21.6 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

پیک شدہ کھانوں میں اضافی شکر، لاکھوں اموات کا سبب

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

کھانے پینے کی پیک شدہ اشیا سے 20 فیصد اور مشروبات سے 40 فیصد شکر گھٹانے سے لاکھوں اموات روکی جا سکتی ہیں اور ساتھ ہی دل کے امراض اور ذیابیطس سے کروڑوں افراد کو بچایا جا سکتا ہے۔

امریکا کے میساچوسٹس جنرل ہسپتال، ٹفٹس یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم کی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ پیک شدہ اشیائے خورد و نوش میں شکر کی مقدار گھٹانے سے صرف امریکا میں دل کے دورے اور فالج کے 24.8 لاکھ واقعات روکے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دل کے مرض کی وجہ سے تقریباً 5 لاکھ اموات اور ساڑھے 7 لاکھ ذیابیطس کے مریض کم کیے جا سکتے ہیں۔

شلواروں سے بریانی تک، پاکستان میں ذیابیطس ایک بڑھتا ہوا مسئلہ

جریدے ‘سرکولیشن’ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق صنعتی سطح پر تیار ہونے والی اشیائے خورد و نوش میں شکر کی مقدار گھٹانے کے عام لوگوں کی صحت پر کافی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور تحقیق کے اہم مصنف سی شینگوان کے مطابق یہ شوگر ٹیکس لگانے، لیبل پر شکر کی مقدار ظاہر کرنے یا اسکولوں سے شکر سے بھرپور مشروبات پر پابندی لگانے جیسے اقدامات سے کہیں زیادہ اثر انگیز ہوں گے۔

شکر سے لبریز اشیائے خورد و نوش کے استعمال کا موٹاپےا ور ذیابیطس سے بھی گہرا تعلق ہے، خاص طور پر ٹائپ-2 ذیابیطس اور دل کے امراض سے، جو امریکا میں اموات کا سب سے بڑا سبب ہے۔

امریکا میں ہر پانچ میں سے دو افراد موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ ہر دو میں سے ایک کو ذیابیطس ہے یا وہ اس مرض کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ہر دو میں سے ایک شخص دل کے کسی نہ کسی مرض سے دوچار ہے۔ کم آمدنی رکھنے والے افراد پر ان امراض کا بوجھ کہیں زیادہ پڑتا ہے۔

گھر سے کام کرنے کی وجہ سے دل کے دوروں میں ایک تہائی کمی؟

ٹفٹس یونیورسٹی کے فرائیڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پالیسی کے ڈین اور اس تحقیق میں شریک محقق داریوش مظفرین کہتے ہیں کہ شکر اشیائے خورد و نوش میں استعمال کی والی سب سے عام چیز ہے۔ ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ایک قومی پروگرام شروع کیا جائے جس میں اداروں سے رضاکارانہ طور پر شکر کی مقدار گھٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے صحت اور صحت عامہ کے سلسلے میں صرف ایک دہائی میں بہت مثبت اثرات نظر آئیں گے۔

تحقیقی ٹیم نے ایک ماڈل بھی تخلیق کیا ہے جو امریکی نیشنل سالٹ اینڈ شوگر ریڈکشن انیشی ایٹو کی جانب سے تجویز کردہ شکر میں کمی کی پالیسی کے اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے مطابق اس پالیسی کے عملی نفاذ کے بعد دس سال کے عرصے میں ہی صحت عامہ پر آنے والی لاگت میں کُل 4.28 ارب ڈالرز کی کمی ہوگی اور ماڈل کے مطابق 35 سے 79 سال کی موجودہ بالغ آبادی کو زندگی بھر میں 118 ارب ڈالرز کی بچت ہوگی۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے