19.9 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

یکساں قومی نصاب کی کتاب میں سنگین غلطیاں، پانچ اداروں کی اہلیت پر بڑے سوالات اٹھ گئے

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

حالیہ چند سالوں میں پاکستان نے جو اہم ترین فیصلے کیے ہیں، ان میں بلاشبہ یکساں قومی نصاب کا فیصلہ سب سے نمایاں اور اہمیت کا حامل ہے۔ ہر شعبہ زندگی نے اس فیصلے کو سراہا کیونکہ آئندہ نسلوں کے ساتھ طبقاتی نظامِ تعلیم سے بڑا دھوکا کوئی نہیں اور اس سے بچنے کے لیے یکساں قومی نصاب پہلی کڑی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے لیے صلاحیت بھی اتنی زیادہ درکار ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہیں سے معاملہ خرابی کا شکار ہوگا۔

حال ہی میں معاشرتی علوم (سوشل اسٹڈیز) کی کلاس پنجم کی ایک کتاب منظرِ عام پر آئی ہے جو نیشنل بُک فاؤنڈیشن اور فیڈرل ٹیکسٹ بورڈ، اسلام آباد نے شائع کی ہے۔ اس نصابی کتاب کے ساتھ شخصیات اور اداروں کے ناموں کی جو طویل فہرست منسلک ہے، اسے دیکھتے ہوئے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں کوئی معمولی بھی غلطی ہوگی۔ لیکن تمام تر توقعات کے برعکس اس کتاب میں بنیادی جغرافیے کی وہ بھیانک غلطیاں ہیں، جن کی توقع ان میں سے کسی ادارے یا شخصیت سے نہیں کی جا سکتی۔

 

کتاب کے آغاز ہی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی نصاب کا جائزہ لینے والی نیشنل ریویو کمیٹی نے اس کتاب کی تائید کی ہے جبکہ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ نقشوں کی تصدیم سروے آف پاکستان، راولپنڈی نے کی ہے۔ جبکہ حال یہ ہے کہ صفحہ 57 سے شروع ہونے والا جغرافیہ کا حصہ غلطیوں سے بھرا پڑا ہے۔

پانچویں جماعت کی معاشرتی علوم کے صفحہ 75 پر پاکستان کا نقشہ اور اس پر دریاؤں کو نمایاں کر کے دکھایا گیا ہے۔ اس نقشے کے گرد جو حاشیہ لگا ہوا ہے، اس پر "بارڈرز” لکھا ہے۔ چلیں، اسے یکساں قومی نصاب چھاپنے والوں کے لیے ہدایات سمجھ لیں کیونکہ بارڈر کا ایک مطلب حاشیہ بھی ہوتا ہے لیکن اگلے صفحے پر سرحدوں کی جو تعریف کی گئی ہے، اسے دیکھ کر سر پیٹنے کو دل چاہتا ہے۔ یہاں لکھا ہے کہ کسی نقشے میں سرحدیں وہ چار لکیریں ہوتی ہیں جو اس کے گرد موجود ہوتی ہیں، بالکل ایک فوٹو فریم کی طرح۔ انہیں ‘مارجنز’ بھی کہا جاتا ہے۔ بالکل یہی غلطی چوتھی جماعت کی معاشرتی علوم میں بھی موجود ہے اور یہی نقشہ وہاں بھی شائع کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ جغرافیہ کی بنیادی معلومات بتاتے ہوئے صفحہ 63 پر قطب شمالی اور قطب جنوبی سمیت دیگر اہم عرض ہائے بلد کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہاں جو شکل (ڈایاگرام) پیش کی گئی ہے وہ بھی ایک "شاہکار” ہے۔ اس میں خطِ استوا کو Equator کے بجائے Tropic of Equator لکھا گیا ہے۔ پھر دائرہ قطب شمالی (Arctic Circle) اور دائرہ قطب جنوبی (Antarctic Circle) کو ہی قطب شمالی و جنوبی قرار دیا گیا ہے۔ اس نقشے کے مطابق تو قطب شمالی خطِ استوا کے 66.5 درجہ شمال اور قطب جنوبی اس سے 66.5 درجے جنوب سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔

ایک جگہ عالمی منطقہ ہائے وقت (ٹائم زونز) کا نقشہ دکھایا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان اور برطانیہ میں 5 گھنٹے کا فرق ہے، جو بالکل درست ہے۔ لیکن نیچے مثال میں لکھا ہے برطانیہ میں 7 بجے ہوں تو پاکستان میں 11 بجیں گے یعنی مثال میں 4 گھنٹے کا فرق ظاہر کیا جا رہا ہے جو سراسر غلط ہے۔

المیہ یہ ہے کہ سروے آف پاکستان جیسے ادارے نے ایسے نقشوں اور ان کے ساتھ دی گئی غلط ترین معلومات کی تصدیق کی ہے۔ پھر نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسا معتبر ادارہ ہے جس نے اسے شائع کیا ہے۔

کتاب میں جغرافیہ سے ہٹ کر بھی بہت سی غلطیاں ہیں، مثلاً صفحہ 38 پر یونانی لباس کے بارے میں وہی کچھ بتایا گیا ہے جو رومی سلطنت کے بیان میں موجود ہے، محض تصویر بدل کر کام چلایا گیا ہے۔

یہ کتاب نظر ثانی کے لیے پانچ اداروں میں گئی ہے، تو کیا اسے کہیں درست نہیں کیا گیا؟ اب تو مدارس اور نجی شعبہ بھی اس کام میں شامل ہے، کیا انہوں غلطیو ں کے یہ انبار نہیں دیکھے؟

ذرائع نے ‘قلم کیمرہ’ کو بتایا ہے کہ اس کتاب کے مواد کی پائلٹ ٹیسٹنگ میں ایک، ایک غلطی کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن کسی سفارش کو خاطر میں نہیں لایا گیا اور کتاب جوں کی توں شائع ہوئی ہے۔ مارچ سے جون کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ان غلطیوں سے آگاہ کیا گیا تھا لیکن کوئی غلطی ٹھیک نہیں کی گئی اور کتاب اغلاط سے بھرپور حالت ہی میں پیش کر دی گئی ہے۔

ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں جسے یکساں نظامِ تعلیم کی سخت ضرورت ہے، ایسی فاش غلطیاں دراصل اس نئے نظام ہی کی جڑیں کھودیں گی کیونکہ اس کی سب سے پہلی اور کاری ضرب یکساں قومی نصاب پر ہی پڑے گی اور عوام کا اس پر سے اعتماد کھو جائے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ بڑے شہروں میں اساتذہ اور طلبہ کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے اور وہ با آسانی آگاہی حاصل بھی کر سکتے ہیں لیکن جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ان غلطیوں کی تصحیح کون کرے گا؟

 

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

ایک تبصرہ

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے