26 C
Islamabad
ہفتہ, ستمبر 18, 2021

پیک شدہ کھانوں میں اضافی شکر، لاکھوں اموات کا سبب

تازہ ترین

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...
- Advertisement -

کھانے پینے کی پیک شدہ اشیا سے 20 فیصد اور مشروبات سے 40 فیصد شکر گھٹانے سے لاکھوں اموات روکی جا سکتی ہیں اور ساتھ ہی دل کے امراض اور ذیابیطس سے کروڑوں افراد کو بچایا جا سکتا ہے۔

امریکا کے میساچوسٹس جنرل ہسپتال، ٹفٹس یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم کی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ پیک شدہ اشیائے خورد و نوش میں شکر کی مقدار گھٹانے سے صرف امریکا میں دل کے دورے اور فالج کے 24.8 لاکھ واقعات روکے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دل کے مرض کی وجہ سے تقریباً 5 لاکھ اموات اور ساڑھے 7 لاکھ ذیابیطس کے مریض کم کیے جا سکتے ہیں۔

شلواروں سے بریانی تک، پاکستان میں ذیابیطس ایک بڑھتا ہوا مسئلہ

جریدے ‘سرکولیشن’ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق صنعتی سطح پر تیار ہونے والی اشیائے خورد و نوش میں شکر کی مقدار گھٹانے کے عام لوگوں کی صحت پر کافی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور تحقیق کے اہم مصنف سی شینگوان کے مطابق یہ شوگر ٹیکس لگانے، لیبل پر شکر کی مقدار ظاہر کرنے یا اسکولوں سے شکر سے بھرپور مشروبات پر پابندی لگانے جیسے اقدامات سے کہیں زیادہ اثر انگیز ہوں گے۔

شکر سے لبریز اشیائے خورد و نوش کے استعمال کا موٹاپےا ور ذیابیطس سے بھی گہرا تعلق ہے، خاص طور پر ٹائپ-2 ذیابیطس اور دل کے امراض سے، جو امریکا میں اموات کا سب سے بڑا سبب ہے۔

امریکا میں ہر پانچ میں سے دو افراد موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ ہر دو میں سے ایک کو ذیابیطس ہے یا وہ اس مرض کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ہر دو میں سے ایک شخص دل کے کسی نہ کسی مرض سے دوچار ہے۔ کم آمدنی رکھنے والے افراد پر ان امراض کا بوجھ کہیں زیادہ پڑتا ہے۔

گھر سے کام کرنے کی وجہ سے دل کے دوروں میں ایک تہائی کمی؟

ٹفٹس یونیورسٹی کے فرائیڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پالیسی کے ڈین اور اس تحقیق میں شریک محقق داریوش مظفرین کہتے ہیں کہ شکر اشیائے خورد و نوش میں استعمال کی والی سب سے عام چیز ہے۔ ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ایک قومی پروگرام شروع کیا جائے جس میں اداروں سے رضاکارانہ طور پر شکر کی مقدار گھٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے صحت اور صحت عامہ کے سلسلے میں صرف ایک دہائی میں بہت مثبت اثرات نظر آئیں گے۔

تحقیقی ٹیم نے ایک ماڈل بھی تخلیق کیا ہے جو امریکی نیشنل سالٹ اینڈ شوگر ریڈکشن انیشی ایٹو کی جانب سے تجویز کردہ شکر میں کمی کی پالیسی کے اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے مطابق اس پالیسی کے عملی نفاذ کے بعد دس سال کے عرصے میں ہی صحت عامہ پر آنے والی لاگت میں کُل 4.28 ارب ڈالرز کی کمی ہوگی اور ماڈل کے مطابق 35 سے 79 سال کی موجودہ بالغ آبادی کو زندگی بھر میں 118 ارب ڈالرز کی بچت ہوگی۔

مزید تحاریر

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے