25.7 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

دوخواتین۔۔۔ خواتین اسلام کے لیے رول ماڈل – شاذیہ عبدالقادر

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

ہر سال ذوالحجہ کے موقع پر ادبی و دینی حلقوں میں سیرت ابراہیم علیہ السلام کی تذکیر   سے ہمیں بہت    رہنمائی ملتی ہے ،قرآن ان کو مسلمانوں کے لئے مثالی کردار  کے طور پر پیش کرتا ہے۔۔۔  آج ہم بات کریں گے حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے کار نبوت میں معاون  دو محترم  خواتین کی جن کی سیرت آج کے دور میں بھی بچیوں   اور خواتین کے لئے بہترین رول ماڈل ہیں۔۔۔۔۔جی ہاں حضرت سارہ علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہ السلام۔

قران و سیرت کا مطالعہ کریں تو دونوں  خواتین کی ایک قدر مشترک سامنے آتی ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ۔۔۔ایسا پختہ۔۔۔راسخ۔۔۔جس میں  اپنے رب پر خود سے زیادہ بھروسہ ہو۔۔۔

حضرت سارہ علیہ السلام  کی سیرت کے بارے جانیں تو بحیثیت عورت میرا سر فخر سے بھی بلند ہوجاتا ہے اور ان کی سیرت سے عفت و عصمت کی حفاظت کا  ایمانی مظاہرہ  بھی بے مثال ہے۔۔۔۔امیر خاندان کی  نازو نعم سے پلی بڑھی  لڑکی۔۔۔جب شادی کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انتخاب  ہوتا ہے تو  شوہر پرست خاتون  بن جاتی ہیں۔۔۔شوہر دوسرے علاقے میں جانے لگتے ہیں تو  اپنی آسائشوں بھری زندگی چھوڑ کر ان کے ساتھ چل پرتی ہیں۔۔۔بےمثال خوبصورتی جس کا  کا چرچا نگر نگر تھا۔۔۔حُسن ہو تو عورت کو  بہلانے میں شیطان کو بہت مشکل پیش نہیں آتی ۔۔۔۔لیکن حضرت سارہ کا  مضبوط  ایمان اور کردار بتاتا ہے کہ شوہر کی وفاداری ،اپنی  حیا    کی پاسداری رکھنے والی مثالی خاتون تھیں۔

قرآن و سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں ایسا مرحلہ آیا کہ  ایمان اور حیا داؤ پر لگ گئی ۔۔۔۔  انہوں نے اپنے رب سے مدد مانگی۔۔۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنی بندی کی حفاظت فرمائی۔۔۔ وہ ایمان اور کرادر کی اس بلندی پر تھیں کہ جہاں "خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”

صحیح بخاری حدیث   2217  کی روشنی میں واقعہ یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ( نمرود کے ملک سے ) ہجرت کی تو ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک بادشاہ رہتا تھا یا ( یہ فرمایا کہ ) ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کسی نے کہہ دیا کہ وہ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت لے کر یہاں آئے ہیں۔ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پچھوا بھیجا کہ ابراہیم ! یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے تمہاری کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہے۔

 

پھر جب ابراہیم علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے تو ان سے کہا کہ میری بات نہ جھٹلانا، میں تمہیں اپنی بہن کہہ آیا ہوں۔ خدا کی قسم ! آج روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کو بادشاہ کے یہاں بھیجا، یا بادشاہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ اس وقت حضرت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کرکے نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی تھیں۔ انہوں نے اللہ کے حضور میں یہ دعا کی کہ ” اے اللہ ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول ( ابراہیم علیہ السلام ) پر ایمان رکھتی ہوں اور اگر میں نے اپنے شوہر کے سوا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے، تو تو مجھ پر ایک کافر کو مسلط نہ کر۔ “

اتنے میں بادشاہ تھرایا اور اس کا پاؤں زمین میں دھنس گیا۔  حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ اے اللہ ! اگر یہ مرگیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔ چنانچہ وہ پھر چھوٹ گیا اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کرکے پھر نماز پڑھنے لگی تھیں اور یہ دعا کرتی جاتی تھیں ” اے اللہ ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر ( حضرت ابراہیم علیہ السلام ) کے سوا اور ہر موقع پر میں نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر۔ “ چنانچہ وہ پھر تھرایا، کانپا اور اس کے پاؤس زمین میں دھنس گئے۔   حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی دعا کی کہ اے اللہ ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔ “ اب دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ بھی وہ بادشاہ چھوڑ دیا گیا۔ آخر وہ کہنے لگا کہ تم لوگوں نے میرے یہاں ایک شیطان بھیج دیا۔ اسے ابراہیم ( علیہ السلام ) کے پاس لے جاؤ اور انہیں آجر ( حضرت ہاجرہ ) کو بھی دے دو۔ پھر حضرت سارہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ دیکھتے نہیں اللہ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ساتھ میں ایک لڑکی بھی دلوا دی۔”

بادشاہ     حضرت سارہ علیہ السلام کے  اللہ کے برگزیدہ بندی ہونے کا ایسا  مشاہدہ دیکھ کر اپنی بیٹی کو بطور خادمہ اور تعلیم و  تربیت کے لئے  ساتھ روانہ کردیتا ہے۔وقت گزرتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور حضرت سارہ علیہ السلام اپنے بڑھاپے کو دیکھتے ہوئے خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شادی  اپنی تربیت یافتہ حضرت ہاجرہ علیہ السلام سے کرواتی ہیں۔۔۔

حضرت سارہ کی زندگی سے اپنے اللہ پر ا یمان راسخ ،پختہ یقین،کامل بھروسہ،اپنی عفت و عصمت کی پاس داری و حفاظت  ،اپنے شوہر کی وفاداری،ہمدردی و  غم گساری کا بے مثال  سبق ملتا ہے ۔  ایک ایسا شخص جو انکی عزت کے درپے تھا جب آپکے ایمان کامل دیکھ کر اپنے عمل سے رک جاتا ہے معافی مانگتا ہے۔۔۔نہ صرف یہ بلکہ اپنی بیٹی کی تعلیم و تربیت کے لئے اسی خاتون  کا ایمان و اخلاق دیکھ کر ان کے حوالے کردیتا ہے تو حضرت سارہ  علیہ السلام اس لڑکی کی پرورش بھی خدا خوفی کے ساتھ کرتی ہیں ،آگے چل کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس   آزمائشی مرحلے سے حضرت ہاجرہ علیہ السلام کامیابی کے ساتھ گزریں  اس کے پیچھے دراصل حضرت سارہ علیہ السلام کی تعلیم و تربیت تھی۔۔۔کسی عناد ۔۔۔کسی ضد ۔۔۔کسی بدلے کی آگ کے بغیر صرف اللہ کی رضا کے لئے اپنی ذمہ داری ادا کی۔

حضرت ہاجرہ علیہ السلام   سے شادی کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام  جیسی اولاد سے نوازتا  ہے،حضرت ہاجرہ علیہ السلام حضرت سارہ علیہ السلام جیسی  برگزیدہ  خاتون   کی تربیت یافتہ ۔۔۔۔جب شوہر کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوتی ہیں تو ان کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا کہ شوہر   بے  آب و گیاہ صحرا میں ننھے بچے  کے ساتھ ان کو  اکیلے چھوڑ کر چل پڑیں گے۔۔۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو وہاں چھوڑ کر چل پڑتے ہیں تو حضرت ہاجرہ  علیہ السلام ان کے پیچھے آواز دیتی ہیں۔۔۔شوہر کے پلٹ کر جواب نہ دینے پر کہتی ہیں کیا یہ اللہ کا فیصلہ ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام     کا جواب "ہاں” ہوتا ہے ۔۔۔تو حضرت ہاجرہ علیہ السلام  فرماتی ہیں "تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا”

باپ نے اللہ کے حکم پر بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑ تو دیا لیکن  وہ ان کی  فکر سے غافل نہیں تھا وہ اولاد کہ جس کو پانے کے لئے پہلی وفادار اور محبت کرنے والی بیوی پر دوسری بیوی لائے ۔۔۔پھر پہلا بیٹا  ہی پیدا ہوا۔۔۔آج کے معاشرے کی رو سے دیکھیں تو باپ کی تو اس میں جان ہوگی۔۔۔۔۔۔تھوڑا دور جاکر حضرت ابراہیم علیہ  السلام جو   دعا فرماتے ہیں  وہ  قرآن کریم میں سورہ ابراہیم کی آیت 37،38 ہے۔آیت 38 میں خاص اپنے اہل خانہ کے دعا ہے کہ   جن کو  وہاں اللہ کے سہارے چھوڑ کر جارہے ہیں

پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار، یہ میں نے اِس لیے کیا ہےکہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تُو لوگوں کے دِلوں کو اِن کا مشتاق بنااور انہیں کھانے کو پھل دے  ، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔

شیرخوار بچے کے ساتھ جب ساتھ رکھی کھجوریں اور پانی ختم ہوجاتا ہے ،بچے کو پیاس پریشان کرتی ہے تو ماں بےچین ہوکر پانی کی تلاش میں صفا مروہ چکر لگاتی ہے جسے تاقیامت حج و عمرہ کے لئے لازم کردیا گیا۔۔۔” بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں چنانچہ جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر صفا مروہ کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور جو شخص خوشی سے نیکی کرے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔“البقرہ 158

بچہ ایڑیاں رگڑ کر پانی کے لئے بےچین ہوتا ہے تو رب کریم وہاں پانی  جاری فرمادیتے ہیں جو آج  دنیا کی جدید ترین لیبارٹیرز میں بھی ٹیسٹ ہوا اور کہا گیا کہ یہ  بہترین ،صحت بخش پانی ہے ۔زم زم جاری ہوتا ہے تو ماں بیٹا پیاس بجھاتے ہیں۔۔۔عورت کی فطرت میں شاید بچت اور جوڑ کر رکھنا شامل ہے ،حضرت ہاجرہ نے  پانی کے اردگرد  تھوڑا گڑھا سا بنا دیا  تاکہ پانی جمع رہے اور انہیں بعد میں بھی کام آئے ۔۔۔۔  پیارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ” اللہ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( حضرت ہاجرہ ) پر رحم کرے ، اگر انہوں نے جلدی نہ کی ہوتی ( اور زمزم کے پانی کے گرد منڈیر نہ بناتیں ) تو آج وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا ۔”  صحیح بخاری حدیث نمبر: 3362  کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں۔

لڑکا تھوڑا بڑا ہوجاتا ہے  تو والد محترم بیٹے کو  اپنا خواب سناتے ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔۔۔بعض روایات میں  حضرت اسماعیل علیہ السلام  کی عمر 12 سال بتائی گئی ہے۔۔۔

اتنے بچے کے سامنے باپ کہہ رہا ہے کہ مجھے تمھیں ذبح کرنے کا حکم ہے۔۔۔آفرین ہے اس ماں پر کہ جس نے باپ کے بغیر ایک بے آب و گیاہ صحرا میں رہ کر بیٹے کی اتنی اچھی تربیت کی کہ  وہ بیٹا   ایمان  کامل اور باپ کی فرمانبرداری  کی اعلیٰ مثال بن گیا۔۔۔بیٹے کا جواب سنئیے

"ابا جان! جس بات کا آپ کو حکم دیاگیا ہے اسے کرگذرئیے، انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے”

بطور عورت۔۔۔عورت کی فطرت جانتے ہوئے  میرے لئے یہ واقعہ بھی بہت حیران  کن ہے۔۔۔کیا اس خاتون نے شوہر سے جھگڑا نہیں کیا کہ اتنا عرصہ تم کہاں تھے آج میرے پاس کیا لینے آئے ہو۔۔۔اب تمھیں بیٹا یاد آگیا۔۔۔۔یا اس  بیٹے کے اندر  ماں نے باپ کے خلاف نفرت کیوں نہ بھری۔۔بیٹے نے یہ کیوں نہ کہا کہ جب ہمیں یہاں  صحرا میں  تھے تو اس وقت آپ کہاں تھے۔۔۔آپ نے میرے لئے کیاکِیا ہے۔۔۔جو آج  سالوں بعد آپ ایسی عجیب سی بات کرنے آگئے ہیں۔۔۔۔

آفرین صد آفرین کہ ماں نے بیٹے کو  منفی سوچوں کی تربیت دینے کے بجائے اپنے اللہ کا وفادار بنایا ۔۔۔ایمان دل میں راسخ کیا۔۔۔باپ کی ذمہ داری اور منصب کا احترام پیدا کیا۔۔کہ بیٹے نے باپ کی بات سن کر کہا کہ بسم اللہ کیجئے۔۔۔یہی نہیں بار بار شیطان نے بہکایا بھی۔۔۔ خاندان ابراہیم کا یہی وہ عمدہ مثالی ایمانی مظاہرہ ہے جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

سیرت ابراہیم علیہ السلام  سے جڑی ان مثالی خواتین  کی سیرت کے یہ پہلو ہم خواتین کے لئے مشعل راہ ہیں۔۔۔اپنی عزت اور پاک دامنی کی حفاظت عورت خود کرے تو اللہ بھی اسکا ضامن ہوتا ہے۔۔۔اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرنا۔۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں آگے بڑھنا۔۔۔اللہ پر مکمل ایمان اور توکل کرتے ہوئے اپنے خاندان کی ایمانی  تربیت کے ساتھ اپنے خاندان کے لئے کوششیں کرنا،انہیں  سہولت دینا، انکی پرورش کرنا۔۔۔اپنی ذمہ  داریوں کی ادائیگی صرف اللہ  کی رضا کے لئے۔۔۔اسی کے سامنے جوابدہی کے احساس کے ساتھ ادا کرنا اور اسی سے اجر کے طالب رہنا۔۔۔۔اولاد  کو بہترین  انسان اور بہترین مسلمان بنانا ۔۔۔یہ ایک عورت کی ایسی طاقتیں ہیں جنہیں وہ اپنا لے  ۔۔۔اپنی زندگی  ان طاقتوں کے ساتھ گزارے   تو دنیا کی کوئی طاقت اس  پر غالب نہیں ہوسکتی۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ بہت اچھے سبق آموز انداز بیاں سے ہمارے لیے بہترین پیغام قلم بند کی گیا ۔اللہ پاک آپ کی نیک کاوشیں قبول فرمائے آمین ثمہ آمین

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے