26 C
Islamabad
ہفتہ, ستمبر 18, 2021

طالبان کے 5 اہم رہنما کون سے؟

تازہ ترین

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...
- Advertisement -

‏90ء کی دہائی کے دوران جب افغانستان میں خانہ جنگی اپنےعروج پر تھی، 1994ء میں ملّا محمد عمر نے ایک تحریک کا آغاز کیا جسے طالبان کا نام دیا گیا۔ درجن بھر پیروکاروں سے شروع ہونے والی یہ تحریک جلد ہی ملک کی انتہائی منظّم اور مؤثر تنظیم بن گئیں۔ یہاں تک کہ 1996ء میں تقریباً پورے ملک پر قبضہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی طالبان کے اراکین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور افغان مجاہدین کی بڑی تعداد ان کے ساتھ مل گئیں، یہاں تک کہ 2001ء میں امریکا کے ہاتھوں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

اب تقریباً دو دہائی بعد طالبان ایک مرتبہ پھر افغانستان میں حکومت بنانے والے ہیں۔ لیکن یہ لوگ ہیں کون؟ آئیے افغانستان کا مستقبل طے کرنے والے طالبان کے پانچ اہم ترین رہنماؤں کے بارے میں بتاتے ہیں۔

ہیبت اللہ اخوند زادہ

ہیبت اللہ اخوند زادہ امارتِ اسلامی افغانستان کے سربراہ ہیں، جنہیں امیر المؤمنین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ خطاب انہیں 2016ء میں طالبان کا تیسرا سربراہ بننے پر ملا۔

60 سالہ پشتون ملّا ہیبت اللہ طالبان کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور اپنے پیشرو ملّا محمد عمر اور ملّا اختر منصور کی طرح نورزئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا تعلق بھی صوبہ قندھار سے ہے۔

طالبان کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے ملّا ہیبت اللہ گروہ کے سیاسی، عسکری اور مذہبی امور کے سربراہ ہیں۔

انہوں نے ملّا عمر کے ساتھ سوویت یونین کے خلاف جہاد میں بھی حصہ لیا تھا۔ 90ء کی دہائی میں انہوں نے شرعی عدالتوں کے سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان کی حیثیت ایک عسکری رہنما سے زیادہ ایک مذہبی رہنما کی سی ہے۔

‏100 سے زیادہ روسی ساختہ ہیلی کاپٹر طالبان کے قبضے میں

عبد الغنی برادر

ملّا عبد الغنی برادر امریکا کے ساتھ مذاکرات میں طالبان کا سب سے نمایاں چہرہ تھے۔ وہ اُن چار افراد میں سے شامل تھے جنہوں نے 1994ء میں طالبان کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ ملّا عمر کے بعد سیکنڈ اِن کمانڈ تھے اور اب سیاسی شعبے کے سربراہ ہیں۔ وہ جنوری 2019ء سے قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ تھے لیکن اب افغانستان واپس آ چکے ہیں۔

پشتون درّانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملّا برادر 2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد مزاحمت میں پیش پیش رہے۔ کی تلاش میں امریکا نے پورا افغانستان چھان مارا لیکن فروری 2010ء تک وہ امریکی فوج کے ہاتھ نہیں لگے، یہاں تک کہ کراچی میں امریکی و پاکستانی دستوں کے مشترکہ آپریشن میں پکڑے گئے۔ آٹھ سال تک پاکستان میں قید رہنے کے بعد انہیں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے رہا کیا گیا۔ ملّا برادر نے 2020ء میں طالبان کی طرف سے دوحہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

‏”مزاحمت کا گڑھ” وادئ پنج شیر، کیا طالبان کو روک پائے گی؟

محمد یعقوب

محمد یعقوب ملّا محمد عمر کے صاحبزادے ہیں، جنہیں 2016ء میں طالبان کے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے ملّا ہیبت اللہ کا نام لیا اور کہا کہ وہ اس عہدے کے لیے کم عمر ہیں۔ اُن کی عمر 30 سال سے کچھ زیادہ بتائی جاتی ہے۔

یعقوب طالبان کے ملٹری آپریشنز کی قیادت کرتے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں میں طالبان نے ملک بھر میں جو کامیابیاں سمیٹی ہیں، اس میں انہوں نے ہدایت کی تھی کہ افغان فوج یا حکومت کے کسی رکن کو نقصان نہ پہنچایا جائے بلکہ بھاگ جانے والے سرکاری اور فوجی اہلکاروں کے خالی گھروں سے بھی دُور رہیں۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ معاہدے کا بھی پاس رکھا ہے کہ انخلا کے دوران کسی امریکی فوجی کو ہدف نہیں بنایا جائے گا۔ یعقوب طالبان قیادت کا نیا چہرہ ہیں اور انہیں گروہ میں ایک معتدل آواز سمجھا جاتا ہے۔

اشرف غنی کے بھائی نے طالبان کا اقتدار تسلیم کر لیا، جامع حکومت بنانے کا مطالبہ

سراج الدین حقانی

سراج الدین حقانی طالبان کے سب سے طاقتور اور خطرناک گروہ کے سربراہ ہیں۔ اس نیٹ ورک پر بین الاقوامی سطح پر پابندی لگ چکی ہے اور اسے افغانستان میں امریکی اور مقامی فوج پر بڑے حملوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ حقانی نیٹ ورک طالبان کے مالی اور عسکری معاملات سنبھالتا ہے اور بہت اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

سراج الدین حقانی کا تعلق پشتون قبیلے زردان سے ہے، جس کی جڑیں صوبہ خوست میں پیوست ہیں۔ وہ جلال الدین حقانی کے صاحبزادے ہیں جو 2018ء میں اپنی وفات تک حقانی نیٹ ورک کے سربراہ تھے۔

امریکا نے سراج الدین حقانی کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالرز رکھی ہوئی ہے۔ ان کی عمر تقریباً 45 سال ہے اور اِس وقت وہ کہاں ہیں، اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔

افغان طالبان وفد کا دورۂ ترکمنستان، تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کی حمایت

عبد الحکیم اسحاق زئی

ایک سخت گیر مذہبی شخصیت مولوی اسحاق زئی ملّا ہیبت اللہ کے قریب ترین فرد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ طالبان کے عدالتی ڈھانچے کی نگرانی کرتے ہیں اور فتوے جاری کرنے والی طاقتور شوریٰ کے سربراہ ہیں۔ مذہب اور شریعت کے معاملات میں سخت گیر رویّہ رکھنے والے اسحاق زئی نے طالبان کے حق میں کئی فتوے جاری کیے۔

وہ صوبہ قندھار میں پیدا ہوئے تھے اور عالم اور مدرّس کی حیثیت سے وہیں سے اپنے شدت پسند نظریات کی ترویج کی۔ انہوں نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے تعلیم حاصل کی تھی۔

عبد الحکیم ستمبر 2020ء میں منظر عام پر آئے جب انہیں دوحہ میں مذاکرات کرنے والے طالبان گروہ کی سربراہی سونپی گئی تھی۔

مزید تحاریر

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے