19.9 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

چھریاں چھپا کر رکھتی ہوں – ثناء ہاشمی

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

ویسے تو ہم معاشرتی طور پر کافی بے حس ہیں، بہت کچھ بھول جاتے ہیں، بہت کچھ سہ جاتے ہیں۔ قصور کی زینب سے لے کر انگنت پہلے اور بعد میں ریپ کی جانے والی معصوم بچیاں، عورتیں، روز کسی نا کسی درندے کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔

سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کہوں اور لکھوں، ایسا بے رحم معاشرہ۔۔۔ انسان تو انسان جانور بھی بے اماں ہوگئے۔ ان کو تو بس نبض چلتی ہوئی ملنی چاہیے۔ پھر وہ کوئی بچی، لڑکی، عورت، یا کوئی عمر رسیدہ ہو، یا پھر بکری ہی کیوں نا ہو۔۔۔

لکھتے ہوئے کی بورڈ پر ایک لمحے کو ہاتھ ہی رک جاتا ہے کہ میں کیسے لکھ سکتی ہوں اتنی بربریت کو، لیکن جو کچھ ہو رہا ہے اس پر زبان بندی نہیں ہوسکتی۔

وزیر اعظم نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہہ دیا کہ ریپ ہونے والا شخص کا قصور نہیں ریپ کرنے والا سزا کا مستحق ہے، لیکن اس معاشرے میں روبوٹ کی اصطلاح بھی وزیراعظم نے جب استعمال کی جب یہاں مسلسل ریپ کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس ریپ کو ریپ ہی کہا جائے تک، جب یہ لفظ ادا ہو تو اس کی بے بسی اور تکلیف کا اندازہ ہو، یہ وہ معاشرہ جس میں قبریں کھود کر ریپ ہوئے ہیں۔ یہ کونسے جنسی ہوس کے مارے ہیں کہ نا بکری چھوڑیں، نا مری عورت کو بخشیں، نا معصوم بچیوں کا لحاظ کریں، یہ پردہ بے پردہ، ہرعورت کو ایک طرح دیکھتے ہیں، مگر میرا سوال ہے کیوں؟ کیا وجوہات ہیں کہ یہ کیسز بڑھ رہے ہیں؟ کراچی سے اسلام آباد اور پھر ملک کا کوئی ایک شہر اور علاقہ نہیں جہاں عورتیں محفوظ ہوں۔

وہ ظاہر جعفر اپنے اقبال جرم میں کہہ رہا ہے کہ نور مقدم بے وفائی کررہی تھی،تو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ شرم اور لحاظ کا اگر رتی برابر بھی مطلب آتا ہے تو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔ ظاہر جعفرکے والد اور والدہ کو بھی، اور ان تمام لوگوں کو جنھوں نے اس منظر کے سامنے خود کو بےبس بنائے رکھا، عورت کو مار دو کسی بھی نام پر اپنی ہوس پوری کرو، اپنی تسکین پوری ہو چاہے پھر کسی کی گردن کاٹ کے اس کے دھڑ سے جدا کروں اور کہوں بے وفائی کا بدلا۔۔۔
ایسے مرد ہونے پر تف۔ ایک نہیں ہزار بار۔ لفظ نفرت بہت قبیح ہے، لیکن جو یہ سب کر ہے ہیں وہ اس لفظ سے زیادہ کے حق دار ہیں۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص ذہنی مریض تھا اس لیے ایسا کرگیا، جنسی ہوس کا غلبہ تھا اس لیے ریپ ہوگیا۔ میں ان سے سوال کرتی ہوں، کیا آپ ان لفظوں سے مجرمان کے حق میں آواز بلند کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ میں ایسے اشخاص کو جانتی ہوں جو اپنے گھر والوں کے لیے کسی اذیت سے کم نہیں، ان کی مائیں بہنیں ہر وقت ان کی موت کی دعا کرتی ہیں۔

کیوں انہوںنے اپنے گھر میں لوگوں کی زندگی حرام کر رکھی ہے۔ شادی کی تو بیوی کے ساتھ وہی جاہلانہ سلوک، ایک ماں نے مجھے کہااپنے بیٹے سے گھر میں چھریاں چھپا کر رکھتی ہوں ڈر ہے کہ کہیں ہمیں مار ہی نا دے۔ اس ماں کی بے بسی کا تصور کوئی کرسکتا ہے جو اپنے کوکھ سے جنم دینے والے سے ڈرتی ہو۔ اس ماں کے ان لفظوں نے میرا جسم تھرا دیا تھا۔۔۔ لیکن یہ سچ ہے کہ اس ظالم اسی دنیا میں رہتے ہیں۔ آپ کے گھر میں پل رہے ہوتے ہیں، لیکن شاید نظر نہیں آتے۔ نظر جب آتے ہیں جب کوئی حادثہ ہوجائے ایسے مرد ہونے کے دعوے داروں کو آپ کیا کہیں گے؟

ہم سہم گئے ہیں، کیسے گزاریں زندگی؟ کس سے کہیں کہ ہماری حفاظت کرو؟ عورت ہونا کیوں جرم ہے؟ کیوں ماں بہن بیٹی، بیوی گالی بنادیا ایسے خبیث لوگوں نے؟

آج جب دفتر آئی تو معلوم ہوا کہ ایک اور گھر کی معصوم ماہم کو اغو کیا گیا، اس کا ریپ کیا گیا، ایک زیادہ لوگوں نے اور پھر نعش کچرے کے ڈھیر پر پھینک دی۔ ہر روز ایسے واقعات ذہنی اذیت اور تکلیف سے دوچار کرتے ہیں۔ لاکھ بلز اور قوانین بن جائیں ، میرے نزدیک یہاں مرد کا راج اتنا مضبوط ہے کہ اس کے آگے ہر قانون اور اس کی گرفت بہت کمزور ہے، اور ریاست بھی شاید اس سنگینی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ لکھتے لکھتے گلہ سوکھ گیا، ایسا لگ رہا تھا کہ میں چیخ رہی ہوں اور کوئی سنتا ہی نہیں، لیکن اگلے کسی واقعہ کا انتظار اور پھر یہی کرب کی داستان تک کے لیے اجازت۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے