26 C
Islamabad
ہفتہ, ستمبر 18, 2021

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

تازہ ترین

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...
- Advertisement -

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا مستقبل روشن ہے۔

‏’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ’ کی ایک رپورٹ کے مطابق 28 سالہ عامر ان چند تاجروں میں شامل تھے جو لائن آف کنٹرول پر اپنی چیزیں فروخت کیا کرتے تھے جسے دونوں نیوکلیئر ممالک کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے 2008ء میں کھولا گیا تھا۔

یہ تجارت اُڑی کے ڈیڑھ لاکھ باسیوں، خاص طور پر تاجروں، مزدوروں اور ڈرائیوروں کے لیے ایک نعمت تھی۔ جہاں کبھی سکون ہوتا تھا وہاں چھوٹے موٹے ہوٹل، ریستوران اور مارکیٹیں کھلنے لگیں لیکن پھر اپریل 2019ء میں اچانک بھارت نے تمام تجارتی سرگرمیاں معطل کر دیں اور اب عامر اور ان جیسے دیگر کئی لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو سرحد پار تجارت پر بھروسا کرتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں عید الاضحیٰ پر جانور قربان کرنے پر پابندی؟

کشمیر یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ عامر کہتے ہیں "میرے بڑے خواب تھا۔ سوچا تھا تجارت مزید بہتر ہوگی، زیادہ چیزوں کی تجارت کی اجازت ملے گی اور یہ عمل مزید سادہ اور آسان ہو جائے گا۔”

بھارتی حکومت نے اس فیصلے کی وجہ "غیر قانونی ہتھیاروں، منشیات اور جعلی کرنسی” کی ترسیل کو قرار دیا ہے۔

عامر کے 75 سالہ والد عطا اللہ کا اندازہ ہے کہ تجارت معطل ہونے سے اُڑی اور گرد و نواح کے 150 سے زیادہ مزدور بے روزگار ہوئے ہیں، جو ان ٹرکوں کا سامان ڈھوتے تھے۔ اس کے علاوہ 340 تاجروں کو بھی نقصان ہوا ہے۔

"سرحد پار تجارت سے سینکڑوں غریبوں کو بطور مزدور اور ڈرائیور کام ملتا تھا اور قصبے میں بڑی رونق ہو گئی تھی۔ سامان کے بدلے میں سامان کی بنیاد پر ہونے والی تمام تر تجارت اسی قصبے سے ہو رہی تھی۔ لیکن اچانک سب کچھ روک دیا گیا، گویا خواب بکھر گیا اور کئی لوگ اپنی آمدنی سے محروم ہو گئے۔ چند تاجروں کا پیسہ بھی اب سرحد پار پھنسا ہوا ہے۔ ہمارے پاس اسے نکلوانے کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ یہ سامان کے بدلے میں سامان کی تجارت تھی۔ ”

کیا بھارت کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے والا ہے؟

اس واقعے کے چند ماہ بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو حاصل محدود نیم خود مختاری کا بھی خاتمہ کر دیا، خطے کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور اسے ریاست سے گھٹا کر وفاق کے زیرِ انتظام علاقہ بنا دیا۔

عامر کہتے ہیں کہ "اپریل 2019ء میں تجارت معطل ہونے کے بعد بحالی کو جو امیدیں تھیں وہ 5 اگست کو ختم ہو گئیں۔ تب سب کچھ مہینوں کے لیے بند ہو گیا اور مواصلات کے ذرائع تک معطل کر دیے گئے۔”

اُڑی 48 دیہات پر مشتمل ایک پہاڑی علاقہ ہے جس کے چند علاقوں تک تو گاڑی بھی نہیں جا سکتی۔ ایک سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں فوج اور پولیس بہت زیادہ موجود ہیں۔ قصبے سے دُور اور لائن آف کنٹرول کے قریب واقع دیہات تک جانے کے لیے تو یہاں کے مکینوں کو بھی پہلے اجازت نامہ لینا پڑتا ہے۔ زیادہ تر لوگ کاشت کاری اور مزدوری سے وابستہ ہیں اور کئی لوگوں کو روزگار کے لیے کشمیر کے سب سے بڑے شہر سری نگر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحد پار تجارت نے اُن کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کر دیے تھے۔

تب ایک دن میں اوسطاً 35 ٹرک مختلف سامان لے کر جموں میں چکاں داں باغ راولا کوٹ راستے یا کشمیر میں سلام آباد چکوٹھی راستے سے پاکستانی علاقے کو جاتے۔ کاروبار ہفتے میں چار دن ہوتا تھا۔ سلام آباد تجارتی راستہ اُڑی میں پاکستانی ٹرکوں سے سامان وصول کرتا کہ جن میں پشاوری چپلیں، خشک میوے، پیاز وغیرہ شامل ہوتے کہ جنہیں بھارتی مارکیٹوں کو بھی فروخت کیا جاتا تھا۔

مقامی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2008ء سے مارچ 2019ء کے درمیان اس سرحد پار تجارت کا حجم 57.2 ارب بھارتی روپے (77 کروڑ امریکی ڈالرز) تک تھا۔

مقبوضہ کشمیر کی “پاکستانی دلہنیں” وطن واپسی کی منتظر

‏33 سالہ شفیق احمد شاہ اُن مزدوروں سے ایک تھے جو سامان ڈھونے کا کام کرتے تھے۔ بتاتے ہیں کہ "میں ہفتے کے چار روز 800 سے 1,000 روپیہ کماتا تھا۔ اس طرح میں اپنے خاندان اور بچوں کی صحیح دیکھ بھال کر پاتا تھا لیکن اب کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔ میں اب بھی مزدوری ہی کرتا ہوں لیکن اب کام اتنا نہیں ملتا اور پیسے بھی کم ہیں۔”

سلام آباد کراس- ایل او سی ٹریڈ یونین کے صدر ہلال احمد خان نے اس تجارتی عمل میں موجود خامیوں کو موردِ الزام ٹھیرایا کہ جو تاجروں کو بھارتی حکومت کے الزامات کی زد میں لے آئیں۔ "جب 2008ءمیں پہلی بار تجارت شروع ہوئی تھی تو گویا ایک معجزہ تھا کیونکہ اس سے دونوں ملکوں کے مابین اعتماد کی فضا قائم ہوتی۔ یہ ایک اچھا قدم تھا اور اُس وقت ایسا لگتا تھا کہ اب دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید بہتری ہی آئے گی۔”

عطا اللہ نے کہا کہ اُڑی کا راستہ 1947ء میں تقسیمِ ہند سے پہلے سے مظفر آباد جانے کا قدرتی راستہ تھا۔

لیکن یہ تجارتی منصوبہ خامیوں سے پاک نہیں تھا۔ اس لیے ہلال احمد نے مقامی حکومت کو کئی تجاویز دیں کہ وہ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے۔ اس میں تجارت کی اشیا کی فہرست کو بہتر بنانا، اڑی کے ٹریڈنگ سینٹر میں فُل باڈی ٹرک اسکینرز نصب کرنا، تاجروں کو ایک دن کا وزٹ ویزا جاری کرنا تاکہ وہ پاکستانی تاجروں کے ساتھ اپنے معاملات حل کر سکیں، بینکاری کی سہولت دینا اور تنازعات کے حل کا طریقہ تشکیل دینا شامل تھے۔ "میں نے یہ بھی تجویز کیا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے بھارتی ادارے سہ ماہی بنیادوں پر ہمارے اکاؤنٹس کی نگرانی کریں اور چیک کریں تاکہ ہماری تجارت پر کسی قسم کا شبہ نہ رہے۔”

لیکن ان کی کسی تجویز کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔

مقبوضہ کشمیر سے ‘اردو راج’ کا خاتمہ کر دیا گیا

رواں سال فروری میں پاکستان اور بھارت نے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کا اعلان کیا تھا لیکن اب بھی عدم اعتماد اپنے عروج پر ہے اور مستقبلِ قریب میں اِس تجارت کی بحالی کا امکان بہت کم ہے۔ لیکن کشمیر کی کاروباری شخصیات لائن آف کنٹرول کے پار تجارت کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر شیخ عاشق کا کہنا ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ ان معاملات پر مستقل رابطے میں ہیں اور ہمیں کہا گیا ہے کہ مناسب وقت پر ایسا کیا جائے گا۔

ہلال احمد خان کہتے ہیں کہ سرحد پار تجارت کشمیر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے۔  سرحد پار تجارت کی بندش اور اگست 2019ء کے فیصلوں کے بعد لگاتار لاک ڈاؤن اور پھر کووِڈ-19 کی صورت حال نے کشمیریوں کو غربت کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ اس تجارت نے ایک انقلاب برپا کر دیا تھا۔ 10 سال میں روزگار کے 1,72,000 سے زیادہ مواقع پیدا ہوئے۔ مزدوروں اور ڈرائیوروں کو بھی 800 روپے روزانہ کمانے کا موقع ملا جو حکومت کی کسی بھی روزگار اسکیم سے کہیں بہتر ہے۔”

ہلال احمد خان کی تائید 2016ء کی اس تحقیق سے بھی ہوتی ہے جو نئی دہلی میں قائم بیورو آف ریسرچ آن انڈسٹری اینڈ اکنامک فنڈامینٹلز نے جاری کی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق تجارت اس علاقے میں بھرپور معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا تھا اور ان لوگوں کو بھی ملازمت کے مواقع دیے تھے جو پہلے عسکریت پسندی میں ملوث تھے جبکہ اُڑی اور مظفر آباد جیسے اضلاع کی معاشی سرگرمیوں میں بھی کافی بہتری آئی تھی۔

لیکن اُڑی کا تجارتی مرکز آج ویران پڑا ہے اور علاقے کے مکین اس امید پر بیٹھے ہیں کہ ایک دن اس کی رونقیں بحال ہوں گی اور اس بھارتی فوج کے بجائے تجارت کے لیے سامان سے لدے ٹرک چلتے نظر آئیں گے۔

مزید تحاریر

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے