28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

ظہیر الدین بابر کون؟ ازبکستان سے کیا تعلق تھا؟

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

پاکستان اور ازبکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر پر ایک فلم بنائیں گے تاکہ نوجوان نسل دونوں ملکوں کے یکساں ورثے کے بارے میں جان سکے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنے دورۂ ازبکستان میں بتایا کہ ہم نے عظیم مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جن کی اولاد نے 300 سال تک برصغیر پر حکمرانی کی اور اسے عالمی معیشت کا مرکز بنا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسی ہی فلمیں مرزا غالب، علامہ اقبال اور امام بخاری پر بھی بننی چاہئیں جو دونوں ملکوں کے لوگوں کو جوڑیں۔

پاکستان میں گو کہ عموماً لوگ ظہیر الدین بابر کو اچھی طرح جانتے ہیں، جو مغلیہ سلطنت کے بانی تھے لیکن ان کا ازبکستان سے کیا تعلق ہے؟ اس بارے میں بہت کم ہی لوگوں کو معلوم ہے۔ دراصل بابر کی پیدائش فروری 1483ء میں پیدا وادئ فرغانہ میں ہوئی تھی، جو اب ازبکستان میں ہے۔ وہ فرغانہ کے گورنر کے صاحبزادے تھے۔ سمرقند کے علاقے کو تین مرتبہ کھونے کے بعد بابر نے ہندوستان کا رخ کیا اور 1526ء میں پانی پت کی پہلی جنگ میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر سرزمینِ ہند پر مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔ ان کا یہی کارنامہ ہے جس کی بدولت وہ آج ازبکستان کے قومی ہیرو شمار ہوتے ہیں۔ بابر کی پیدائش وادئ فرغانہ کے قدیم ترین شہر اندیجان میں ہوئی تھی جس کے میدانِ نوائی پر بابر کا مجسمہ نصب ہے۔

بابر کا اصل کارنامہ شمالی ہند کی سب سے بڑی طاقت رانا سانگا کا خاتمہ کرنا تھا، جو نو مولود مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے لیے ایک لاکھ راجپوتوں کے لشکر کے ساتھ میدان میں آ گیا تھا۔ آگرہ کے قریب جنگِ کھنوا میں 50 ہزار مغل سپاہیوں نے رانا سانگا کو شکست دی۔ اس جنگ کو ہندوستان کی تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس نے فیصلہ کر دیا تھا کہ اب صدیوں تک ہندوستان پر مغل راج ہوگا۔

صرف چار سال ہندوستان پر حکومت کرنے کے بعد بابر 1530ء میں آگرہ میں وفات پا گئے۔ گو کہ انہیں وہی دفنایا گیا لیکن بعد ازاں وصیت کے مطابق ان کی باقیات نکال کر کابل لے جائی گئیں، جو آج بابِ بابر میں اُن کی آخری آرام گاہ ہے۔

بابر نے چغتائی ترک زبان میں اپنی سوانح حیات میں ‘بابر نامہ’ بھی لکھی تھی جس کا ترجمہ جلال الدین اکبر کے دور میں فارسی میں کیا گیا تھا۔ بابر کی اولادوں میں سب سے زیادہ شہرت ہمایوں نے پائی تھی، جو ان کے بعد دوسرے مغل فرمانروا بنے۔

ازبکستان نے 2008ء میں بابر کے 525 ویں یومِ پیدائش پر یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیے تھے جبکہ پاکستان میں تو بابر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ پاک بحریہ کے مشہور بحری جہاز ‘پی این ایس بابر سے لے کر ملک کے اہم ترین کروز میزائل ‘بابر’ تک یہاں بہت کچھ ظہیر الدین بابر کے نام پر ہے۔ جبکہ بھارت میں ان کے نام پر سب سے بڑی یادگار ایودھیا کی بابری مسجد تھی، جسے 1992ء میں انتہا پسندو ہندوؤں نے شہید کر دیا تھا۔

ویسے ظہیر الدین بابر پر پہلی فلم قیامِ پاکستان سے بھی پہلے بنی تھی، جب 1944ء میں وجاہت مرزا نے ‘شہنشاہ بابر’ بنائی تھی۔ اس کے بعد 1960ء میں بھارت کے ہیمن گپتا نے "بابر” نام کی ایک فلم بنائی تھی یعنی پاک-ازبکستان مشترکہ منصوبہ بابر پر پہلی فلم نہیں ہوگا۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے