28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

اغواء ہونے والے بیٹے کی تلاش 24 سال بعد بالآخر کامیاب

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

چین میں ایک شخص نے اپنے اغوا ہونے والے بیٹے کو بالآخر 24 سال بعد تلاش کر لیا ہے اور اس دوران ملک بھر میں تقریباً 5 لاکھ کلومیٹرز کا فاصلہ طے کیا۔

گو گانگ تانگ نامی شخص کا بیٹا صرف دو سال اور پانچ مہینے کا تھا، جب اسے مشرقی صوبہ شان ڈونگ میں اس کے گھر کے سامنے سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ وزارت عوامی تحفظ کے مطابق اغوا کاروں نے لڑکے کو وسطی چین کے ایک خاندان کو بیچ دیا تھا۔

‏1980ء کی دہائی میں چین میں بچوں کا اغوا اور اسمگلنگ عام تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملک میں ون چائلڈ پالیسی کا اطلاق کیا گیا تھا، جس کے تحت کسی جوڑے کو ایک سے زیادہ بچہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ برصغیر کی طرح چین میں بھی لوگ بیٹوں کی زیادہ خواہش رکھتے ہیں، اور اسی نے لڑکوں کے اغوا اور خرید و فروخت کو فروغ دیا۔

سالہا سال کی تلاش کے بعد بالآخر پولیس نے انہیں بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے مطابق وسطی صوبہ ہینان میں رہنے والا 26 سالہ نوجوان ہی ان کا کھویا ہوا بیٹا ہے۔

وزارت نے جو تصویر جاری کی ہے اس میں گانگ تانگ کو اپنے ہاتھوں سے چہرہ چھپائے ہوئے روتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اُن کی اہلیہ گو چین اپنے بیٹے کو گلے لگائے ہوئے تھیں۔

بیٹے کے اغوا کے بعد گانگ تانگ نے 1997ء میں اپنی ملازمت چھوڑ کر اپنی زندگی بیٹے کی تلاش کے لیے وقف کر دی۔ تب ان کی عمر 27 سال تھی اور انہوں نے تلاش کی مہم کا آغاز اپنی موٹر سائیکل کے ذریعے کیا جس کے پیچھے بڑے پرچم لگے ہوتے تھے، جن پر ان کے بیٹے کی تصویر لگی تھی۔

بالآخر ملک کے اندر 5 لاکھ کلومیٹرز کے سفر کے بعد انہیں اپنا بیٹا مل ہی گیا لیکن اس دوران انہیں ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹنے سے لے کر پیسے ختم ہونے پر بھیک مانگنے تک کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ ان کی زندگی پر 2014ء میں ایک فلم Lost and Love بنی تھی، جو بہت ہٹ فلم ثابت ہوئی۔

اس مہم کے دوران انہوں نے ایسے خاندانوں کو بھی مدد فراہم کہ جن کے بچے گم ہو چکے تھے اور ساتھ ساتھ بچوں کی اسمگلنگ کے حوالے سے شعور اجاگر کیا، جو اب بھی چین میں ایک ممنوعہ موضوع سمجھا جاتا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایک شخص کو اپنے اغوا شدہ بیٹے کی تلاش میں مدد دینے کے لیے پہلے بھی اس شہر میں آ چکے ہیں۔

اس حوالے سے دو افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، البتہ پولیس نے اس خاندان کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ جس نے گانگ تانگ کا بیٹا خریدا تھا۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر موضوعِ گفتگو بنا ہوا ہے جس میں ایک صارف نے لکھا کہ والدین کبھی اپنے بچوں کو نہیں چھوڑتے، گانگ تانگ کی جدوجہد ایک باپ کی اصل محبت کو ظاہر کرتی ہے۔

‏2016ء میں خاندانوں کے گمشدہ اراکین کا ڈی این اے ڈیٹا بیس بننے کے بعد سے اب تک پولیس کے مطابق 2,600 ایسے افراد جو بچپن میں اغوا ہو گئے تھے، اپنے حقیقی والدین سے مل چکے ہیں، جن میں سے چند تو 60 سال سے زیادہ عمر کے بھی تھے۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے