28.8 C
Islamabad
اتوار, اگست 1, 2021

اولمپکس کی تاریخ کے عجیب ترین کھیل

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

رواں ہفتے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں دنیا کے سب سے بڑے کھیل شروع ہونے والے ہیں۔ یہ وہی شہر ہے جہاں 1964ء میں پہلی بار کسی ایشیائی شہر میں اولمپکس ہوئے تھے۔  اولمپکس میں کرکٹ نہیں کھیلا جاتا، صرف ایک بار 1900ء کے پیرس اولمپکس میں کرکٹ شامل کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اولمپکس میں ہماری آدھی دلچسپی تو ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے اور جو تھوڑی بہت تھی بھی تو ہاکی کے زوال کے بعد اس کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے۔

کسی زمانے میں کرکٹ صرف ٹیسٹ فارمیٹ میں کھیلی جاتی تھی، یعنی مقابلہ پانچ دن چلے گا اور ہو سکتا ہے نتیجہ خیز بھی ثابت نہ ہو۔ چلیں تب تو سمجھ آتا تھا کہ اتنا طویل کھیل کس طرح اولمپکس میں شامل ہو سکتا ہے لیکن اب تو معاملہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سے بھی نکل کر 100 گیندوں کے ‘دی ہنڈریڈ’ اور 10 اوورز فی اننگز کے ‘ٹی 10’  فارمیٹ تک پہنچ چکا ہے۔ اس صورت حال میں کرکٹ کا اولمپکس میں نہ ہونا بہت ہی عجیب ہے۔

بہرحال، آج کا موضوع اولمپکس میں کرکٹ کی شمولیت نہیں بلکہ ایسے عجیب و غریب کھیلوں کا تذکرہ ہے جو ماضی میں اولمپکس کا حصہ رہ چکے ہیں بلکہ کئی تو ایسے ہیں جو اپنے تمام تر بے ڈھنگے پن کے باوجود دہائیوں تک اولمپکس کا حصہ رہے۔  آئیے آپ کو ایسے ہی چند کھیلوں کے بارے میں بتاتے ہیں:

لمبا غوطہ

‏1904ء کے گرمائی اولمپکس امریکا کے شہر سینٹ لوئس میں ہوئے تھے اور یہاں ایک مقابلہ تھا لمبے غوطے کا یعنی ‘Plunge For Distance’۔ اس کھیل میں شریک کھلاڑی کو پانی میں غوطہ لگانا ہوتا تھا اور 60 سیکنڈز میں بغیر جسم ہلائے جو زیادہ فاصلہ طے کرے گا، فاتح قرار پائے گا۔ یعنی بنا ہاتھ پیر ہلائے بھی آپ اولمپک میڈل جیت سکتے تھے۔ بہرحال، یہ واحد موقع تھا کہ اس عجیب کھیل  کو اولمپکس میں شامل کیا گیا، البتہ تین امریکی تیراک ‘مفت کے تمغے’ جیتنے میں ضرور کامیاب ہوئے۔


آرٹ

1912ء سے 1948ء کے دوران ہر اولمپکس میں محض کھیلوں کے ایونٹس ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ پانچ مختلف زمروں میں  مختلف آرٹس یعنی فنون کے جوہر دکھانے کا بھی مقابلہ ہوتا تھا، جن میں تعمیرات، ادب، موسیقی، مصوری اور مجسمہ سازی شامل تھے۔ شرط صرف اتنی تھی کہ ان تمام شعبوں میں  حصہ لینے والوں کا موضوع کھیل ہو مثلاً تعمیرات کا تمغا جیتنے کے لیے کھیلوں کے مقامات کی تعمیر ضروری تھی۔ اس میں صرف امیچر یعنی شوقین فن کاروں کو شرکت کی اجازت تھی، یہی وجہ ہے کہ یہ  "مقابلے” پروفیشنل آرٹ کی دنیا میں کوئی خاص تہلکہ نہیں مچا پائے۔ پھر لوگوں کی توجہ بھی اولمپکس کے دوران زیادہ تر کھیلوں پر ہی ہوتی تھی، اس لیے 1948ء کے بعد اس کا خاتمہ کر دیا گیا البتہ اس موقع پر شہر میں آرٹ نمائش ضرور ہوتی ہے۔ اتنے عرصے کے دوران اس "کھیل” میں 151 تمغے جیتے گئے جو آج کسی ملک کے تمغوں میں شمار نہیں ہوتے اور اولمپک ریکارڈز سے بھی نکالے جا چکے ہیں۔


گھوڑے پر کرتب

‏1920ء کے اولمپکس میں بیلجیئم کے شہر اینٹوَرپ میں ہوئے تھے، جس میں جمناسٹکس میں ایک عجیب ہی کھیل شامل  کیا گیا تھا جس میں گھوڑے کے اوپر جسمانی کرتب دکھانے ہوتے تھے۔ اس مقابلے میں صرف تین ملکوں نے حصہ لیا، میزبان نے سونے اور کانسی تمغے کے جیتے اور چاندی کا تمغہ فرانس کو ملا۔ 11 ستمبر 1920ء پہلا اور آخری دن تھا جب یہ کھیل اولمپکس میں کھیلا  گیا۔


کروکوئے

‏1900ء کے پیرس اولمپکس میں کروکوئے (Croquet) بھی کھیلا گیا۔ ارے نہیں، نہیں، یہ ہر گز کرکٹ سے ملتا جلتا کھیل نہیں ہے بلکہ اسے گالف کی ایک بگڑی بلکہ بچکانہ شکل کہا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے مقابلوں میں صرف فرانس نے حصہ لیا۔ یہ کھیل نہ تو مقبول تھا اور نہ ہی اسے کھیلنے کے لیے کوئی ایسی مہارت درکار ہوتی ہے کہ جس پر کسی کو سونے کا تمغا پہنایا جائے۔ مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ اس کے مقابلے دیکھنے کے لیے پورے ایونٹ میں صرف ایک تماشائی آیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دوبارہ کبھی نہیں کھیلا گیا۔


موٹر بوٹنگ

جی ہاں! موٹر بوٹنگ بھی ایک سال اولمپکس میں بطور کھیل شامل رہی ہے، یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکری اور "تمغا” چوکھا آئے۔ 1908ء کے لندن اولمپکس میں طے شدہ راستے کے پانچ چکر لگانے کے لیے موٹر سے چلنے والی کشتیوں کا مقابلہ ہوا۔ ان کشتیوں کی اوسط رفتار 20 میل فی گھنٹہ تھی اور یہ ساحل سے اتنی دُور تھیں کہ وہاں کھڑے تماشائیوں کو بمشکل ہی کوئی "مقابلہ” ہوتا نظر آیا۔ برطانیہ نے تین میں سے دو ایونٹس میں کامیابی حاصل کی جبکہ سونے کا ایک تمغا فرانس نے جیتا۔ بس اس کے بعد اسے دوبارہ کبھی اولمپکس کا حصہ نہیں بنایا گیا۔


رسی چڑھنا

یہ ذرا دلچسپ کھیل لگتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ 1896ء میں ایتھنز میں ہونے والے پہلے جدید اولمپکس کے بعد اسے  1904ء، 1906ء، 1942ء اور 1932ء کے اولمپکس میں بھی کھیلا گیا۔ اس میں شریک کھلاڑی کو سب سے کم وقت میں محض اپنے ہاتھوں کے ذریعے رسی چڑھنا ہوتی تھی۔


ڈبل سائیکلنگ

ٹینڈم سائیکلنگ 1908ء کے اولمپکس میں اولمپک کھیل کی حیثیت سے شامل ہوئی۔ پھر 1920ء سے 1972ء تک تمام اولمپکس کا حصہ رہی۔ اس کھیل میں دو افراد کو ایک سائیکل  دو ہزار میٹرز تک چلانا ہوتی تھی۔ جب یہ کھیل پہلی بار اولمپکس میں کھیلا گیا تھا تو فرانس نے سونے کا تمغہ جیتا تھا اور باقی دونوں برطانیہ کے ہاتھ آئے۔ اب یہ کھیل اولمپکس کا حصہ تو نہیں البتہ پیرالمپکس یعنی معذوروں کے اولمپکس میں ضرور کھیلا جاتا ہے۔


 

اسٹینڈنگ لانگ جمپ اور ہائی جمپ

اسٹینڈنگ لانگ جمپ اور اسٹینڈنگ ہائی جمپ کے مقابلے 1900ء سے 1912ء کے دوران چاروں اولمپکس کا حصہ رہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ آج کھیلے جانے والے لانگ جمپ اور ہائی جمپ کے مقابلے میں اس میں کھلاڑیوں کو بغیر دوڑے چھلانگ لگانا ہوتی تھی۔ کھلاڑیوں کو کھڑے کھڑے اپنے بازو اور کہنیاں گھمانے کی  اجازت ہوتی تھی تاکہ وہ لمبی چھلانگ لگا سکیں۔ بالکل اس طرح:

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے