26 C
Islamabad
ہفتہ, ستمبر 18, 2021

‏’ارطغرل کا نشہ’ بھارت میں بھی سر چڑھ کر بولنے لگا

تازہ ترین

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...
- Advertisement -

گزشتہ سال کے اوائل میں جب سے عالمی وبا کا آغاز ہوا ہے، 32 سالہ بے نظیر فاطمہ گویا تب سے 13 ویں صدی میں جی رہی ہیں کیونکہ وہ پانچ سیزنز پر پھیلا درجنوں اقساط پر مشتمل ڈرامہ ‘ارطغرل غازی’ دیکھ رہی ہیں اور ان کے تخیل کی پرواز انہیں صدیوں پہلے لے گئی ہیں۔ بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں رہنے والی بے نظیر کا ڈیڑھ سالہ بیٹا اب اکثر و بیشتر ‘الپ’ کے لباس میں نظر آتا ہے۔

پھر دہلی کے رضوان ملک ہیں، جنہوں نے اگست 2020ء میں شاہدرہ کے علاقے میں ‘ارطغرل فیملی ریستوران’ کھولا۔ یہاں شمالی ہندوستان کے مقبول کھانے پیش کیے جاتے ہیں لیکن ان کے نام ارطغرل کے مختلف کرداروں کی بنیاد پر ہیں۔ مثلاً ‘ارطغرل ملائی چکن’، جو رضوان کے مطابق ان کے ریستوران کا سب سے مشہور پکوان ہے۔

ارطغرل سلطنتِ عثمانیہ کے بانی عثمان اوّل کے والد تھے جو 13 ویں صدی میں اناطولیہ کے علاقے میں آئے تھے جو اب ترکی کا حصہ ہے۔ ان کی اولاد کی بنائی گئی سلطنتِ عثمانیہ نے بعد ازاں 600 سال تک مغربی ایشیا، مشرقی یورپ اور شمالی افریقہ کے وسیع علاقے پر راج کیا۔

اس سیریز کا آغاز 2014ء میں نیٹ فلکس پر ہوا تھا اور اس کی آخری قسط مئی 2019ء میں نشر ہوئی۔ اس دوران اسے یوٹیوب پر بھی پیش کیا گیا، جس کے مطابق 2014ء سے 2020ء کے دوران یہ سیریز دیکھنے والوں میں بھارت 12.5 کروڑ ناظرین کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ پاکستان 39 کروڑ کے ساتھ پہلے اور ترکی 11.9 کروڑ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

ارطغرل نے پاکستان میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا

گزشتہ سال پاکستان میں یہ سیریز اردو ڈبنگ کے ساتھ سرکاری ٹیلی وژن چینل پر نشر کی گئی تو گویا اس کی مقبولیت دو چند ہو گئی۔ بھارت میں بھی ارطغرل کی مقبولیت کا عرصہ یہی ہے اور اکثریت یہ سیریز تاریخ، ثقافت اور دوسرے معاشروں کے حوالے سے فطری تجسس کی وجہ سے دیکھ رہی ہے۔

اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) میں اسلامی دنیا کی سب سے بڑی تین ریاستوں مغلیہ سلطنت، صفوی سلطنت اور عثمانی سلطنت میں ایک قدر مشترک تھی کہ یہ ترک النسل تھیں۔

ان میں سے ‏1526 سے 1739ء تک قائم رہنے والی مغلیہ سلطنت آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی تھی جبکہ سلطنت عثمانیہ ‏1300 سے 1923ء تک قائم رہی، یوں سب سے زیادہ عرصے تک قائم رہنے والی سلطنت تھی۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قرون وسطیٰ کی ہندوستانی تاریخ کے ماہر علی ندیم رضوی کہتے ہیں کہ مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر وسط ایشیا کی وادئ فرغانہ سے تعلق رکھنے والے ایک چغتائی ترک تھے ۔ ان سے پہلے دہلی سلطنت کے پانچ خاندانوں میں سے کم از کم تین ترک تھے، جنہوں نے 13 سے 16 ویں صدی تک یعنی 300 سال حکمرانی کی۔ 300 سال قومی نفسیات، لسانیت اور روایات ہر لحاظ سے بہت طویل عرصہ ہے اور اس میں بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ پھر مغلیہ سلطنت بھی 3 صدیوں تک برقرار رہی، اس لیے بھارت، خاص طور پر شمالی بھارت میں ارطغرل کے حوالے سے عوامی تجسس سمجھ آتا ہے۔

‘ارطغرل’ سیریز بنگلہ دیشی عوام کے دل میں بھی گھر کر گئی

بھارت میں ترک سیریز کی مقبولیت کی پہلی جھلک کشمیر میں نظر آئی، جب اگست 2019ء میں بھارت نے اپنے آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے بیک جنبش قلم کشمیر کو اس کی ریاستی حیثیت سے محروم کر کے اس کے دو ٹکڑے کر دیے۔ اس ظالمانہ قدم کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی رد عمل کا خوف تھا اس لیے وادی میں کئی مہینوں کے لیے کرفیو اور لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔ لیکن اس سے پہلے ارطغرل سیریز کشمیر میں اپنے قدم جما چکی تھی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باوجود کشمیری نوجوانوں نے یو ایس بی فلیش ڈرائیوز کے ذریعے اسے پورے کشمیر میں پھیلا دیا۔

دہلی میں تعلیم حاصل کرنے والی 24 سالہ کشمیری سارہ سمجھتی ہیں کہ انہیں ارطغرل کی لت لگ گئی ہے۔ "میرے خیال میں انتہائی با مقصد اور معنی خیز ڈراما ہے اور مرکزی کردار نبھانے والے اینجن آلتن بہت اچھے انسان ہیں۔ میں انہیں انسٹاگرام پر فالو بھی کرتی ہوں۔

کانپور میں رہنے والی 60سالہ ریٹائرڈ خاتون ارمیلا بھدوریا نے پہلی بار ‘ارطغرل’ رواں سال ہی دیکھا اور اب کہتی ہیں کہ تاریخی ڈراما کس طرح بنانا چاہیے؟ ارطغرل غازی اس کی بہترین مثال ہے۔ "بلاشبہ مجھے مغلِ اعظم پسند ہے لیکن ہماری فلموں میں ہم نے صرف یہ دکھایا کہ شہزادہ سلیم نے محبت کس طرح کی، میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے حکمرانی کس طرح کی؟”

ارمیلا نے مزید کہا کہ اس ڈرامے میں بارہا بتایا گیا ہے کہ کن مواقع پر تلوار اٹھانی ہے اور کب نہیں۔ ارطغرل کو ظالم مسلمانوں کے خلاف سخت رویہ رکھنے والا اور نیک دل غیر مسلموں کو بھی عہدے دیتے دکھایا گیا ہے۔

ڈراما ارطغرل بھارت میں مقبول کیوں؟

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سینما اسٹڈیز کی پی ایچ ڈی اسکالر سویتا کشواہا کہتی ہیں کہ انہیں بھی اسی وجہ سے ارطغرل غازی پسند ہے بلکہ یہ ڈراما انسانی تعلقات اور درباری سازشوں کی زبردست تحقیق ہے۔

ڈاکٹر ایم وی شوبھانا واریئر کمالا نہرو کالج، دہلی میں جدید ہندوستانی تاریخ اور قدیم عالمی تاریخ پڑھاتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ انہیں تجسس تھا کہ آخر ارطغرل میں سیاسی اسلام اور جہاد کے تصور کو کس طرح پیش کیا گیا ہے۔ "ہم نے تو اب تک ہالی ووڈ کی وجہ سے صلیبی جنگیں اور رومی سلطنت ہی دیکھی تھی، تو میں دیکھنا چاہتی تھی کہ اسی بارے میں دوسری جانب سے کیا پیش کیا جاتاہے۔ ارطغرل "ماضی” کی ایک منفرد تصویر کشی ہے، یہ مغربی ایشیا کا ماضی ہے جو ایسا خطہ ہے تاریخ میں بار بار مسائل کا شکار رہا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں ہم نے صلیبی جنگوں کے بارے میں پڑھا اور ‘ارطغرل غازی’ کے ذریعے تاریخی فکشن دیکھ رہے ہیں کہ اسلام نے صلیبیوں کا مقابلہ کس طرح کیا۔

شوبھانا کے لیے یہ بات بھی دلچسپ تھی کہ ڈرامے میں ریاست اور عوام کے مابین تعلق کی نمائندگی علمی کے بجائے مقبولِ عام انداز میں کی گئی ہے۔ ارطغرل کا دوسرے قبائل کے ساتھ رویہ، نائٹس ٹیمپلر جیسے مخالف مسیحیوں کے ساتھ تعلق؛ بے اصول اور بد دیانت افراد کے ساتھ بات اور پھر ریاست کے قیام کے لیے ترک قبائل کس طرح اپنے مرد اور عورت بلکہ بچے بھی ان کے حوالے کرتے ہیں، یہ سب بہت اچھے طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔

"برطانوی ملکہ ایلزبتھ دوئم کی زندگی کا احاطہ کرتی نیٹ فلکس کی سیریز ‘کراؤن’ کے مقابلے میں ‘ارطغرل غازی’ کی توجہ کسی ایک شخصیت پر نہیں اور نہ ہی اسے بہت ہی ذاتی نوعیت کا ڈراما بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ مجھے ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ ارطغرل ایسا کردار ہے جو اپنے قبیلے، اپنی بیوی، اپنے بچے اور دیگر سے آگے دیکھتا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اگلے سیمسٹر میں اپنے طالب علموں کو ‘ارطغرل غازی’ دیکھنے کا مشورہ دوں گی۔”

بھارتی ناظرین کی بڑی تعداد ‘ارطغرل غازی’ میں خواتین کو کرداروں کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے ہیں۔

بہت سے بھارتی سیریز میں خواتین کو پیش کرنے کے انداز سے بھی خوش ہوئے ہیں۔ سویتا کشواہا کے مطابق ڈرامے میں چند خواتین مثلاً حائمہ خاتون اور عالیشان خاتون قبیلے کی سربراہ ہیں یا اس میں دوسرے نمبر پر ہیں، انہیں اس حیثیت میں مردوں کی جانب سے قبول کیا جاتا ہے اور وہ مردوں اور قبیلے کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ بھارتی ناظرین کو ڈرامے کی جذباتی نوعیت بھی بہت پسند آئی ہے، خاص طور پر اس میں رومانوی مناظر کو جس طرح فلمایا گیا ہے۔

آپ کو ارطغرل پسند ہے تو یہ ترک ڈرامے بھی ضرور دیکھیں

بھارتیوں کو ڈرامے کی جذباتیت بھی پسند آئی ہے اور اس میں جس طرح رومانوی مناظر کی منظر کشی کی گئی ہے۔ ارمیلا بھدوریا کے مطابق ارطغرل اور حلیمہ کی محبت کو بہت شائستہ انداز میں دکھایا گیا ہے اور پورے ڈرامے میں کوئی گھٹیا منظر نہیں۔

ندیم رضوی کے مطابق ‘گیمز آف تھرونز’ جیسے مغربی ڈراموں کے مقابلے میں ‘ارطغرل غازی’ میں کوئی جادو نہیں۔ ارطغرل کو سپر ہیرو نہیں دکھایا گیا، بلکہ وہ ایسا ہیرو ہے جو زخمی بھی ہوتا ہے، اسے ناکامیوں کا منہ بھی دیکھنا پڑتا ہے، لیکن وہ ہر مشکل کے سامنے ڈٹ جاتا ہے اور ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ وہ ارطغرل ہے جو میدانِ عمل میں ہے۔ اس دنیا میں محض مناجات سے کام نہیں چلتا۔ صرف دعاؤں سے پہاڑ نہیں ہلتے۔

مزید تحاریر

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے