20.7 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

مصنوعی کھاد استعمال نہ کرنے کا جنون، سری لنکا کی چائے کی صنعت خطرے سے دوچار 

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

سری لنکا میں مصنوعی کھاد سے پاک فصلیں پیدا کرنے کے جنون نے ایک بڑا غذائی اور معاشی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ وہ دنیا کا پہلا 100 فیصد نامیاتی خوراک (آرگینگ فوڈ) پیدا کرنے والا ملک بننے کی کوشش کر رہا ہے لیکن لگتا ہے اس ہدف کا پہلا نشانہ اس کی دنیا بھر میں معروف چائے کی صنعت بنے گی۔

ملک کے صدر گوتابیا راجپکشا نے رواں سال کیمیائی کھاد کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی لیکن اب چائے کے باغات کے مالکان کا کہنا ہے کہ اکتوبر تک چائے کی فصل تباہ ہو جانے کا اندیشہ ہے جبکہ دارچینی، مرچ اور اناج مثلاً چاول کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔

معروف چائے ساز اور نامیاتی انقلاب میں رہنمائی کے لیے راجپکشا کے منتخب کردہ 46 ماہرین میں سے ایک ہرمن گونارتنے نے حالات میں مزید خرابی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ کہتے ہیں "اس پابندی نے تو چائے کی صنعت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ملک کے لیے اس کے نتائج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

‏76 سالہ گونارتنے جو دنیا کی مہنگی ترین چائے پیدا کرتے ہیں، خطرہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر حکومت نے کوئی بروقت فیصلہ نہ لیا تو سری لنکا کی اوسط سالانہ پیداوار 30 کروڑ کلو گرام سے گھٹ کر آدھی رہ جائے گی۔ گونارتنے کی ‘ورجن وائٹ ٹی’ 2,000 ڈالرز فی کلو فروخت ہوتی ہے۔

پاکستان اور بھارت کی “باسمتی جنگ”‏

سری لنکا ویسے ہی وبا کی وجہ سے معاشی بحران سے دوچار ہے اور اس کی کُل مقامی پیداوار (جی ڈی پی) گزشتہ سال تین فیصد کم ہو گئی تھی۔ لیکن حالات کو معمول پر لانے کی امیدوں کو کرونا وائرس کی ایک نئی لہر سے بھی دھچکا پہنچا ہے۔

کھاد اور کیڑے مار ادویات گاڑیوں اور فاضل پرزہ جات کی طرح سری لنکا کی اہم درآمدات میں شامل ہیں، جو حکومت نے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی قلت کی وجہ سے روک دی ہیں۔

چائے سری لنکا کی واحد سب سے بڑی برآمد ہے، جس سے ملک سالانہ 1.25 ارب ڈالرز حاصل کرتا ہے، یعنی ملک کی برآمدات سے ہونے والی کُل آمدنی کا تقریباً 10 فیصد۔

راجپکشا 2019ء میں برسرِ اقتدار آئے تھے، ان وعدوں کے ساتھ کہ وہ کاشت کاروں کو کم قیمت پر غیر ملکی کھاد دیں گے، لیکن حکومت سنبھالنے کے بعد انہوں نے ‘یو ٹرن’ لے لیا اور کہا کہ زرعی کھاد تو دراصل زہر ہے جو لوگوں کو کھلایا جا رہا ہے۔

گونارتنے کو پچھلے مہینے صدر سے اختلاف کرنے پر اس ٹاسک فورس سے نکال دیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک کی سیلون ٹی دنیا کی کسی بھی چائے کے مقابلے میں سب سے کم کیمیائی مواد رکھتی ہے اور اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

سال 2021ء کی پہلی ششماہی میں چائے کی پیداوار اچھے موسم اور پرانے کھاد کے ذخیرے کی وجہ سے 16 کروڑ کلو کی ریکارڈ سطح پر پہنچی، لیکن جولائی سے اس کی پیداوار گھٹنا شروع ہوگئی ہے۔کولمبو کے جنوب میں واقع رتناپور میں نامیاتی اور کلاسیکی چائے کے باغات رکھنے والے  سنتھ گرونادا کا کہنا ہےکہ اگر یہ پابندی یونہی ہی جاری رہی تو اکتوبر سے پیداوار کا خاتمہ شروع ہو جائے گی اور نومبر یا دسمبر سے برآمدات بُری طرح متاثر ہوں گی۔

دالوں کو اپنی خوراک کا لازمی حصہ بنائیں، پانچ وجوہات

انہوں نے بتایا کہ  سیاحوں کے لیے اپنے باغ کے ایک حصے میں نامیاتی حصہ بنایا تھا، جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ اسے پائیدار اور صنعتی بنیادوں پر نہیں آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ "نامیاتی چائے کی پیداوار پر 10 گُنا زیادہ خرچ ہوتا ہے اور اس کی مارکیٹ بہت محدود ہے۔”

مرکزی بینک کے سابق نائب گورنر اور معاشی ماہر ڈبلیو اے وجے وردنا کہتے ہیں کہ نامیاتی منصوبہ سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر بہت بھاری پڑے گا۔ دراصل یہ قدم اٹھا کر سری لنکا کے غذائی تحفظ کا سودا کیا گیا ہے اور زرِ مبادلہ کے بغیر اب دن بدن حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔

چاول پیدا کرنے والوں کے اپنے مسائل ہیں جبکہ سبزیوں کے کاشت کار تو فصلوں کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہی مظاہرے کر رہے ہیں۔ گونارتنے کہتے ہیں کہ "اگر ہم مکمل طور پر نامیاتی خوراک کا رخ کرتے ہیں تو پیداوار میں 50 فیصد کی کمی آئے گی، لیکن قیمت میں 50 فیصد اضافہ نہیں ہونے والا یعنی یہ فی الحال نقصان کا سودا ہے۔

چائے کے باغات کے مالکان کہتے ہیں کہ آمدنی میں کمی کے ساتھ ساتھ پیداوار گھٹنے سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری بھی پھیلے گی۔ ٹی فیکٹری آنرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس صورتحال میں 30 لاکھ افراد کا روزگار خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔

اس صورت حال کے باوجود راجپکشا اب بھی مطمئن ہیں اور اقوام متحدہ کے ایک حالیہ اجلاس میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ منصوبہ سری لنکا کے باسیوں کے لیے بہتر غذائی تحفظ اور غذائیت کا باعث بنے گا۔  انہوں نے دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سری لنکا کے اقدامات کی پیروی کریں۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے