28.8 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

اولمپکس کی میزبانی، رحمت یا زحمت؟

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

دنیا میں کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹ اولمپکس کی میزبانی کرنا کسی بھی ملک اور شہر کے لیے فخر کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ ایک طویل اور پیچیدہ عمل کے بعد میزبانی کا حصول اور اس کے بعد اولمپکس کے انعقاد کی لاگت اب اربوں ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔

عموماً لوگ سمجھتے ہیں کہ اولمپکس کی میزبانی سے سیاحت کو فروغ ملتا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے معیشت کو تحریک ملتی ہے اور اس کے ملک کو معاشی طور پر بہت فائدہ پہنچتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کھیل بہت مہنگے پڑتے ہیں اور شہروں اور ملکوں کو بڑے قرضوں اور معاشی مسائل سے دو چار کر دیتے ہیں۔ خاص طور پر گزشتہ چند دہائیوں میں ہونے والے بیشتر اولمپکس کے میزبان شہر اور ملک بھاری قرضوں میں جکڑے گئے۔

میزبان کے خواہش مند شہروں کو اولمپکس کی میزبانی کے لیے مشیروں، ایونٹ آرگنائزرز اور میزبانی کی ذمہ داریوں کے حوالے سے سفر کے لیے ہی 50 سے 100 ملین ڈالرز خرچ کرنا پڑ جاتے ہیں۔ مثلاً اولمپکس 2020ء کے میزبان ٹوکیو ہی کو لے لیجیے جس نے 2016ء کے اولمپکس کی میزبانی کے حصول کی بھی کوشش کی تھی اور 150 ملین ڈالرز پھونک ڈالے تھے، لیکن میزبانی حاصل نہیں کر پایا۔ پھر 2020ء کے اولمپکس کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے ٹوکیو کو تقریباً 75 ملین ڈالرز مزید خرچ کرنا پڑے۔

اولمپکس نہ ہوئے تو جاپان کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوگا

میزبانی کے لیے بولی لگانے کے عمل پر اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد اصل اخراجات کا آغاز ہوتا ہے۔ لندن نے 2012ء کے اولمپکس کی میزبانی پر 14.6 ارب ڈالرز خرچ کیے کہ جن میں سے 4.4 ارب ڈالرز براہ راست ٹیکس دینے والے عوام کی جیب سے گئے۔ بیجنگ نے 2008ء میں 42 ارب ڈالرز اور ایتھنز نے 2004ء میں 15 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے۔ یونان میں اولمپکس کے بے موقع و محل اخراجات کے اثرات آج بھی عوام پر محسوس کیے جا سکتے ہیں جن کی جیب سے اب بھی اولمپکس کا قرضہ نکل رہا ہے۔ سڈنی نے 2000ء میں اولمپکس پر 4.6 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے جبکہ 2016ء کے آخری اولمپکس میں ریو ڈی جینیرو نے 20 ارب ڈالرز پھونک ڈالے تھے۔

اتنے بھاری اخراجات کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شہر اولمپک کی میزبانی حاصل کر لیتا ہے تو اسے ایونٹ میں شرکت کے لیے آنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں اور تماشائیوں کے لیے اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر کام کرنا پڑتا ہے۔ سڑکوں، ہوائی اڈوں اور ریلوے لائنوں کی تعمیر اور بہتری کے علاوہ کھلاڑیوں کو اولمپک ولیج میں ٹھیرانے کے لیے کم از کم 40 ہزار رہائش گاہیں بنانا اور پھر کھیلوں کے انعقاد کے لیے مخصوص تنصیبات تعمیر کرنے کے اخراجات۔ صرف بنیاد ڈھانچے پر 5 سے 50 ارب ڈالرز خرچ ہو جاتے ہیں۔

بلاشبہ اولمپکس کی میزبانی حاصل کرنے کے بعد شہر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے مستقبل میں شہر کے باسی فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں، لیکن  روزگار کے مواقع عارضی ثابت ہوتے ہیں اور نئے بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال پر آنے والی لاگت بھی بسا اوقات بہت مہنگی پڑتی ہے۔ جب 2002ء میں امریکا کے شہر سالٹ لیک سٹی کو سرمائی اولمپکس کی میزبانی ملی تھی تو صرف 7,000 لوگوں کو روزگار میسر آیا تھا، جو اصل توقعات کا صرف 10 فیصد تھا۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ روزگار کے مواقع انہی کو میسر آتے ہیں جو پہلے سے برسرِ روزگار ہوں، اور بے روزگاروں کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پھر بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے تعمیرات کے شعبے سے وابستہ اداروں، ہوٹلوں اور ریستورانوں کو جس منافع کی امید ہوتی ہے، وہ بھی شہر کی معیشت پر لگنے کے بجائے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کو چلا جاتا ہے۔

کیا ویکسینز اولمپک گیمز کو بچا پائیں گی؟

اس کے مقابلے میں اولمپکس سے ہونے والی آمدنی اخراجات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ مثلاً لندن نے 2012ء کے گرمائی اولمپکس میں 18 ارب ڈالرز خرچ کیے لیکن پائے صرف 5.2 ارب ڈالرز۔ وینکوور نے 2010ء میں سرمائی اولمپکس کے لیے 7.6 ارب ڈالرز خرچ کیے اور بدلے میں 2.8 ارب ڈالرز کمائے۔ بیجنگ نے 2008ء کے گرمائی اولمپکس پر 40 ارب ڈالرز سے زیادہ پھونک ڈالے اور پائے صرف 3.6 ارب ڈالرز۔ حالیہ چند دہائیوں میں صرف لاس اینجلس واحد شہر ہے کہ جس نے گیمز کی میزبانی سے منافع کمایا کیونکہ اس کا بیشتر انفرا اسٹرکچر پہلے سے موجود تھا۔

اولمپکس کے لیے بنائے گئے کئی میدان ایسے بھی ہیں، جو آج بھی جیب پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ مثلاً سڈنی اسٹیڈیم کی مرمت پر سالانہ 30 ملین ڈالرز لاگت آتی ہے۔ اسی طرح بیجنگ کا مشہور اولمپک اسٹیڈیم ‘برڈز نیسٹ’ سالانہ دیکھ بھال پر 10 ملین ڈالرز کھاتا ہے۔

اولمپکس کی میزبانی کرنے والے شہروں پر قرضے ایسے چڑھتے ہیں کہ پھر نسلیں بھگتتی ہیں۔ مونٹریال نے 1976ء میں اولمپکس کی میزبانی کی تھی اور اس کا قرضہ 2006ء تک ادا کیا جاتا رہا۔ روس کے ٹیکس دینے والے عوام آئندہ کئی سالوں تک سالانہ 1 ارب ڈالرز ادا کریں گے، جو سزا ہے 2014ء کے سوچی سرمائی گیمز کی میزبانی کی۔ اس کے علاوہ 2004ء کے ایتھنز اولمپکس کی زیادہ تر تنصیبات اب بھی یونان کے معاشی بحران میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں اور ان میں سے بیشتر میدان کسی استعمال میں بھی نہیں۔

تو یہ حقیقت ہے کہ اولمپکس کی میزبانی شہروں کے لیے سنگین معاشی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ جب تک شہر کے پاس پہلے سے ایسا بنیادی ڈھانچا موجود نہ ہو جو اضافی لوگوں کی آمد کو برداشت کر سکے، تب تک اولمپکس کی میزبانی کا کوئی فائدہ نہیں۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے