26 C
Islamabad
ہفتہ, ستمبر 18, 2021

مستقبل میں لوگ کتنی عمر تک زندہ رہیں گے؟

تازہ ترین

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...
- Advertisement -

جب 1776ء میں بینجمن فرینکلن نے امریکا کے اعلانِ آزادی پر دستخط کیے تھے تو اُن کی عمر 77 سال تھی۔ اُس زمانے میں مردوں کی اوسط عمر 34 سال بھی نہیں ہوتی تھی، یعنی اپنے زمانے کے حساب سے فرینکلن نے بہت طویل عمر پائی اور بالآخر 84 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اس طویل عمری کا راز وہ شراب نوشی سے پرہیز اور تیراکی کے شوق کو قرار دیتے تھے۔

آج دنیا بھر میں متوقع عمر مردوں کے لیے 70 سال اور خواتین کی 75 سال ہے۔ اس صدی کے وسط یعنی 2050ء تک دنیا میں 100 سال یا اس سے زیادہ عمر رکھنے والے افراد کی تعداد تقریباً 37 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 1990ءمیں صرف 95 ہزار تھی۔ ایک تحقیق کے مطابق حیاتیاتی طور ر ہماری زیادہ سے زیادہ عمر کی "حد” 150 سال ہے، الّا یہ کہ کوئی مرض لاحق ہو جائے یا کسی قدرتی آفت کے ہاتھوں جان چلی جائے۔

ویکسین کی دستیابی اور طبی لحاظ سے دیگر کامیابیوں کی بدولت عمر میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن اس سے کئی نئے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں مثلاً دنیا کے چند ممالک اور علاقوں میں بزرگوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے لیے سرمائے کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔ لیکن اگر انسان کی اوسط عمر میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے مستقبل کے حوالے سے سوچنے کے انداز میں تبدیلی آ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ وہ مختلف کیریئرز اپنائیں اور اپنی زندگی کے مختلف مراحل کو ایک تسلسل میں لا سکیں۔

حالیہ تاریخ میں کچھ مراحل ایسے آئے ہیں جو انسان کی اوسط عمر کے حوالے سے اچھے امکانات نہیں لائے، مثلاً امریکا پچھلے سال کووِڈ-19 کی وجہ سے دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا میں پہلی بار متوقع عمر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ فرانس میں بھی 2020ء میں اوسط عمر میں کمی آئی ہے۔

لیکن اس کے واضح اشارے موجود ہیں ہم اوسط عمر میں غیر معمولی اضافے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اگر لوگ صحت مندی کے ساتھ طویل عمر پائیں تو اس کے معاشی فوائد بھی ہیں۔ رواں ماہ شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق عمر رسیدگی کے عمل کو دھیما کرنے سے ایک سال میں 38 ٹریلین ڈالرز کا فائدہ ہو سکتا ہے۔

معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم OECD کے مطابق اُس کے 25 رکن ممالک جن میں تعلیم کی شرح بہت زیادہ ہے، کی متوقع عمر میں تقریباً چھ سال کا اضافہ ہو سکتا ہے، ان کے ملکوں کے مقابلے میں کہ جہاں شرحِ خواندگی کم ہے۔

سائنسی شواہد کے مطابق ذہنی دباؤ سے بچنا طویل عمری کا راز ہے۔ دماغ کے خلیات کو مضر اثرات سے بچانے والے ایک جین کا تعلق غیر معمولی طویل عمری سے ہے۔ تحقیق کے مطابق عمر رسیدگی کے اثرات کو کم کرنے اور عمر کو بڑھانے کے لیے سگریٹ کے دھوئیں، شراب اور کیڑے مار ادویات سے بچنا اہم ہیں۔

مزید تحاریر

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے