28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

شیر خوار بچی کو دنیا کی مہنگی ترین دوا کی ضرورت، قیمت ۔۔۔۔۔۔

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

بھارت کی کھیاتی کی عمر چار ماہ تھی جب ان کے والدین کو شبہ ہوا کہ اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ وہ اس عمر کے باوجود اپنا سر خود نہیں اٹھا پا رہی تھی۔ ایک ماہ بعد انہیں پتہ چلا کہ کھیاتی کو ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں میں کمزوری کا سامنا ہے جو ایک جینیاتی مرض ہے اور مختصراً اسے SMA کہا جاتا ہے جو پٹھوں کی کمزوری اور نقل و حرکت کے آہستہ آہستہ خاتمے کا سبب بنتا ہے۔

جن پٹھوں کے کام متاثر ہوتے ہیں ان میں سانس لینے، نگلنے اور بنیادی حرکت کے پٹھے بھی شامل ہیں اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو  یہ بدترین صورت بھی اختیار کر سکتا ہے اور اس سے مریض مستقل مصنوعی سانس (ventilation) پر چلا جاتا ہے اور 90 فیصد مریض 2 سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے مر جاتے ہیں۔ کھیاتی کی عمر اس وقت 10 ماہ ہے اور ان کے والدین کے سامنے ایک بہت مشکل کام ہے – ایک ایسی دوا حاصل کرنا کہ جس کی قیمت 16 کروڑ بھارتی روپے یعنی پاکستانی روپوں میں 34 کروڑ روپے سے زیادہ۔ اس دوا کا نام Zolgensma ہے جو معروف ادویات ساز ادارہ Novartis بناتا ہے اور یہ SMA کی چند ادویات میں سے ایک ہے۔ اسے صرف دو سال سے کم عمر کے بچوں کو ہی لگایا جا سکتا ہے تاکہ اس مرض کی بڑھتی ہوئی علامات  پر قابو پایا جا سکے۔

کھیاتی کو فروری میں Zolgensma تجویز کی گئی تھی، جب ان کی عمر چھ ماہ تھی۔ اس دوا کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کی کراؤڈ فنڈنگ کی مہمات  کی وجہ سے اسے حال ہی میں کافی شہرت ملی ہے۔ کچھ لوگ اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں مثلاً حیدر آباد کے آیانش اور کنور کے محمد لیکن کھیاتی کے والدین جیسے کئی ماں باپ مہینوں سے اتنی رقم اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کھیاتی کے والد رامن نے مارچ میں کراؤڈ فنڈنگ مہم شروع کی تھی، لیکن پھر کووِڈ-19 کی دوسری لہر نے ان کا راستہ روک دیا۔ اب وہ ایک مرتبہ پھر کام کا آغاز کر رہے ہیں اور ابھی انہیں بہت کچھ کرنا ہے۔ اب تک وہ 3.3 کروڑ روپے ہی جمع کر پائے ہیں۔

یہ دوا یعنی Zolgensma بھارت میں نہیں لائی جاتی ہے اور اگر کوئی ڈاکٹر تجویز کرے تو اسے براہ راست امریکا سے درآمد کیا جاتا ہے۔ 2.12 ملین ڈالرز کی قیمت کے ساتھ اسے دنیا کی مہنگی ترین دوا سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کے اتنا مہنگا ہونے کی وجہ دراصل اس مرض  کا نایاب ہونا ہے جس کا یہ علاج کرتی ہے اور ساتھ ہی جین تھراتی میں تحقیق پر آنے والی بھاری لاگت اور دوا بنانے کا عمل بھی اس کی بھاری قیمت کی وجوہات میں شامل ہیں۔ فی الحال جب بچوں کو Zolgensma تجویز کی جاتی ہے تو والدین یا سرپرست کو نووارٹس  سے رابطہ کرنا پڑتا ہے اور پھر دوا ان کے لیے امریکا سے درآمد کی جاتی ہے۔

نووارٹس کی دوا دنیا میں SMA کے علاج کے لیے موجود صرف تین ادویات میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ بایو جن کی Spinraza اور حال ہی میں روش اور جینن ٹیک کی Evrysdi دیگر ادویات ہیں۔ پہلی دوا کی قیمت 7,50,000 ڈالرز ہے پہلے سال کے لیے اور اس کے بعد ہر سال کے لیے 3,75,000 ڈالرز۔ Evrysdi ایک منہ کے ذریعے دی جانے والی دوا ہے اور مریض کو ساری زندگی لینا پڑتی ہے، جو سالانہ 3,40,000 ڈالرز کی پڑ سکتی ہے۔

نہ صرف دوا کی قیمت بہت زیادہ ہے بلکہ اس پر کسٹمز ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس بھی ہے جو کل لاگت کا تقریباً 30 فیصد بنتا ہے۔ گو کہ رواں سال کے اوائل میں حکومت نے کہا تھا کہ ایسی زندگی بچانے والی ادویات پر کسٹمز ڈیوٹی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے لیکن اس پر 5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس تو پھر بھی لگے گا۔ البتہ اگر کوئی درخواست دی جاتی ہے تو کیس کے لحاظ سے رعایت کی جا سکتی ہے۔ اب اگر والدین اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے کوئی ایسی دوا باہر سے منگوانا چاہتے ہیں تو انہیں کسٹمز ڈیوٹی سے بچنے کے لیے مزید کاغذی کار روائیوں میں الجھنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی جنرل سیلز ٹیکس کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت سے مطالبات کرنا پڑتے ہیں۔

 

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے