26 C
Islamabad
ہفتہ, ستمبر 18, 2021

برٹش میوزیم، دنیا جہاں سے لوٹے گئے مال کی نمائش کا مرکز

تازہ ترین

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...
- Advertisement -

یہ مشہورِ زمانہ برٹش میوزیم ہے، جو عالمی تاریخ کے موضوع پر دنیا کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد اس میں موجود 80 لاکھ سے زیادہ ثقافتی و تاریخی نوادرات اور فن پارے دیکھنے کے لیے آتے ہیں جو انسان کی 20 لاکھ سال کی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں۔

اس عجائب گھر کے "قابلِ دید” نوادرات کی فہرست دیکھیں، اس میں موجود 12 میں سے آدھی چیزیں ایسی ہیں، جن کی ملکیت پر اس وقت تنازع ہے۔ ایک طرف برٹش میوزیم ان نوادرات کی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے تو دوسری جانب ایسی مہمات بھی شروع ہوئی ہیں جن میں یہ آثار واپس اصل ممالک کو دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اب واضح طور پر دو دھڑے موجود ہیں، ایک وہ جو عجائب گھروں کی متنازع چیزوں کو اصل ممالک کو واپس کرنے کے حامی ہیں اور دوسری جانب وہ حلقہ جو سمجھتا ہے کہ مغرب کے عجائب گھروں میں یہ تاریخی نوادر زیادہ محفوظ ہیں۔

لیکن یہ ساری چیزیں آخر برطانیہ پہنچیں کیسے؟ اس کے لیے ہمیں 17 ویں صدی میں جانا پڑے گا جب برطانیہ نے دنیا کے مختلف علاقوں پر اپنے پنجے گاڑنا شروع کر دیے تھے۔ پھر اس نے کئی بر اعظموں پر قبضے کیے اور بالآخر تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت بنا ڈالی کہ جو دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔

ٹیپو ٹائیگر، جو آج برٹش میوزیم کی "زینت” ہے

صدیوں تک ان نو آبادیاتی مقبوضات کا استحصال کیا گیا، جنوبی افریقہ سے لے کر ہندوستان اور آسٹریلیا سے لے کر نائیجیریا تک نہ صرف وہاں کے وسائل اور دولت کو لوٹا گیا بلکہ ثقافتی نوادرات اور آثار قدیمہ کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اس لوٹ مار سے حاصل کیے گئے بیشتر مال کا ٹھکانہ برٹش میوزیم بنا جسے 1753ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور پھر یہ پھیلتا ہی چلا گیا۔

بر صغیر پاک و ہند کے چوری شدہ نوادرات واپس لانے کی دشوار جنگ

آج اس عجائب گھر میں ایسے نوادرات بھی ہیں جو قانونی طریقے سے حاصل کیے گئے ہیں اور کئی ایسے ہیں جن کی ملکیت پر شبہات ہیں، یہاں تک کہ عجائب گھر میں داخل ہوتے ہی آپ کی نظر جس پہلی چیز پر پڑے گی، وہ بھی دراصل چوری ہی کی ہے۔ ‘روزیتا کی لوح'(Rosetta Stone) جسے برطانیہ نے مصر میں موجود فرانس کی قابض افواج سے چھینا تھا۔ اس کے علاوہ پارتھینن (Parthenon) کے کچھ حصے کہ جو دراصل ایک برطانوی لارڈ نے ایتھنز میں موجود قلعے سے نکالے تھے اور بعد میں برٹش میوزیم کو دیے یا پھر سب سے متنازع افریقہ کے بنین برونز (Benin Bronze)۔

برٹش میوزیم میں داخل ہوتے ہی پہلی نظر ‘روزیتا کی لوح’ پر پڑتی ہے، جسے مصر سے چُرایا گیا تھا

ہاتھی دانت پر کندہ کاری سے لے کر کانسی سے بنے مجسموں تک، یہ کئی اقسام کی نوادرات دراصل بنین کی سلطنت سے لوٹی گئی تھیں، جو آجکل نائیجیریا کا حصہ ہے۔ یہ فن پارے 16 ویں صدی میں اس سلطنت میں بنائے گئے تھے جن میں سے بیشتر آراستہ دیواروں کا حصہ تھے جنہیں مذہبی رسومات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن دراصل ان میں اس خطے کی پوری تاریخ موجود تھی۔

یہ ہزاروں فن پارے 1897ء میں چوری ہونا شروع ہوئے جب یورپ کی نو آبادیاتی طاقتیں افریقہ پر قبضہ کر چکی تھی۔ یہ اتنی منظم لوٹ مار تھی کہ انہوں نے اس بر اعظم کو باہم تقسیم کر لیا تھا تاکہ سب اس کا مالی استحصال کریں اور فائدہ اٹھائیں۔ جو علاقے برطانیہ کے حصے میں آئے، بنین بھی انہی میں سے ایک تھا لیکن یہاں کی ریاست نے برطانیہ کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔ 1897ء میں انہوں نے برطانیہ کے سات اہلکاروں اور ان کے رہنماؤں کو قتل کیا جس کا بہانہ بناتے ہوئے برطانیہ اپنی افواج لے کر بنین پر چڑھ دوڑا۔ بظاہر وہ بدلہ لینا چاہتے تھے لیکن اصل مقصد کچھ اور تھا۔

بنین برونز، جو نائیجیریا سے لوٹ کر نہ صرف برطانیہ لے جائے گئے بلکہ دنیا جہاں کے ممالک کو فروخت کیے گئے

افریقی تاریخ کے ماہرین کے مطابق برطانیہ کو علم تھا کہ بنین کے شاہی محلات میں اتنے نوادرات موجود ہیں کہ انہیں فروخت کر کے وہ اس پوری مہم کے اخراجات نکال سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سوچ سمجھ کر اس علاقے کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔ بنین پر حملہ کر کے اسے جلا کر راکھ کر دیا گیا، لیکن اس سے پہلے ہزاروں کی تعداد میں نوادرات نکال لی گئیں، ان کی درجہ بندی کی گئیں، انہیں نشان زد کیا گیا، ان کی تصویریں لی گئیں اور پھر برطانیہ بھیج دیا گیا۔ جہاں سے پھر انہیں دنیا کے مختلف ممالک میں بیچا بھی گیا اور بہت سے نوادرات برٹش میوزیم کے حصے میں آئے۔

نائیجیریا کو 1960ء میں جا کر آزادی ملی اور بنین کا شہر بھی اسی ملک میں آیا۔ یہاں سے لوٹی گئی نوادرات آج مغرب کے مختلف ممالک میں ہیں، مثلاً جرمنی کے لائپزگ میوزیم آف ایتھنولوجی، پیرس کے کوا برانلی میوزیم میں اور برٹش میوزیم میں بھی۔

مارچ 2000ء میں بنین کے شاہی خاندان نے “غیر قانونی طور پر لوٹی گئی تمام ثقافتی نوادرات” کی واپسی کا باضابطہ مطالبہ کیا، لیکن برٹش میوزیم ایسی کسی بھی درخواست کو خاطر میں نہیں لایا، کیونکہ برٹش میوزیم ایکٹ 1963ء کے تحت وہ نوادرات واپس کر ہی نہیں سکتا۔ برٹش میوزیم کی ڈھٹائی اپنی جگہ لیکن کچھ لوگوں کو شرم ضرور آئی۔ مثلاً 1897ء کی بنین مہم میں شامل ایک برطانوی فوجی کی اولاد نے 2014ء میں دو نوادرات بنین کے شاہی خاندان کو واپس کیں۔

نائیجیریا کی حکومت نے برطانیہ کےعلاوہ دیگر مغربی ممالک سے بھی اس حوالے سے بات چیت کی، لیکن کوئی ملک راضی نہیں ہوا، سوائے جرمنی کے۔ جرمنی نے سالہا سال کے دباؤ کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ سینکڑوں بیش قیمت نوادرات اور فن پارے نائیجیریا کو واپس کرے گا اوریہ عمل جلد ہی شروع ہونے کا امکان ہے۔

یہ داستان تو افریقہ کے محض ایک علاقے کی ہے، نہ صرف باقی بر اعظم بلکہ اس سے باہر، جہاں جہاں برطانیہ اور اس جیسی نو آبادیاتی طاقتوں کے قدم گئے، وہاں کے آثار اس عجائب گھر میں موجود ہیں۔ ہندو دیوتا شیو کے خوبصورت مجسمے سے لے کر ٹیپو سلطان کی تلوار تک، ہندوستانی تاریخ کے کئی آثار اس وقت لندن میں پڑے ہیں جن کی واپسی کا مطالبہ محض اس لیے ضروری نہیں کہ یہ نوادرات ہیں بلکہ یہ عمل ثقافتی اور تاریخی شناخت چھیننے کے مترادف ہے۔

مزید تحاریر

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے