25.7 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

جاسوسی کا اسرائیلی سافٹ ویئر، عمران خان سمیت کئی حکمران، صحافی اور اہم شخصیات نشانے پر

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

اسرائیل کے ایک ادارے NSO گروپ کی جانب سے بنایا گیا ایک سافٹ ویئر دنیا بھر میں سیاست دانوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور بھارت میں حزبِ اختلاف کے رہنما راہُل گاندھی بھی شامل ہیں۔

پیرس میں واقع صحافت سے وابستہ ایک ادارے ‘فوربڈن اسٹوریز’ اور ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ نے 50 ہزار سے زیادہ فون نمبرز پر مشتمل ایک دستاویز تک رسائی حاصل کی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں NSO نے اپنے سافٹ ویئر ‘پیگاسس’ کے ذریعے نگرانی و جاسوسی کے لیے منتخب کیا تھا۔

برطانوی اخبار گارجین، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ، اسرائیلی اخبار ہارٹز سمیت 15 دیگر ابلاغی اداروں کی جانب سے اس ڈیٹا لیک پر تحقیق کی گئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مختلف ‘جابر حکومتوں’کی جانب سے ’37 اسمارٹ فونز کو ہیک کرنے’ کے لیے پیگاسس سافٹ ویئرز کا استعمال کیا گیا جبکہ گارجین کہتا ہے کہ اس لیک میں 50 ہزار سے زیادہ نمبرز شامل ہیں جن کی جاسوسی میں 2016ء سے اب تک دلچسپی دکھائی گئی ہے۔ ان میں کئی سربراہانِ مملکت اور وزرائے اعظم، عرب شاہی خاندان کے اراکین، سفارت کار اور سیاست دانوں کے علاوہ سیاسی کارکن اور کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحافیوں کے نمبر بھی اس فہرست کا حصہ ہیں کہ جن کا تعلق فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل، سی این این، نیو یارک ٹائمز، قطری ٹیلی وژن ‘الجزیرہ’، فرانس 24، ریڈیو فری یورپ، امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’، بلوم برگ، دی اکنامسٹ، برطانوی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ اور وائس آف امریکا سمیت مختلف اداروں سے ہے۔

اسرائیلی کمپنی اور اس کی فون ہیک کرنے والی جدید ٹیکنالوجی

ایمنسٹی کی سکیورٹی لیب کے فورنزک تجزیے کے مطابق مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کی قریبی دو خواتین کے فونز بھی پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعے ہدف بنائے گئے۔ واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز کا فون اکتوبر 2018ء میں اُن کے قتل کے چند روز بعد ہی نشانہ بنایا گیا۔

پیگاسس دراصل اسرائیلی کمپنی کی جانب سے کسی کی بھی نگرانی کرنے کے لیے بنایا گیا ایک پیچیدہ سافٹ ویئر ہے، جو ہدف پر موجود افراد کے اسمارٹ فونز کو نشانہ بناتا ہے اور اس نے معلومات چوری کرتا ہے۔ مثلاً فون پر موجود ہر شخص کا نام اور فون نمبر، آنے والے جانے والے ایس ایم ایس، ای میل، فیس بک پیغامات یہاں تک کہ اسکائپ، واٹس ایپ، وائر، وی چیٹ اور ٹیلی گرام سمیت ہر ایپ سے معلومات حاصل کرنا بھی شامل ہے۔

تازہ ترین انکشافات میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ اب تک یہ سافٹ ویئر کس کس ملک نے خریدا ہے، لیکن خبروں کے مطابق اس کے صارف 10 ممالک میں پھیلے ہیں، جن میں آذربائیجان، بحرین، بھارت، قزاقستان، میکسیکو، مراکش، روانڈا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

ڈنمارک کی خفیہ ایجنسی نے جرمن چانسلر کی جاسوسی میں امریکا کی مدد کی، رپورٹ

بنانے والے ادارے NSO کا کہنا ہے کہ اس کا جاسوسی سافٹ ویئر مختصراً اسپائی ویئر نہ صرف دہشت گردی اور دیگر جرائم کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے بلکہ بچوں کے اغوا اور جنسی جرائم میں بھی کام آتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کے اسپائی ویئر کا استعمال کرنے والی حکومتوں نے کئی جانیں بچائی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سافٹ ویئر کو خریدا ہی بد نیتی کے ساتھ جاتا ہے اور اس کا "غلط استعمال” ہی ہوتا ہے۔ بھارت پہلا ملک تھا جس نے اس سافٹ ویئر کا استعمال کیا۔ 2018ء میں ایک رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس کے مطابق "گنگا” نامی ایک صارف 2017ء سے متحرک تھا اور بھارت کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش، برازیل اور ہانگ کانگ میں فونز کی جاسوسی کر چکا تھا۔

دسمبر 2019ء میں گارجین نے ہی انکشاف کیا تھا کہ کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری عہدیداروں کے موبائل فونز اسی سافٹ ویئر کے ذریعے ہدف بنائے گئے تھے۔ ان میں سینئر دفاعی اور انٹیلی جنس حکام بھی شامل تھے۔ یہ تب ‘واٹس ایپ’ میں ایک خامی کے ذریعے صارف کے فون میں داخل ہو جاتا تھا اور اس کے پیغامات اور ڈیٹا کو چوری کر لیتا تھا۔

تازہ انکشافات کے مطابق بھارت کی انتہا پسند حکومت اس سافٹ ویئر کے ذریعے 121 افراد کے فونز کو نشانہ بنا چکی ہے، جس میں تازہ اطلاعات حزبِ اختلاف کے مرکزی رہنما راہُل گاندھی ہیں۔ اس کے علاوہ صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور وکلا بھی شامل ہیں۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے