12.7 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی یو-بوٹس نے اتحادیوں کے 3,474 بحری جہاز تباہ کیے تھے جبکہ اتحادی آبدوزوں نے بحر الکاہل میں جاپان کے 1,314 بحری جہاز ڈبوئے۔ لیکن 1945ء میں جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد سے اب تک 75 سال میں آبدوزیں زیادہ تر خاموش ہی رہی ہیں۔

اتنے طویل عرصے میں صرف دو آبدوزیں ایسی ہیں جنہوں نے دشمن کے کسی بحری جہاز کو ڈبویا ہے، اور ان میں سے ایک ہے پاکستان کی مشہور زمانہ آبدوز ‘ہنگور’۔

یہ فرانسیسی ساختہ آبدوز 1971ء کی پاک-بھارت جنگ کے دوران بحیرۂ عرب میں تعینات تھی۔ 1,043 ٹن وزنی اور 16 ناٹس کی زیادہ سے زیادہ رفتار رکھنے والی اس آبدوز میں 22 انچ کی 12 تارپیڈو ٹیوبز نصب تھی۔

جنگ کے آخری ایام میں 9 دسمبر 1971ء کو ہنگور نے دو بھارتی جنگی بحری جہازوں کو آتے دیکھا۔ کمانڈر احمد تسنیم نے فوری طور پر آبدوز کو غوطہ لگانے اور شکار کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔ اس کے نشانے پر بھارت کے دو بلیک ووڈ کلاس جنگی بحری جہاز تھے جن میں سے ایک کا نام کھکری تھا اور دوسرے کا کرپان۔ یہ بحری جہاز دراصل آبدوزوں کا شکار کرنے کے لیے ہی بنائے گئے تھے لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ آج شکاری خود شکار ہو جائے گا۔

ہنگور نے موقع ملتے ہی کرپان کی طرف اپنا پہلا تارپیڈو پھینکا، جس کی زد میں آنے سے وہ بچ نکلا۔ تب کھکری نے ہنگور پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہنگور سے نکلنے والا اگلا تارپیڈو اس کے لیے کافی ثابت ہوا۔ کرپان کی جوابی حملہ کرنے کی کوشش بھی بری طرح ناکام ہوئی کیونکہ ہنگور کے اگلے تارپیڈو نے اسے بھی بری طرح گھائل کر دیا اور اس نے فرار ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔

کھکری پر کیا گیا وار اتنا کاری تھا کہ اسے تباہ ہونے میں صرف دو منٹ لگے اور 194 افراد پر مشتمل عملے سمیت بحیرۂ عرب کے پانیوں میں ڈوب گیا۔ یہ بھارت کی بحریہ کا تاریخ کا سب سے بڑا نقصان ہے، جس کا بدلہ لینے کے لیے اگلے چار روز تک بھارت کے دوسرے بحری جہازوں اور طیاروں نے بحیرۂ عرب کا چپہ چپہ چھان مارا لیکن ہنگور چار دن تک سب کو غچہ دیتی ہوئی 13 دسمبر 1971ءکی رات کراچی واپس پہنچ گئی۔

ایک عظیم مشن اپنی تکمیل کو پہنچا، لیکن سقوطِ ڈھاکا نے اس خوشی کو غم میں بدل دیا۔ بہرحال، ہنگور 1969ء سے 2006ء تک بحریہ کا حصہ رہی اور آج کراچی میں واقع بحریہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ بحریہ ہر سال 9 دسمبر کو ‘یومِ ہنگور’ مناتی ہے۔

پاک بحریہ کی تاریخ میں اگر کسی ایک جہاز کے عملے کو سب سے زیادہ اعزازات ملے ہیں تو وہ ہنگور ہی ہے۔ 4 ستارۂ جرات اور 6 تمغۂ جرات اور 14 اعزازی شمشیریں۔ دوسری جانب بھارت نے بھی کھکری کے کپتان مہندر ناتھ ملا کو ملک کا دوسرا سب سے بڑا فوجی اعزاز مہا ویر چکر دیا۔

یہ جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد کسی بھی آبدوز کا پہلا شکار تھا۔ اس کے بعد دوسری آبدوز برطانیہ کی کونکیورر (Conqueror) تھی ۔ یہ تاریخ کی واحد نیوکلیئر آبدوز ہے جس نے دشمن کے کسی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔ 5,400 ٹن وزنی اور 28 ناٹ کی زیادہ سے زیادہ رفتار کی حامل اس آبدوز 1982ء نے فاک لینڈز کی جنگ میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

ارجنٹینا کی بحریہ کے جہاز ‘جنرل بلگرانو’ کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس کا مقابلہ کس سے ہے۔ 12,300 ٹن وزنی یہ جہاز 6 انچ کی 15 گنیں رکھتا تھا جبکہ 5 انچ کی 8 اور مختلف اینٹی ایئر گرافٹ گنیں بھی اس پر نصب تھیں۔ لیکن جیسے ہی وہ برطانیہ کے مخصوص علاقے میں داخل ہوا، کونکیورر نے اس کا تعاقب شروع کر دیا۔ 2 مئی 1982ء کو آبدوز نے حملے کا حکم دیا اور تین مارک 8 تارپیڈو فائر کر دیے، جن میں سے دو بحری جہاز کو جا لگے جو اپنے عملے کے 323 اراکین سمیت ڈوب گیا۔

اس حملے کے بعد ارجنٹینا کا بحری بیڑا اپنی بندر گاہوں میں دبک گیا اور برطانیہ نے فاک لینڈز جزائر اس سے واپس چھین لیے۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے