19.9 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

‏دائروں کا سفر – سلمان احمد صوفی

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

ہم لوگ
دائروں میں چلتے ہیں
دائروں میں چلنے سے
دائرے تو بڑھتے ہیں
فاصلے نہیں گھٹتے
آرزوئیں جلتی ہیں
جس طرف کو جاتے ہیں
منزلیں تمنا کی
ساتھ ساتھ چلتی ہیں
گرد اڑتی رہتی ہے
درد بڑھتا جاتا ہے
راستے نہیں گھٹتے۔۔۔۔۔

امجد اسلام امجد

اک ایسا سفر جس کی صعوبتوں سے انسان کے جسم و جاں کانٹوں میں الجھی اک عبا جیسے ہوجائیں، جب روح کے بدن سے ٹپکتے لہو کے قطرے بھی درد سے آشنا ہوجائیں اور یہ سوچنے میں بھی دشواری ہو کہ کس کس حصے کو رفو کریں یا کون سا ٹکڑا بس اک بھار کی طرح ساتھ رہے۔ خدا خدا کر کے سفر کا اختتام ہو۔دکھوں اور مصیبتوں کی گھڑی آپ کی کمر توڑ رہی ہو جسے اک سکھ کی سانس لینے کی خاطر اتار کے ایک طرف رکھیں۔ اس صبح نوید اور دلربا سورج کا نظارہ کرنے کی تمنا کریں جس کی خاطر یہ سب سہا، مگر رکیے یہ کیا ہوا اس درد کے قافلے کا اک ہمراہی شیخ وپکار میں مبتلا ہے ہم لٹ گئے ہمارا وقت ،ہماری جوانی کے حسین پلوں کی متاع لٹ گئی ہم تو وہیں ہیں جہاں سے برسوں پہلے چلے تھے۔۔۔۔
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

جب میں اسکول میں تھا تو اک غیر ملکی ادیب کے افسانے کا اردو ترجمہ پڑھا تھا، افسوس ادیب اور کتاب کا نام بھول گیا ۔بس کہانی کچھ یاد ہے جس میں اک بیل کا غم اب شدت سے محسوس ہوتا ہے۔

کہیں ایک کسان تھا وہ کھیتی باڑی کرتا تھا۔ اس کام میں کنویں سے پانی نکالنے کے لیے اک بیل اس کی مدد کیا کرتا تھا۔ کسان صبح سویرے اٹھتا، منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کرنے کے بعد بیل کو باڑے سے نکالتا، اس آنکھوں پہ کھوپے چڑھا کر رہٹ پہ جوت دیتا۔ بیل سارا دن چلتا رہتا اور کسان کے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی نکالتا رہتا۔ شام کو کسان بیل کو رہٹ سے الگ کرتا، چارے کے پاس لاکر اس کی آنکھوں کے کھوپے اتار دیتا۔ بیل بہت خوش ہوتا کہ اس نے آج لمبی مسافت طے کی ہے، کئی منزلوں سے ہو کر آیا۔ کسان بھی اپنے بیل کی تابعداری سے خوش تھا۔ اس کی فصلوں کی ہریالی کا چرچا چار سو تھا۔ اک دن کیا ہوا کہ غلطی سے کسان بیل کی آنکھوں کے کھوپے ٹھیک سے نا لگا پایا اور بیل کے چلنے سے وہ سرک گئے جس سے بیل دیکھنے کے قابل ہوگیا۔ وہ یہ دیکھ کر اک صدمے سے دو چار ہو گیا کہ وہ بس گول دائرے میں گھومے جا رہا ہے اور اتنے برس وہ یہی کرتا رہا۔

یہی سوچ سوچ کر کر وہ ہلکان ہو گیا۔ اس نےٹھیک سے کھانا پینا چھوڑ دیا اور پہلے سے دبلا ہو گیا مگر وہ اپنے مالک کی تابعداری میں کنویں کے گرد گول گول گھومتا رہا اور پانی نکالتا رہا مگر نا جانے کیا ہوا؟اب سب کچھ بدل سا گیا۔ کھیت بھی وہی تھے ان کا مالک بھی وہی جو کہ پہلے جیسی محنت ہی کرتا تھا مگر اس کے کھیتوں میں پہلے والی بات نا رہی۔ آہستہ آہستہ اس کے سارے کھیت سوکھ گئے۔۔۔۔

ہم بھی شاید اس رہٹ میں جتے بیل کی طرح ہیں جن کی آنکھوں کے کھوپے تو ہٹ گئے مگر اک دائرے میں سفر پہ مجبور ہیں جس سے ہر کام میں نتیجہ ثمر آورنہیں ہوتا۔

اک دانا کا قول ہے کہ جس نے بے دلی سے جام کشید کیا اس نے جام نہیں زہر کشید کیا۔۔۔

یوں تو پاکستان پہلے دن سے ہی نازک دور سے گزر رہا ہے کیونکہ تقسیم ہند کا عمل بھی عجیب تھا، انگریز سرکار نے کمال ہوشیاری سے ہماری گردن دشمن کے شکنجے میں دے کر آزادی کا پروانہ تھما دیا۔ اک ملک جس کا گزارا ہی زراعت پہ تھا اس کے سارے بڑے دریا جس دھرتی سے نکلتے تھے وہ اس سے پانچ گنا بڑے ملک کو دے دیا تا کہ دونوں ساری عمر آپس میں لڑتے رہیں اور ان کی چودھراہٹ قائم رہے۔

ویسے ہم بھی نادانوں کے سردار نکلے بقول منیر نیازی صاحب
کج شہر دے لوگ وی ظالم سن
کج سانوں مرنے دا شوق وی سی

ویسے تو 70 سال ضائع ہی ہو گئے مگر خاص کر 90 کا پورا عشرہ ہم نے آپسی لڑائی اور مار کٹائی میں ضائع کرڈالا۔ اگر ہم اس عشرے میں داخلی ،سیاسی اور معاشی محاذ پہ مضبوط ہوتے تو 9/11 کے بعد ایک ٹیلی فون کال پہ ہمیں کھڑے پاؤں فیصلے نا کرنے پڑتے۔اب وقت نہیں رہا کہ ہم 1980 اور 9/11 کے بعد کیے گئے غلط فیصلوں کا رونا روئیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اب ہوش کے ناخن لیں اور پرانی غلطیوں کو نا دہرائیں۔ پاکستان کو اس دلدل سے تمام سیاسی جماعتوں اور طاقتور حلقوں کو مل کر نکالنا چاہیے۔ افغانستان کے مسئلے پہ حالیہ بریفنگ نہایت اہمیت کی حامل ہے اور بہت ہی اچھی پیش رفت ہے۔ ہمیں نہایت عرق ریزی سے اس کڑے وقت میں ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے جس کی اونرشپ سب کو لینی چاہیے۔ اک بند کمرے میں اجلاس کی بجائے تمام قوم کو بھی اعتماد میں لیا جائے تا کہ آنے والے دنوں میں کیے گئے فیصلے عوام اور ملک کے مفاد میں ہوں کیونکہ یہ ہماری تاریخ کی ایک اور "ڈیفائننگ مومنٹ” ہے۔ اب کیے گئے فیصلوں کے ممکنہ مثبت یا منفی نتائج آنے والی کم ازکم دو ،تین دہائیوں پر ہوں گے۔

افغانستان میں اک ہولناک خانہ جنگی کے خطرات ہمارے دروازے پہ دستک دے رہے ہیں ہمارے مین سٹریم میڈیا پہ اس بارے بحث کم ہی ہو رہی ہے۔ تمام حلقوں کا خیال تھا کہ افغانستان میں سب فریقین کی رضامندی سے قدرے مستحکم حکومت قائم ہونے کے بعد امریکی اور نیٹو فوجیں جائیں گی۔امریکی انخلا کے بعد طالبان ایک بعد ایک سرحدی علاقے پہ قابض ہو رہے ہیں۔پائیدار امن کے لیے تمام فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا۔ورنہ افغانستان کے ساتھ ساتھ ہم بھی دائروں کا سفر طے کرتے ہوئے 1980,90 کی دہائی میں واپس چلے جائیں گے جو کہ پورے خطے کے لیے اک المیہ ہو گا۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

ایک تبصرہ

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے