28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

اسلام آباد میں افسوس ناک واقعہ، افغان سفیر کی صاحبزادی کا اغوا اور تشدد

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

پاکستان میں افغانستان کے سفیر نجیب علی خیل کی صاحبزادی سلسلہ علی خیل کو نامعلوم افراد نے اسلام آباد سے اغوا کیا اور بری طرح تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

یہ واقعہ جمعے کو پیش آیا تھا جب سلسلہ ایک کرائے پر حاصل کردہ گاڑی میں سفر کر رہی تھیں۔ واقعے کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں لیکن اب تک یہ پتہ چلا ہے کہ وہ پانچ گھنٹے تک اغوا کاروں کی تحویل میں رہیں، جس کے بعد انہیں زخمی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ پولیس انہیں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لائی جہاں وہ اس وقت زیرِ علاج ہیں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی پمز کی رپورٹ کے مطابق 26 سالہ سلسلہ علی خیل کی کلائیوں اور ٹخنوں پر رسیوں سے باندھنے کے نشانات ہیں، جن سے ان ہاتھوں اور ٹانگوں پر سوجن نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سر پر بھی چوٹ کے نشانات ہیں اور لگتا ہے کہ انہیں بری طرح زد و کوب کیا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے  اسے "پریشان کن” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ سفارت کار اور ان کے اہلِ خانہ کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے اس حوالے سے با ضابطہ احتجاج کیا ہے اور اپنے بیان میں اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے سفارت کاروں، اُن کے اہل خانہ اور افغان  سفارت خانے کے عملے کے دیگر اراکین کے تحفظ پر خدشات ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اس واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے 48 گھنٹوں میں مجرموں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

البتہ ابھی تک اس حوالے سے کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات عرصے سے کشیدہ ہیں۔ ایک طرف تحریکِ طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسندوں سمیت دیگر دہشت گرد گروپ پاکستان میں کار روائیوں کے لیے افغانستان کو بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، وہیں افغانستان بھی پاکستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان کی پشت پناہی کرتا ہے۔

افغانستان سے امریکی و اتحادی فوج کے انخلا کے بعد جیسے جیسے ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے، مرکزی حکومت کے پاکستان مخالف بیانات میں بھی اتنی ہی شدت آتی جا رہی ہے۔ اس صورت میں   اسلام آباد میں افغان سفارت کار کی بیٹی کا اغوا بہت تشویش ناک بات ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سینیٹر شیری رحمٰن نے اپنے ٹوئٹ میں اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی  پر حملہ پاکستان اور ہماری اقدار پر حملہ ہے۔

دوسری جانب صحافی حامد میر نے سوال اٹھایا ہے کہ اسلام آباد میں مہنگے سیف سٹی کیمروں کو لگانے کا کیا فائدہ؟ ماضی میں کئی صحافیوں کے علاوہ ایک پولیس افسر بھی اغوا ہوئے اور ان کے معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے