26 C
Islamabad
ہفتہ, ستمبر 18, 2021

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

کراچی کے ساحل پر پھنسے بحری جہاز کا تمام ایندھن نکال کر شہر کو ایک بڑے ماحولیاتی حادثے سے بچا لیا گیا

تازہ ترین

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...
- Advertisement -

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز ‘ایم وی ہینگ ٹونگ 77’ پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے لیکن اس میں 118 ٹن ایندھن موجود تھا جس کی وجہ سے خطرہ تھا کہ کہیں 18 سال پہلے کا سانحہ نہ رونما ہو جائے۔

جولائی 2003ء میں ایک بحری جہاز ‘تسمان اسپرٹ’ کراچی کی بندرگاہ کے قریب پھنس گیا تھا۔ یہ ایران سے 67 ہزار میٹرک ٹن تیل لے کر کراچی آ رہا تھا کہ بندرگاہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی کم گہرے پانی میں پھنس گیا۔ حادثے کے نتیجے میں جہاز دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اس کا 27 ہزار میٹرک ٹن تیل بحیرۂ عرب میں بہہ گیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ماحولیاتی حادثہ تھا جس کے انسانوں اور جنگلی حیات پر بد ترین اثرات مرتب ہوئے۔

‏2003ء میں کراچی کے ساحل پر پھنسا بحری جہاز تسمان اسپرٹ، جس نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ماحولیاتی حادثے کو جنم دیا

اسی واقعے کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے سب سے پہلے ہینگ ٹونگ 77 کا تمام ایندھن بہت احتیاط سے نکال لیا ہے ، یوں ایک فوری ماحولیاتی خطرہ تو ٹل گیا ہے۔ البتہ جہاز اب بھی پھنسا ہوا ہے اور اسے نکالنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔

ہینگ ٹونگ 77، جو اب بھی ساحل پر پھنسا ہے لیکن اس کا تمام تر ایندھن نکال لیا گیا ہے

تیل ایک قدرتی ایندھن ہے جو زمین کی سطح سے بہت نیچے گہرائی میں پایا جاتا ہے۔ یہ گاڑھا، چکنا اور چپچپا مائع زمین کی گہرائیوں میں ہو تو اس سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اتنی گہرائی میں کوئی جاندار یا پودا نہیں پایا جاتا ہے لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ تیل سطحِ زمین پر لایا جائے۔

انسان دہائیوں سے اپنی صنعتوں کے لیے تیل کے استعمال پر بھروسا کر رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد تو مزید گہرے کنویں کھودے جا رہے ہیں اور کہیں بڑے پیمانے پر زمین کی گہرائیوں سے تیل نکالا جا رہا ہے۔ یہی تیل بعد ازاں پائپ لائنوں کے ذریعے یا پھر ٹرکوں اور بحری جہازوں سے دنیا بھر میں فراہم کیا جاتا ہے۔

اس سے جہاں صنعت کاری کا عمل تیز ہو رہا ہے، وہیں تیل بہہ جانے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ تیل کے اخراج کا مطلب ہے خام تیل کا ماحول میں نکل جانا، چاہے وہ سمندر، جھیلوں یا دیگر آبی اجسام میں ہو یا سطحِ زمین پر ہی بہہ نکلنا۔ گو کہ تیل کی ترسیل اور اس کو صاف کرنے کے عمل کے دوران بھی ایسا ہوتا رہتا ہے لیکن یہ اتنا کم ہوتا ہے کہ اس کے اثرات زیادہ نہیں ہوتے۔ مثلاً ری فیول کرنے کے دوران بھی تیل گر سکتا ہے یا پھر پائپ لائن یا ڈرل کے دوران بھی ہونے والے چھوٹے موٹے چھید سے اخراج ہو سکتا ہے۔

یہ اخراج ماحول کے لیے ہر گز اچھا نہیں کیونکہ تیل، پودے اور جانور دونوں پر خام تیل کے خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اگر یہ اخراج بہت بڑے پیمانے پر ہو تو بڑے حادثات کو جنم دے سکتا ہے۔

خام تیل پودوں اور جانوروں دونوں کے لیے بہت خطرناک ہے۔ گاڑھا تیل پودوں کی سطح اور جانوروں کی جلد پر ایک تہہ بنا لیتا ہے، جسے ہٹانے یا اس کی صفائی کرنے میں انہیں بہت مشکل پیش آتی ہے۔ یہ جانوروں کی جلد، بال اور پروں کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اس طرح پرندوں کے پر بھاری ہو جاتے ہیں اور انہیں اڑنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر یہ تیل ملا پانی ان کے جسم کے اندر چلا جائے یا جذب ہو جائے تو بھی بھیانک اثرات سامنے آتے ہیں۔ ان کا مدافعت کے نظام اور پھیپھڑوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ بڑے ممالیہ جانور مثلاً ڈولفن اور ویل ایسے پانی میں موجودگی کی وجہ سے بہت سا تیل پی بیٹھتی ہیں، جس سے ان کے اندرونی اعضا کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔

حالیہ تاریخ میں تیل کے اخراج کے چند بہت بڑے واقعات پیش آئے ہیں، جن میں سے سب سے بڑے حادثات درج ذیل ہیں:

ایم ٹی ہیون ٹینکر

اپریل 1991ء میں اٹلی کے ساحل پر ایک بڑا آئل ٹینکر آیا، جس میں 4.5 کروڑ گیلن تیل موجود تھا۔ اس جہاز کی حالت خستہ تھی اور پھر یہ اچانک دھماکے سے پھٹ گیا۔ 4 کروڑ گیلن سے زیادہ تیل بحیرۂ روم میں بہہ گیا اور پورا ٹینکر ڈوب گیا۔ تیل کے بہاؤ کو روکنے کی کوششیں بری طرح ناکام ہوئیں اور تقریباً 12 سال تک اس جہاز کا تیل نکلتا رہا جس سے ارد گرد کے آبی اجسام اور ان میں موجود جنگلی حیات کو بہت نقصان پہنچا۔


اموکو کادیس

مارچ 1978ء میں 6.9 کروڑ گیلن تیل رکھنے والا اموکو کادیس بحری جہاز رودبار انگلستان (انگلش چینل) میں فرانس کے ساحل کے قریب پھنس گیا۔ جہاز جتنی شدت سے سمندری چٹانوں سے ٹکرایا تھا، وہ دھچکا برداشت نہیں کر پایا اور بالآخر ٹوٹ گیا اور اس کا پورا تیل سمندر میں بہہ نکلا۔


اے بی ٹی سمر

تیل انتہائی آتش گیر مادّہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے کئی واقعات دھماکوں کی وجہ سے پیش آئے ہیں۔ مئی 1991ء میں ایران سے نیدرلینڈز جانے والا ایک بحری جہاز اے بی ٹی سمر انگولا کے ساحل سے 700 بحری میل کے فاصلے پر اچانک دھماکے سے پھٹ گیا اور اس کا 7.5 کروڑ گیلن تیل سمندر میں بہہ گیا۔ یہ تیل تقریباً 80 مربع میل کے علاقے میں پھیل گیا اور ٹینکر تین دن تک جلتا رہا اور بحری کے ساتھ فضائی آلودگی بھی پھیلاتا رہا۔ واقعے میں عملے کے 32 میں سے پانچ اراکین مارے گئے۔


کاستیلو دی بیلویر

اگست 1983ء میں جنوبی افریقہ کے ساحلی شہر کیپ ٹاؤن کے قریب ‘کاستیلو دی بیلویر’ نامی جہاز میں بھی اچانک آگ لگ گئی تھی۔ یہ جہاز بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا اور کُل 7.9 کروڑ گیلن تیل سمندر کی نذر ہو گیا۔


نوروز آئل فیلڈ

تیل کا اخراج محض آئل ٹینکرز کے ذریعے ہی نہیں ہوتا۔ فروری 1983ء میں خلیج فارس میں ایک آئل ٹینکر ایرانی آئل پلیٹ فارم سے ٹکرا گیا تھا۔ اس تصادم کے نتیجے میں پلیٹ فارم کو سخت نقصان پہنچا اور اس سے تیل بہہ نکلا۔ کیونکہ اس زمانے میں ایران-عراق جنگ چل رہی تھی اس لیے عرصہ دراز تک اس کو بند کرنے کا کام نہیں ہو سکا۔ اس سے مجموعی طور پر 8 کروڑ گیلن تیل سمندر میں بہا۔


اٹلانٹک ایمپریس

جولائی 1979ءمیں یونان کا آئل ٹینکر ‘اٹلانٹک ایمپریس’ ایک طوفان میں پھنس گیا اور اس دوران ایک دوسرے ٹینکر سے ٹکرا گیا۔ اس تصادم کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ لگ گئی۔ ایمپریس اگلے تقریباً دو ہفتوں تک جلتا رہا اور بالآخر 9 کروڑ گیلن تیل کے ساتھ ڈوب گیا۔


اسٹوک 1

یہ واقعہ اٹلانٹک ایمپریس سے محض چند دن پہلے جون 1979ء میں پیش آیا تھا جب میکسیکو میں ایک آف شور تیل کا کنواں پھٹ گیا تھا، جس کے بعد آگ لگ گئی اور پورا پلیٹ فارم اس کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس کے بعد 10 سے 30 ہزار بیرلز روزانہ کے حساب سے تیل خلیج میکسیکو میں بہہ نکلا۔ اس کنویں سے تقریباً ایک سال تک تیل نکلتا رہا تب جا کر اسے بند کرنے کی کوششیں کامیاب ہو سکیں، لیکن تب تک تقریباً 14 کروڑ گیلن تیل سمندر میں بہہ چکا تھا۔ اس سے خلیج میکسیکو کی جنگلی حیات پر بھیانک اثرات مرتب ہوئے تھے۔


ڈیپ واٹر ہورائزن

حالیہ تاریخ میں سب سے بڑا تیل بہہ نکلنے کا واقعہ ڈیپ واٹر ہورائزن کا ہے، جو خلیج میکسیکو ہی میں واقع ہے جہاں اپریل 2010ء میں 20.6 کروڑ تیل سمندر میں بہہ گیا تھا۔ یہ تیل سطحِ سمندر سے نیچے ایک گہرے کنویں میں دھماکے کے نتیجے میں ہوا تھا، جس کے بعد آئل رِگ پر بھی دھماکا ہوا۔ کیونکہ یہ اخراج سطحِ سمندر سے کہیں نیچے تھا اس لیے اسے بند کرنے کی کئی کوششیں ناکام ہوئیں اور 85 دن تک اس سے تیل نکل کر خلیج میکسیکو میں بہتا رہا۔ خلیج کا 570 میل طویل ساحل اس سے بری طرح متاثر ہوا اور اس کے کنارے رہنے والی جنگلی حیات کو سخت نقصان پہنچا۔


پہلی جنگِ عراق

کویت کے تیل کے کنووں میں لگی آگ کا سیٹیلائٹ سے منظر

جنوری1991ء میں پہلی جنگِ عراق کے دوران کویت کے ساحل پر سب سے زیادہ تیل کا اخراج ہوا۔ عراق نے امریکی آمد کو روکنے کی کوشش کے دوران جان بوجھ کر تیل کو سمندر میں بہایا تاکہ امریکی فوج بحری راستے سے نہ آ سکے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس میں 38 سے 52 کروڑ گیلن تیل خلیج میں بہایا گیا تھا اور 4 ہزار مربع میل کے علاقے پر 4 انچ موٹی تیل کی تہہ پانیوں پر جم گئی تھی۔ لیکن عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی طرح یہ دعوے بھی حقیقت سے بہت دُور تھے۔ آزاد ماہرین کے مطابق یہ اخراج 17 کروڑ گیلن تھا۔ بہرحال، یہ علاقے کی جنگلی حیات کے لیے بہت تباہ کن ثابت ہوا اور آج بھی علاقے پر اس کے اثرات نظر آتے ہیں۔

مزید تحاریر

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے