28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

‏9 مہینوں تک بند رکھنے کے بعد بالآخر ایفل ٹاور کھول دیا گیا

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

فرانس کی مشہور زمانہ یادگار ایفل ٹاور کو بالآخر 9 ماہ بعد کھول دیا گیا ہے۔ یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس کی سب سے طویل بندش تھی۔

اس ٹاور کو مقامی طور پر "خاتون آہن” (Iron Lady) کہا جاتا ہے کہ جس کی لفٹ بالآخر کئی ماہ بند رہنے کے بعد چل پڑی ہے، جس کے ذریعے سیاح 300 میٹر یعنی 1,000 فٹ کی بلندی تک جا رہے ہیں اور شہر کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

البتہ کووِڈ-19 کی وجہ سے یہاں روزانہ آنے والے افراد کی حد 13,000 مقرر کی گئی ہے، جو معمول سے تقریباً آدھی ہے۔ اس کی وجہ سماجی فاصلے کو یقینی بنانا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگلے بدھ سے آنے والے مہمانوں کو ویکسین لگوانے یا منفی ٹیسٹ ہونے کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔

سیفٹی چیک کے آخری مرحلے مکمل ہونے کے بعد آپریٹنگ کمپنی نے اعلان کیا کہ اب "خاتونِ آہن” مکمل طور پر تیار ہیں۔

گرمیوں کی تعطیلات کے دوران قبل از وقت ٹکٹوں کی بکنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیرس میں سیاحت کا منظرنامہ کتنا بدل چکا ہے۔ اب برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ٹکٹ ہولڈرز "نہ ہونے کے برابر” ہیں جبکہ صرف 15 فیصد امریکی ہیں اور ایشیائی باشندوں کی تعداد کہیں کم ہے۔ ایفل ٹاور آنے والے نصف فرانسیسی ہیں اور معمول کے مطابق اطالوی اور ہسپانوی باشندوں کی تعداد بھی کافی ہے۔

اتنا عرصہ بند رہنے کی وجہ سے ایفل ٹاور کے معاملات چلانے والی کمپنی کو مالی طور پر کافی نقصان پہنچا ہے۔ اب وہ سرکاری امداد کے علاوہ 60 ملین یورو نقد بھی حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ اپنے معاملات معاملات کو سدھار سکے، کیونکہ اس کی آمدنی 2020ء کے مقابلے میں 75 فیصد کمی کے ساتھ 25 ملین یورو رہ گئی ہے۔

بہرحال، گستاف ایفل کی بنائی گئی اس یادگار کو رنگ و روغن کے بعد بھی مسائل کا سامنا ہے۔ 1889ء میں تعمیر کے بعد اسے 20 ویں مرتبہ رنگا گیا تھا۔ لیکن فروری میں یہ کام روک دیا گیا، کیونکہ اس مقام پر سیسہ بہت زیادہ پایا جا رہا ہے جس سے مزدوروں کی صحت کے لیے خطرات پیدا ہو گئے تھے۔ اب رنگ و روغن کا کام خزاں میں دوبارہ شروع کیا جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ ٹاور کے کئی حصے تعمیراتی کام کی وجہ سے جال کے پیچھے چھپے رہیں گے۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے