28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

موجودہ ویکسینز ڈیلٹا سمیت تمام اقسام سے بچاؤ کے لیے کارگر، فیصل سلطان

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ اس مرتبہ عیدالفطر کے مقابلے میں عید الاضحیٰ کے دوران کم چھٹیاں دی گئی ہیں، اگر کیسز میں مزید اضافہ ہوا تو سخت اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے ملک بھر میں جاری کورونا وائرس کی نئی قسم کے اثرات سے متعلق اظہار خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کی نئی قسم بھارتی ویرینٹ یا ڈیلٹا کی موجودگی ملک کے زیادہ تر علاقوں میں پائی گئی ہے۔ کورونا کی چوتھی لہر میں اس قسم کا اثر بدرجہ اتم موجود ہے۔

فیصل سلطان نے کہا کہ کورونا وائرس کی موجودگی سے پہلے ہی یہ بات واضح تھی کہ جب کوئی وائرس آتا ہے تو اس کی مزید قسمیں عمومی طور پر تیزی سے پھیلتی ہیں۔ مثال کے طور پر یو کے ویرینٹ پچھلے والی عمومی قسم سے زیادہ تیزی سے پھیلا۔ اب ڈیلٹا بھی اس سے زیادہ تیزی سے ملک میں پھیل رہا ہے جو بلاشبہ ایک چیلنج ہے اور اس کا حل بھی موجود ہیں۔

کورونا ویکسین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب تک کا مشاہدہ یہ ہے کہ پاکستان میں ویکسین لگنے کی وجہ سے کیسز میں کمی نظر آئی ہے۔ جو ویکسینز اس وقت لگ رہی ہیں وہ اب تک سامنے آنے والی کورونا وائرس کی تمام اقسام سے بچاؤ کے لیے کارگر ہیں۔ کورونا کی کوئی بھی قسم ہو، ہر قسم کھانسی اور سانس ک ذریعے ہی پھیلتی ہے۔ لہٰذا ویکسینیشن کی شرح جب تک بڑھ نہیں جاتی، ماسک کا استعمال ہمارے لیے ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیلٹا کی شرح بتانا اس وقت مشکل ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں تمام کیسز کو سیکوینس میں لانا پڑتا ہے۔ کیسز کو پی سی آر کرنے سے مختلف اور تفصیل طلب کام ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف کیسز کی سیمپلنگ سے کام چلایا جاتا ہے۔ سیمپلنگ کی بنیاد پر ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ہمارے ہاں کورونا کی ڈیلٹا قسم غالب ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں ڈیلٹا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، کورونا کی جینو سیکوینسنگ میں 50 فیصد سے زائد ڈیلٹا کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ تاہم اسلام آباد میں ڈیلٹا وائرس سے اب تک کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں کراچی میں بھی کورونا کے بھارتی ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی میں ڈیلٹا ویرینٹ کی شرح 92 فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے