گے۔

بھارتی حکومت نے 2015ء میں گھر سب کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا، جس کی ڈیڈ لائن 2022ء تھی۔ اس منصوبے کے تحت شہروں میں 2 کروڑ اور دیہات میں 3 کروڑ گھر بنائے جانے تھے۔

اس حوالے سے جو پیش رفت بھی ہوئی ہے، اس سے قطع نظر اب بھارت کچھ نئے اور دلچسپ اقدامات اٹھاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ملک میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش نے ایک ایسی پالیسی تجویز کی ہے جس کے تحت دو بچوں تک محدود رہنے والے والدین کو حکومت مختلف ترغیبات اور رعایتیں دے گی۔

اتر پردیش کی آبادی 24 کروڑ سے زیادہ ہے، یہ پاکستان کی کُل آبادی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ اگر اتر پردیش ملک ہوتا تو اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک کہلاتا۔ ریاست کے مجوزہ قانون کے مطابق جس جوڑے کے دو بچے ہوں گے اور وہ رضاکارانہ طور پر نس بندی کرواتا ہے تو اسے مختلف فوائد سمیٹنے کا موقع ملے گا، مثلاً ٹیکس پر چھوٹ، گھر کی خریداری میں رعایت اور بجلی و دیگر ضروریاتِ زندگی کے بلوں میں بچت۔

دوسری جانب جن کے دو سے زیادہ بچے ہوں گے وہ مقامی حکومت کی ملازمتوں کے لیے درخواست نہیں دے پائیں گے اور مقامی انتخابات میں بھی حصہ لینے کے اہل نہ ہوں گے۔

فی الحال اس قانون پر 19 جولائی تک مشاورت جاری رہے گی، جس کے بعد اسے قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور بحث کے بعد ممکن ہے کہ اسے منظور بھی کر لیا جائے۔

یونیسیف کے مطابق بھارت میں ہر سال 2.5 کروڑ بچے پیدا ہوتے ہیں، یعنی دنیا بھر میں پیدا ہونے والا ہر پانچواں بچہ بھارتی ہوتا ہے اور ان میں سے بیشتر اتر پردیش میں ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ چین نے حال ہی میں ملک میں گھٹتی ہوئی شرحِ پیدائش کو سہارا دینے کے لیے جوڑوں کو تین بچے پیدا کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس سے پہلے 2016ء میں دہائیوں سے جاری وَن چائلڈ پالیسی کا خاتمہ کیا گیا تھا اور ہر جوڑے کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت ملی تھی۔ یعنی ایک ایسے وقت میں جب چین شرحِ پیدائش کے حوالے سے نرمی دکھا رہا ہے، بھارت میں اس پر کڑی پابندیاں لگانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے